اسلام نے خواتین کے امپاورمنٹ کی پوری آزادی دی ہے
این ایف جی آئی او کی نائب صدر عفیفہ تہنیت کا خاص انٹرویو
نیشنل فڈریشن آف گرلس اسلامک آرنائزیشن (NFGIO) یکم اگست سے 31 اگست تک ملک گیر پیمانے پر Embracing Femininity مہم چلا رہی ہے ۔خواتین کے مسائل اور مہم کے مقاصد کے تعلق سے سینئر صحافی مشتاق عامر نے تنظیم کی نائب صدر عفیفہ تہنیت سے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی۔ اس گفتگو کے اہم حصے پیش ہیں ۔
سوال : نیشنل فڈریشن آف گرلس اسلامک آرگنائزیش پورے ملک میں ایک ماہ کی مہم منا رہی ہے. اس مہم کا کیا مقصد ہے اور اس کے ذریعے این ایف جی آئی او کیا حاصل کرنا چاہتی ہے ؟
جواب : جی، اس مہم کے مقصد کے بارے میں بات کرنے سے پہلے میں چاہوں گی کہ اس مہم کا مختصر تعارف پیش کر دوں۔ Embracing Femininity یعنی ;نسوانیت کو اپنانا ایک ملک گیر مہم ہے، جس کا اہتمام NFGIO کے زیرِ اہتمام یکم اگست سے 31 اگست 2026 تک ملک بھر کے تمامGIO زونز اور کیمپسوں میں کیا جا رہا ہے۔اگر ہم اس مہم کے مقصد کی بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آج کی عورت کے سامنے دو انتہائیں موجود ہیں۔ایک طرف وہ سوچ ہے جو خواتین کو کنٹرول کرنے اور انہیں محدود رکھنے کی بات کرتی ہے۔ اس سوچ کے تحت خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، فیصلہ سازی میں حصہ لینے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے حق سے محروم رکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔دوسری جانب ایک اور انتہا ہے، جو یہ کہتی ہے کہ آزاد اور خودمختار ہونے کے لیے عورت کو اپنی فطری خوشیوں، جذبات اور اپنی ذمہ داریوں سے دور ہونا ہوگا ان دونوں انتہاؤں کو سامنے رکھتے ہوئے Embracing Femininityیعنی ;نسوانیت کو اپنانا کی مہم خواتین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں، خوبیوں، جذبات اور ذمہ داریوں کے درمیان ایک متوازن اور باہمی ہم آہنگ تعلق قائم کریں۔ اس مہم کے ذریعے ہم یہ چاہتے ہیں کہ عورت اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنی اقدار کو سمجھے اور اپنی زندگی میں ایک تہذیبی توازن تلاش کرے۔اسی کو ہم یعنی ; تیسری جگہ یا ;تیسرا راستہ کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو عورت کو اس کی فطرت سے جوڑتا ہے، اسلامی تہذیب سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور بیک وقت جدید دور کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ مہم عورت کو کسی مخصوص بیانیے، شناخت یا تعریف کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ عورت اپنی مکمل شخصیت کو خود پہچانے۔
سوال : میں یہاں پر ایک بات اور جاننا چاہوں گا کہ آپ نے دو انتہاؤں کا ذکر کیا ہے۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان آپ نے تہذیبی توازن کا ذکر کیا ہے۔ اس توازن سے آپ کی کیا مراد ہے؟
جواب : جی، ان دو انتہاؤں کے درمیان کا راستہ ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کو پیچھے چھوڑ کر، ان دونوں کو الگ رکھتے ہوئے، ایک متوازن، تیسرا راستہ ہم چاہتے ہیں۔ ہم ان دونوں کو بیلنس کرتے ہوئے نہیں، بلکہ ان دونوں انتہاؤں کو بھی پیچھے چھوڑ کر ایک تیسرے راستے کی بات کر رہے ہیں۔کیونکہ جن انتہاؤں کی ہم بات کر رہے تھے، ان میں سے ایک انتہا ایسی ہے جو مسلسل پیداواری صلاحیت (Relentless Productivity) کی طرف دعوت دیتی ہے، جو ایک لبرل بیانیہ ہے۔ یعنی اگر عورت آزاد اور خودمختار بننا چاہے تو وہ اپنی نسوانیت کو پیچھے چھوڑ دے، اپنی معصومیت، اپنے جذبات اور اپنے اندر موجود دیگر فطری خصوصیات کو پسِ پشت ڈال دے، اور ایک مشین کی طرح مسلسل کام کرتی چلی جائے۔ اس میں کسی متوازن رویے کی گنجائش پیدا کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔اسی لحاظ سے دوسرا بیانیہ یعنی عورت کو تعلیم سے دور رکھنا، اس کے ان حقوق سے محروم رکھنا۔ پدر شاہی نظام کے شکنجے میں رہنا وغیرہ ۔ ان دونوں بیانیوں کے درمیان ہمارا مقصد صرف توازن برقرار رکھنا نہیں ہے ، بلکہ ہمارا مقصد ایک تیسرا راستہ، ایک Third Space کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے ۔
سوال : آج خواتین کو سماج کے ہر شعبے میں نمائندگی حاصل ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف جرائم اور استحصال میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ان کے مسائل بھی بڑھے ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : اگر ہم خواتین کی سماجی اور پیشہ ورانہ نمائندگی کی بات کریں تو اس میں اضافہ ہوا ہے اور یہ بہت اچھی تبدیلی ہے۔ لیکن صرف نمائندگی میں اضافہ کرنے سے ورک پلیس یا معاشرے کا ماحول خواتین کے لیے محفوظ نہیں بن جاتا اور نہ ہی خواتین اس میں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ بلکہ خواتین کے خلاف آج کل جو بھی جرائم ہو رہے ہیں، ان کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے بنیادی وجہ ایک مخصوص ذہنیت ہے، ایک ایسی ذہنیت جو عورت کو ایک مکمل انسان اور باوقار شخصیت کے بجائے ایک کمتر مخلوق یا قابلِ ملکیت چیز سمجھتی ہے۔ ہم اس ذہنیت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔
سوال : یہیں پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سماج میں خواتین کے خلاف دو طرح کے تشدد بہت نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ ایک تو ڈومیسٹک وائلنس، یعنی گھریلو تشدد، اور دوسرا جنسی تشدد۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف ان پڑھ یا جاہل معاشرے میں ہو رہا ہے، بلکہ یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ سوسائٹی میں ہو رہا ہے ۔تعلیم یافتہ اور مہذب سوسائٹی ہونے کے باوجود خواتین گھریلو اور جنسی تشدد کا شکار کیوں ہو رہی ہیں ؟
جواب : جی، میں اسی کی طرف آ رہی تھی کہ جو جنسی تشدد، آن لائن بدسلوکی، سائبر کرائمزاور عورت کے بارے میں موجود ہر وہ غلط تصور جو اس کے استحصال کا سبب بنتا ہے، ان سب کی جڑ یہی ہے کہ عورت کو صرف ایک کمتر مخلوق، ایک مشین یا ایک کھلونے کی طرح سمجھا جاتا ہے۔ اسے ایک قابلِ عزت شخصیت نہیں سمجھا جاتا۔چاہے کوئی کتنا ہی پڑھا لکھا ہو یا کتنا ہی بڑا عہدہ رکھتا ہو، اگر وہ عورت کو اپنے برابر کی مخلوق نہیں سمجھتا، اس کی ذہنیت نہیں بدلتی اور خاندان میں اس کی صحیح تربیت نہیں ہوئی، تو انہی وجوہات کی بنا پر اس طرح کے واقعات سامنے آ تے رہتے ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو عورت کے آگے بڑھنے کے حق کا احترام کرے، اس کےہاں اورنہیں کا احترام کرے اور اس کی حفاظت کرے۔
سوال : ماضی میں مختلف خواتین کے گروپس کی طرف سے کچھ ایسی مہم چلائی گئیں جیسے ; میرا جسم میری مرضی یا ; می ٹو وغیرہ ۔ کیا اس طرح کی مہم چلانے سے عورت کا وقار بحال ہو سکتا ہے۔ کیا ان کے بنیادی مسائل حل ہو سکتے ہیں ؟ آپ اسے کس نگاہ سے دیکھتی ہیں؟
جواب : دیکھئے، خواتین کے مسائل نہ کسی ایک نعرے سے حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کسی ایک مہم سے۔ جیسا کہ بات آئی ;می ٹو جیسی تحریکوں کی، تو وہ جنسی ہراسانی (Sexual Harassment) جیسے مسئلے کو عوامی گفتگو، یعنی Public Discourse میں لانے اور اسے ایک اہم سماجی موضوع بنانے کے لیے ایک کردار ادا کرنے والی مہم تھی۔ It was good.اور اسی طرح ;میرا جسم، میری مرضی جیسے نعروں کے پیچھے بھی کچھ ایسی صورتیں تھیں، جن میں عورت کے اپنے جسم، اس کے اختیار، یعنی Autonomy، اور اس کی حفاظت کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ لیکن اگر ہم ہر نعرے اور ہر بیانیے کا تنقیدی جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہر مہم اور ہر تحریک نے کسی ایک مخصوص پہلو، یعنی Particular Aspect، کو موضوع بنایا۔ چاہے وہ جسمانی خودمختاری کا معاملہ ہو یا جنسی ہراسانی کا۔
تو اگر ہم چاہتے ہیں کہ عورت کے مسائل حل ہوں، تو ہمیں اس کے ہر مسئلے کو دیکھنا ہوگا۔ صحت کا مسئلہ، مالی مواقع کا مسئلہ، گھریلو تشدد کا مسئلہ، ہراسانی کا مسئلہ، اس کی جسمانی صحت، ذہنی سکون، خاندانی تعلقات، اس کا کام، اس کی زندگی سے متعلق سماجی رویے—جو کچھ بھی ہے، ان تمام چیزوں اور تمام پہلوؤں کو ہمیں دیکھنا ہوگا۔لہٰذا اگر ہم عورتوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان نعروں سے آگے بڑھ کر ایک فطری اور سماجی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔اور Embracing Femininity بھی اسی گفتگو کو عوامی سطح پر لانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم خواتین کے مسائل کو کس زاویے سے دیکھیں۔ یہ محض ایک نعرہ نہ ہو، بلکہ ایک انسان کے طور پر اس کے برتاؤ ، اس کی فطرت اور اس کی سماجی ذمہ داریوں کے پورے شعور اور ایک وسیع تر نقطۂ نظر کے ساتھ اسے دیکھا جائے۔اسی تصور کے تحت اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف جو Moderate اور Liberal Narratives ہیں اور دوسری طرف مردانہ بالادستی کا تصور ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تیسری راہ متعین کرنے کی کوشش کی جائے۔
سوال : عورت کے خلاف ہونے والے جرائم کے تعلق سے ملک میں سخت قوانین موجود ہیں ۔لیکن اس کے باوجود جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ کیا جرائم کو قابو کرنے میں موجودہ قوانین ناکام ہو رہے ہیں ؟
جواب : قانون تو موجود ہے لیکن قانون کی نفاذ میں سختی آنی چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے قوانین موجود ہیں؛ جہیز کے خلاف قانون ہے، جنسی ہراسانی کے خلاف قانون ہے، چھوٹے بچوں کے تحفظ کے لیے POCSO ایکٹ ہے۔ اتنے سارے قوانین موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود جرائم بڑھ رہے ہیں۔ یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ سخت قانون کا نفاذ ہونے کے بعد احتساب (Accountability) بھی ضروری ہے۔ یعنی کسی کو جیل میں ڈالنے یا اس کے خلاف جو بھی قانونی کارروائی ہوتی ہے، اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ وہ دوبارہ جیل سے رہا ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں بھی ہمیں مدِنظر رکھنی چاہئیں کہ قانون تو سخت ہے، لیکن وہاں جوابدہی کہاں ہے؟اسی طرح معاشرے میں عورت کے حوالے سے جو نظریہ اور سوچ ہے، اس میں بھی تبدیلی آنی چاہیے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ایک ایسا سماج تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں عورت خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ اور ہاں، اخلاقی اعتبار سے بھی، یعنی انسان اپنے اندر موجوداخلاقی خوبیوں اور برائیوں کو جس نظر سے دیکھتا ہے، اس میں بھی تبدیلی آنی چاہیے۔
سوال : ایک اہم مسئلہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ جب ہم اخلاقیات کی بات کرتے ہیں تو مختلف مذاہب میں اخلاقیات کے اصول الگ الگ ہیں۔ مثلاً جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو وہاں اخلاقیات کے اصول ایک خاص نوعیت کے ہیں، جبکہ دوسرے مذاہب میں اخلاقیات کے اصول مختلف ہو سکتے ہیں۔ جو چیز اسلام میں بہت ممنوع ہے، ممکن ہے دوسرے مذہب کے اخلاقی تصور میں وہ اتنی ممنوع یا معیوب نہ سمجھی جاتی ہو؟
جواب : دیکھیے، جب ہم ایک انسان کی بات کرتے ہیں تو ہر انسان کے اندر ایک اخلاقی شعور (Moral Compass) ہوتا ہے، جو اسے بتاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا انسان ہو، یا اگر ہم اس سے بھی گہرائی میں جائیں تو ممکن ہے کہ وہ کسی مذہب کو نہ مانتا ہو۔ تو کیا ایسا شخص کسی اخلاقی شعور کی پیروی نہیں کرتا؟ کیا اسے معاشرے میں ہر کام کرنے کے لیے بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟ نہیں۔ہر انسان کے اندر ایک اخلاقی شعور ہوتا ہے۔ خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، ایک انسان ہونے کی حیثیت سے اس کے اندر کچھ بنیادی اخلاقی قدریں ہونی چاہئیں۔ یہ قدریں معاشرے، خاندان اور اردگرد کے لوگوں کے ذریعے بھی انسان تک پہنچتی ہیں۔ انسان اپنے ماحول سے سیکھتا ہے کہ اس کا اخلاقی شعور کیا ہے اور اس کی حدود کہاں تک ہیں۔
سوال : ملک کے موجودہ حالات میں مسلم خواتین کو عوامی مقامات پر کچھ چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر وہ خواتین جو نقاب، حجاب یا اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں۔ اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے؟
جواب: ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم شناخت کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں ہماری ٹیچرز، ڈاکٹرز، مختلف شعبوں سے وابستہ پروفیشنلز، ایکٹیوسٹس، جرنلسٹس، رائٹرز اور بزنس وومن موجود ہیں، الحمدللہ یہ سب حجاب کے ساتھ رہتے ہوئے آگے بڑھی ہیں۔اگر ہم عام مسلم خواتین کی بات کریں تو تعلیم کے حوالے سے، مالی مواقع کے حوالے سے، اسلاموفوبیا اور ان کی شناخت سے متعلق مسائل بہت زیادہ ہیں، چیلنجز بہت ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک چیز جو ہمارے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کر سکے۔ لہٰذا اگر ہم آئینی اعتبار سے دیکھیں تو شناخت، حجاب اور پردے سے متعلق ان تمام مسائل کو اسی بنیاد پر حل کیا جا سکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ چیلنجز جیسے بھی ہوں، ہم حجاب یا برقعے میں رہتے ہوئے اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
سوال : جب ہم ویمن ایمپاورمنٹ کی بات کرتے ہیں، تو اس میں مسلم خواتین کا بااختیار ہونا بھی شامل ہے۔ لیکن عملی طور پر مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے میں بہت سی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ ایسے میں اسے بااختیار بنانے کے کیا طریقے ہونے چاہئیں؟
جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ ; مسلم لڑکی یا مسلم خاتون کو بااختیار بنانے کی اصطلاح کچھ عجیب محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ جب ہم اسلام اور مسلم خواتین کی بات کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے جو حقوق اور اختیارات اسے دئے ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے وہ تعلیم حاصل کر سکتی ہے اور معاشرے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان تمام کاموں کے لیے وہ آزاد ہے۔لہٰذا جب ہم مسلم ویمن ایمپاورمنٹ کی بات کرتے ہیں تو کسی مسلم لڑکی کو بااختیار بنانے کے لیے ہمیں کوئی الگ سے خاص کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر ﷺ نے ہمیں جو تعلیمات دی ہیں،اگر ہم ان پر عمل کریں، ان تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں تو ہر عورت، ان شاء اللہ، بااختیار ہو جائے گی۔
سوال : ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جو مخلوط معاشرہ ہے ۔ تو اس ایسے میں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے ایک مسلم خاتون کس طرح ترقی کر سکتی ہے؟
جواب : جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اپنی شناخت، اپنے حجاب یا اپنے پردے کے ساتھ رہتے ہوئے وہ اپنے سامنے آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ کسی ایک بند دائرے میں یا اپنا کوئی الگ ادارہ قائم کرکے صرف اسی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری بہت سی لڑکیاں کالجز میں جاتی ہیں اسی طرح مرکزی یونیورسٹیوں میں ہماری طالبات موجود ہیں۔ الحمدللہ، ہم اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اپنے مواقع حاصل کریں گے۔
سوال : کیا آپ کو لگتا ہے کہ صرف ایک ماہ کی مہم منانے سے مسلم خواتین کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں؟
جواب : ایک ماہ کی مہم سے مسلم خواتین کے تمام مسائل حل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ ہم صرف ایک ماہ میں ان تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد لڑکیوں اور خواتین میں یہ شعور بیدار کرنا ہے کہ ان کی اصل شناخت کیا ہے، ان کی حقیقی صلاحیتیں کیا ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں کن خوبیوں سے نوازاہے اور اسلام میں اللہ تعالٰی نے انہیں کیا مقام اور حیثیت دی ہے۔ ہم ایک فکری اور شعوری مہم لے کر اٹھے ہیں۔ یہ صرف ایک ماہ کا کام نہیں ہے، بلکہ ہم پوری سوسائٹی کے اندر ایک تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ذہنوں اور نقطۂ نظر کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایک ایسی گفتگو شروع کرنا چاہتے ہیں جو خواتین کو اپنی شناخت برقرار رکھنے کی طرف متوجہ کرے اور انہیں سنجیدگی سے غور کرنے اور سوچنے پر مجبور کرے کہ کیا وہ وہی ہیں جو معاشرہ انہیں بتاتا ہے؟ کیا وہ وہی ہیں جو گھر والے یا دوسرے لوگ انہیں بتاتے ہیں؟ کیا وہ وہی ہیں جو مختلف بیانیے انہیں بتاتے ہیں؟ یا وہ وہی ہیں جو ان کے سوشل میڈیا کے دوست انہیں بتاتے ہیں؟ آخر ان کی حقیقی شناخت کیا ہے؟ ہم کسی پر اپنا نظریہ مسلط نہیں کر رہے، بلکہ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اپنی اس شناخت کو خود تلاش کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے۔ اس مہم کے ذریعے ہم ایک ایسا ڈسکورس اور فکری ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں دو انتہاؤں کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کیا جا سکے۔
سوال : دیکھا گیا ہے کہ مہمات کے اثرات زمینی سطح تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ اس کے اثرات زمینی سطح پر دکھائی دیں ، اس کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے؟
جواب : الحمدللہ اس وقت جی آئی او کے پورے بھارت میں 18 ریاستوں میں 20 زونز ہیں۔ اس مہم کے دوران ہر زون نے اپنی الگ الگ منصوبہ بندی ہمیں بھیجی ہے۔ ان کی جو منصوبہ بندی ہے، اس کے مطابق ہم کام کر رہے ہیں۔ اس کے تحت مختلف کیمپس میں پروگرامز ہو رہے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے ہم مسلم خواتین سے براہ راست رابطہ کرنا چاہتے ہیں ۔ہم اپنے پروگراموں کے ذریعے گراؤنڈ لیول تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ Embracing Femininity یعنی نسوانیت کو اپنائیے، مہم کے تحت ہم خواتین کی ذہنی صحت کے بارے میں بات کر رہے ہیں، عورت کی شناخت کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور لوگوں کو فطرت کی طرف واپس آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ایک اور اہم تیاری یہ ہے کہ ہم نے Women;s Support Group بھی لانچ کیا ہے۔ یہ خواتین کی جذباتی بہبود اور ذہنی معاونت کے لیے ہے۔ بہت سی گھریلو خواتین ایسی ہوتی ہیں جو دوسروں کے طعنے سنتی ہیں، مختلف باتوں کا سامنا کرتی ہیں اور ان کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
سوال : اس مہم کے دوران کیا جی آئی او نے خواتین کے لیے کام کرنے والی دوسری تنظیموں سے بھی کوآر ڈی نیشن کیا ہے؟
جواب : ہم بنیادی طور پر مسلم خواتین کے درمیان کام کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور آن لائن ہماری جو بھی سرگرمیاں ہیں، وہ سب لوگوں کے لیے ہیں، ہماری دوسری بہنوں کے لیے بھی ہیں۔ لیکن گراؤنڈ لیول پر ہمارا جو کام ہے اس کے تحت ہم Returning to Fitrah یعنی فطرت کی طرف واپسی اور اسلامی اقدار کی بات کر رہے ہیں، اس لیے اس وقت ہم بنیادی طور پر مسلم خواتین ہی کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر ہم دیکھیں تو دوسرے مذاہب کی تنظیموں کے ساتھ اس حوالے سے ہمارا کوئی اشتراک ابھی تو نہیں ہے۔