راجستھان میں طبیلے میں چل رہا اسکول، سی جے پی نے چھیڑی ’’اسکول ٹھیک کرو مہم‘‘
کھرگے کے بعد بی جے پی کی دلت رکنِ اسمبلی بھی ذات پات کا شکار؛ کاکوری کے شیتلا دیوی مندر کی تقریب میں بے عزتی
اتر اکھنڈ میں ایس آئی آر کے عمل پر سیاسی کھیل کا الزام؛ مسلمانوں کو ووٹر فہرستوں سے خارج کرنے کی مبینہ سازش بے نقاب
شمالی ہند کا سیاسی منظرنامہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ 2014 سے پہلے یو پی اے-2 دورِ حکومت کے آخری سال میں جو ماحول تھا، وہی ماحول دوبارہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ جین-زی کے معاملے میں سپریم کورٹ نے جہاں اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی بنا دی ہے، جو جنتر منتر پر احتجاجی دھرنے کو کچلنے کے لیے کیے گئے مظالم کی جانچ کرے گی، وہیں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی مداخلت کے بعد احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے۔
رانچی میں حکومت سے اپنی شرائط منوانے کے بعد طلبا نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم، پٹنہ (بہار) میں احتجاجی مارچ زور پکڑنے لگا ہے۔ احتجاجی طلبا دھرنے کے لیے مختص مقام گردنی باغ میں سڑک کنارے ٹینٹ لگا کر دھرنے پر بیٹھے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں، جبکہ طلبا اور نوجوانوں کا دوسرا گروپ لوک بھون کی طرف مارچ کرنے کے لیے نکل پڑا ہے لیکن پولیس نے بیریکیڈنگ لگا کر انہیں روک دیا ہے۔ یو پی اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں جین-الفا بھی میدان میں آ چکے ہیں۔ سی جے پی کے لیڈر ابھجیت دیپکے بھی جنتر منتر پر دوبارہ واپسی کا اشارہ دے چکے ہیں۔ راہل گاندھی وزیر اعظم مودی کا ویسا ہی مذاق اڑا رہے ہیں جیسا ماضی میں نریندر مودی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
طلبا کی احتجاجی تحریک کیا رنگ لائے گی؟
ملک کے مختلف حصوں میں جین-زی اور الفا پر مشتمل طلبا تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں اور سبھی کو اپنے مستقبل کی فکر ستانے لگی ہے۔ جنتر منتر کے بعد جھار کھنڈ کے ضلع رانچی میں دھرنے پر بیٹھے احتجاجی طلبا اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ثابت ہوئے۔ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امتحانات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف احتجاجی دھرنے میں 26 دن بعد کامیابی ملی۔
طلبا نے ریاستی حکومت کو 60 دنوں کی مہلت دی ہے کہ اگر اس دوران ان کے مطالبات پر کارروائی نہیں ہوئی تو وہ پھر سے احتجاجی دھرنے پر واپس لوٹیں گے۔ سی جے پی لیڈر ابھجیت بھی اسکولوں میں گھوم پھر کر تعلیمی مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے ’’اسکول ٹھیک کرو مہم‘‘ شروع کر رکھی ہے۔
سی جے پی کے شریک بانی آشوتوش رانا نے سی جے پی رہنماؤں کو دھمکیاں دیے جانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت نے کولکاتا میں انہیں پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن سی جے پی کی مہم جاری رہے گی۔ ان کے بقول پروگرام روکنے کی کوشش اس بات کی علامت ہے کہ ہماری سرگرمیوں سے سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔ رانا کے ساتھ راجستھان کے ایک اسکول میں مارپیٹ کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
طبیلے میں اسکول
آشوتوش رانا نے جے پور کے جس اسکول کا دورہ کیا، وہاں ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ دراصل یہ اسکول ایک طبیلے میں چل رہا ہے۔ رانا کا کہنا ہے کہ رام پورہ کے اس اسکول کا ایک سال قبل بھی انہوں نے دورہ کیا تھا۔ اسکول کی پرانی عمارت ٹوٹ پھوٹ کر مخدوش ہو چکی ہے۔ انتظامیہ نے نئی عمارت بنوانے کے بجائے اسکول کو قریب ہی واقع جانوروں کے ایک باڑے میں منتقل کر دیا ہے۔
رانا جب دوبارہ اس اسکول کا جائزہ لینے پہنچے تو ان کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیم پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ریاستی وزیرِ تعلیم مدن دلاور پر حملہ کروانے کا الزام لگایا ہے۔ رانا نے ریاستی حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ اگر حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو سرکار کو اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔
واضح رہے کہ سی جے پی ملک کے مختلف حصوں میں ’’اسکول ٹھیک کرو مہم‘‘ چلا رہی ہے۔ اسی کے پیشِ نظر راجستھان اور یو پی میں بیرونی عناصر کے بغیر اجازت اسکولوں میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مسلم ٹیچر کی حمایت میں ہندو اکثریت دھرنے پر بیٹھ گئی
راجستھان کے ناگور میں جاروڑہ گاؤں کے پی ایم شری اسکول کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں گاؤں والے اسکول کے پرنسپل محمد اختر ندیم کے تبادلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ محمد اختر ندیم ایک مثالی استاد ہیں۔ انہوں نے اسکول کا تعلیمی نظام اتنا بہتر بنا دیا ہے کہ گاؤں میں چلنے والے کئی نجی اسکول بند ہو گئے ہیں اور باہر سے آنے والی اسکول بسیں بھی اب نہیں آتیں۔ گاؤں کے تمام بچے اسی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور والدین بھی مطمئن ہیں۔
محمد اختر ندیم غریب بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں سرکاری اسکولوں کی بدحالی سب کے سامنے ہے، وہیں محمد اختر ندیم کی کوششوں سے ایک سرکاری اسکول کی تصویر بدل گئی ہے۔ تعلیمی افسران کو ایسے مثالی استاد کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ان کا تبادلہ کرنے پر گاؤں والوں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فی الحال انتظامیہ نے محمد اختر ندیم کے تبادلے پر تین ماہ کی عبوری روک لگا دی ہے، تاہم گاؤں والوں نے اسکول کو قفل ڈال دیا ہے۔ وہ اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل چاہتے ہیں۔
لکھنؤ سے دلی تک سیاسی ہلچل تیز
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے بعد بدلے ہوئے سیاسی حالات میں لکھنؤ سے دلی تک سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق آر ایس ایس اور بی جے پی، یو پی میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کو لے کر فکر مند ہیں۔ بی جے پی کے نو منتخب صدر نتن نوین کی نئی ٹیم میں یو پی کی نمائندگی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
مرکزی کابینہ میں ہونے والی توسیع میں بھی یو پی کو خصوصی توجہ ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ سب کو اس بات کا احساس ہے کہ دلی کا راستہ لکھنؤ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر یو پی انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو دلی میں اقتدار کی کرسی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اسی لیے یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو انتخابات میں فری ہینڈ دیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یو پی کے ایک نائب وزیر اعلیٰ کو دلی بھیجنے کی بھی تیاری کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ کیشو پرساد موریہ یا برجیش پاٹھک کو مرکزی کابینہ میں شامل کیے جانے کے قیاسات بھی لگائے جا رہے ہیں۔
یو پی کی گورنر آنندی بین پٹیل بھی طویل رخصت پر چلی گئی ہیں۔ ان کی جگہ کسی تیز طرار اور آزمودہ لیڈر کو یو پی کا گورنر بنائے جانے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
بی جے پی کا برہمنی چہرہ بے نقاب؟
اتر اکھنڈ کے ضلع ہریدوار میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی ریلی کے مقام کے شدھی کرن سے بی جے پی کا برہمنی چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے۔ تازہ معاملہ لکھنؤ سے متصل کاکوری میں رونما ہوا ہے۔
ملیح آباد اسمبلی حلقے سے بی جے پی کی ایم ایل اے جے دیوی کوشل نے کاکوری کے شیتلا دیوی مندر میں توہین کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مندر کی تعمیرِ نو اور تزئین کاری کے لیے انہوں نے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے سرکاری فنڈ کی منظوری دلوائی، لیکن جب وہ مندر کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچیں تو دلت ہونے کے سبب انہیں پوجا میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ بھومی پوجن میں شامل کیا گیا بلکہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بیٹھنے تک کے لیے نہیں کہا گیا۔
سابق مرکزی وزیر اور جے دیوی کے شوہر کوشل کشور کا کہنا ہے کہ وہ اس بے عزتی پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ جے دیوی نے اس معاملے کی شکایت پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سے کرنے کی بات کہی ہے۔
آزادی کے اسی سال گزرنے کے باوجود دلتوں کو سماج میں برابری کا مقام حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ کھرگے اور جے دیوی کے معاملات میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بی جے پی میں برہمنی سوچ رکھنے والوں کی اجارہ داری ہے۔ کاکوری کے اسی مندر میں گزشتہ برس ایک ضعیف شخص سے پیشاب چٹوائے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ شکایت کے باوجود آج بھی اس مندر پر اسی پجاری کا قبضہ ہے اور محکمہ سیاحت نے اسے لاکھوں روپے کا فنڈ دے دیا۔
ملکارجن کھرگے کے اسٹیج کا شدھی کرن کرنے والے کا سنگھ سے رشتہ؟
بی جے پی نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے شدھی کرن کے معاملے سے بھلے ہی پلہ جھاڑ لیا ہو لیکن اتر اکھنڈ کے سینئر صحافی اجیت سنگھ راٹھی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر جو معلومات شیئر کی ہیں ان کے مطابق اسٹیج کا شدھی کرن کرانے والا گریش چندر پانڈے ’’رام سینا‘‘ نام کی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر موجود ہیں جن میں وہ آر ایس ایس کی خاکی وردی پہنے ہوئے سنگھ کی صد سالہ تقریب میں موجود دکھائی دیتا ہے۔ شدھی کرن میں شامل ہونے والے ایک چشم دید نے بتایا کہ اسے ہون کے نام پر بلا کر بیوقوف بنایا گیا ہے۔
کھرگے اور جے دیوی کے معاملات سے واضح ہوتا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی نفرت کی سیاست اب اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنوں کو بھی ستانے لگی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس پر طنز کرتے ہوئے ٹویٹ کیا:
’’بھاجپا میں پی ڈی اے جگہ تو پا سکتا ہے، لیکن اسے سمان یعنی عزت نہیں مل سکتی۔‘
اتر اکھنڈ سے مسلمانوں کو باہر نکالنے کی سازش
پہاڑی ریاست اتر اکھنڈ میں ایک عرصے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، کبھی پہاڑی اور غیر پہاڑی کے نام پر تو کبھی ہندو-مسلمان کے نام پر لیکن اس بار ایس آئی آر کی آڑ میں مسلمانوں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کرانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ نیوز لانڈری کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایس ائی ار کے دوران پانچ اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ اعتراضات داخل ہوئے ہیں اور جن ووٹروں کے نام ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ مثال کے طور پر کچھا اسمبلی حلقوں میں 4857 ووٹوں کے نام پر اعتراض داخل کیا گیا ہے ان میں سے 4855 اعتراض بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ راجیش تیواری نے داخل کیے ہیں اور یہ سبھی ووٹر مسلمان ہیں۔ دراصل اس اسمبلی حلقے میں پچھلی بار بی جے پی کا امیدوار ہار گیا تھا، اس کھیل میں الیکشن کمیشن کا رول بھی مشتبہ دکھائی دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ایک دن میں ایک آدمی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دس اعتراض داخل کرنے کی حد مقرر کی تھی بعد میں اسے بڑھا کر پچاس کر دیا گیا لیکن اب اس حد کو ہی ہٹا دیا گیا ہے یعنی ایک دن میں ایک شخص جتنے چاہے اعتراضات داخل کر سکتا ہے۔ رپورٹ شائع ہونے کے بعد ریاستی الکشن کمیشن حرکت میں آگیا ہے اور اس نے اتر اکھنڈ کانگریس کمیٹی کے صدر کو اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے کہ اتر اکھنڈ میں 11 ستمبر تک اعتراضات پر شنوائی ہوگی اور 15 ستمبر کو فائنل لسٹ جاری کی جائے گی۔
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال۔ آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ۔ تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بنے جین زی کی آواز، رانچی میں طلبہ کا احتجاج کامیاب

جنتر منتر پر پیئلٹ گن کے استعمال پر ایف ائی آر درج

