حکومتِ ہند سے کشیدگی کم کروانے اور امن مذاکرات میں فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی اپیل
جماعت اسلامی ہند کے امیر جناب سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر امریکہ کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور جاری سفارتی عمل کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی راہ پر گامزن ہوگا لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
میڈیا کے لیے جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے فوراً بعد ایران پر امریکی حملے نہ صرف اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ ان حملوں نے امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تھے، امریکہ کی یکطرفہ فوجی کارروائی نے بین الاقوامی قانون اور عالمی ضابطوں کے احترام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے نہ صرف پائیدار حل کے امکانات کمزور ہوتے ہیں بلکہ فریقین کے درمیان بد اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس سے پورا خطہ ایک بار پھر طویل عدم استحکام اور تصادم کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ ایران پر فوجی دباؤ اور معاشی پابندیوں کی پالیسی ماضی میں بھی کسی دیر پا سیاسی حل تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے، بلکہ الٹا اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی اور جنگ کے خطرات مزید بڑھے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی بالا دستی کو یقینی بنائے، طاقت کے یکطرفہ استعمال کی مخالفت کرے، جنگ بندی کے معاہدوں اور سفارتی وعدوں کا احترام کرائے اور تمام متعلقہ فریقوں کے جائز تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے با معنی مذاکرات کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں پائیدار امن فوجی کارروائیوں سے نہیں بلکہ مکالمے، اعتماد سازی، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے خبر دار کیا کہ نئی فوجی کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، مہنگائی، بحری حمل و نقل کے اخراجات اور بین الاقوامی تجارت پر فوری منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں، روزمرہ ضروریات، صنعتی پیداوار اور اقتصادی ترقی بھی اس سے متاثر ہوگی۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان، شہری آبادی کی نقل مکانی اور پورے خطے میں مزید بد امنی کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔
امیر جماعت نے حکومتِ ہند سے اپیل کی کہ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے امن مذاکرات کی بحالی، تمام فریقوں کو تحمل کی تلقین، کشیدگی میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے زیادہ فعال اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرے۔
ایران پر امریکی حملے سفارتی عمل اور امن کے لیے سنگین دھچکا

امیر جماعت جناب سید سعادت اللہ حسینی کا مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار

