ہندوستان کا آئین اپنے تمام شہریوں کو مذہب، ذات، نسل، زبان اور علاقے سے بالا تر ہو کر مساوی شہری تسلیم کرتا ہے۔ آئین کی رو سے ہندوستانی ہونے کی بنیادی شرط کسی مذہبی شناخت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ریاست سے قانونی تعلق ہے۔ یہی تصور جدید ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد بھی ہے۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک متبادل تصورِ شہریت تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے جس کی نظریاتی جڑیں راشٹریہ آر ایس ایس کے فکری لٹریچر میں موجود ہیں۔ پروفیسر نیرجا گوپال جیال نے اپنے لیکچر "دی آر ایس ایس ویژن آف سٹیزن شپ" میں اسی بنیادی تبدیلی کا نہایت گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ یہ سوال آج محض نظریاتی نہیں رہا بلکہ ہندوستان کی سیاست، قانون، انتخابی نظام، شہریت کے قوانین، اقلیتوں کے حقوق اور آئینی جمہوریت کے مستقبل سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
ہندوستانی آئین نے آزادی کے بعد ایک ایسا تصورِ شہریت اختیار کیا جو مکمل طور پر مساوات پر مبنی تھا۔ آئین نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ کوئی شہری ہندو ہے یا مسلمان، سکھ ہے یا عیسائی، بلکہ ہر شخص کو صرف "ہندوستانی شہری" مانا ہے۔ اس کے برعکس آر ایس ایس کی فکر میں شہریت صرف قانونی رشتہ نہیں بلکہ تہذیبی اور ثقافتی وابستگی کا معاملہ بھی ہے۔ اس نظریے کے مطابق ہندوستان صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک قدیم "ہندو راشٹر" ہے جس کی اصل تہذیب ہندو تہذیب ہے۔ اس تصور میں وہ لوگ جو اس تہذیبی شناخت سے خود کو وابستہ کرتے ہیں وہ زیادہ فطری شہری سمجھے جاتے ہیں جبکہ دیگر مذہبی برادریوں سے غیر محسوس انداز میں وفا داری کے اضافی ثبوت طلب کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے پروفیسر جیال ہندوستانی آئین اور آر ایس ایس کی فکر کے درمیان سب سے بڑا نظریاتی اختلاف قرار دیتی ہیں۔
جدید جمہوریت میں شہریت ایک قانونی حیثیت یعنی لیگل اسٹیٹس ہے۔ اس کے ساتھ مساوی حقوق، مساوی ذمہ داریاں اور مساوی تحفظ وابستہ ہوتے ہیں۔ لیکن آر ایس ایس کی تحریروں خصوصاً ایم ایس گولوالکر اور وی ڈی ساورکر کے نظریات میں قومیت اور شہریت کا تعلق مشترکہ مذہب، مشترکہ تہذیب، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ ثقافت سے جوڑا گیا ہے۔ اس نظریے میں ریاست کا مقصد صرف نظم و نسق قائم کرنا نہیں بلکہ اکثریتی تہذیبی شناخت کا تحفظ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں "اچھا شہری"، "حب الوطنی"، "قومی وفاداری" اور "ثقافتی قوم پرستی" جیسی اصطلاحات بڑی شدت سے سامنے آئی ہیں۔
پروفیسر جیال کے مطابق آر ایس ایس کی فکر میں تمام شہری قانونی طور پر برابر دکھائی دے سکتے ہیں لیکن عملی طور پر ایک تہذیبی درجہ بندی پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلی سطح پر وہ لوگ آتے ہیں جو ہندو تہذیب کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں، دوسری سطح پر وہ اقلیتیں جو اکثریتی تہذیب میں ضم ہونے پر آمادہ ہوں اور تیسری سطح پر وہ گروہ جن کی قومی وفا داری پر مسلسل سوالات اٹھائے جائیں۔ یہی تصور وقت کے ساتھ مختلف سیاسی نعروں، قانون سازی اور سرکاری بیانیے میں بھی نظر آنے لگا ہے۔
اگر گزشتہ چند برسوں کے اہم سیاسی فیصلوں کا جائزہ لیا جائے تو شہریت کا سوال محض قانونی بحث نہیں رہا۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن یعنی این آر سی، شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے آبادی کا اندراج، دستاویزی شہریت اور حالیہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جانچ یعنی ایس آئی آر جیسے اقدامات نے شہریت کے سوال کو عام شہری کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق جب شہریت کو دستاویزی ثبوت، مذہبی شناخت اور سیاسی وفاداری کے ساتھ ملا دیا جائے تو مساوی شہریت کا اصول کمزور ہونے لگتا ہے۔ اسی تناظر میں جیال یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا ہندوستان میں شہریت اب ایک ایسا درجہ بنتی جا رہی ہے جسے ہر وقت ثابت کرنا پڑے؟
جمہوریت میں شہری اور رعایا کے درمیان بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ شہری سوال پوچھ سکتا ہے، حکومت پر تنقید کر سکتا ہے، احتجاج کر سکتا ہے اور آئینی حقوق استعمال کر سکتا ہے لیکن اگر حکومت سے اختلاف کو قومی وفاداری کے خلاف سمجھا جانے لگے، تو شہری آہستہ آہستہ رعایا میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں احتجاجی تحریکوں، طلبہ تنظیموں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور بعض اقلیتی گروہوں کے خلاف استعمال ہونے والی زبان اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
ہندوستان کے آئین نے "آئینی قوم پرستی" یعنی کانسٹیٹیوشنل نیشنلزم کا تصور اختیار کیا تھا۔ اس کی بنیاد مساوات، مذہبی آزادی، بنیادی حقوق، وفاقیت، جمہوریت اور قانون کی حکم رانی کے اصولوں پر تھی۔ اس کے برعکس ثقافتی قوم پرستی میں قوم کی تعریف مذہبی اور تہذیبی اکثریت کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہی نظریاتی اختلاف آج ہندوستانی سیاست کی سب سے اہم بحث بن چکا ہے۔
اگر شہریت کی تعریف ثقافتی بنیادوں پر ہونے لگے تو سب سے زیادہ متاثر وہ برادریاں ہوتی ہیں جن کی مذہبی شناخت اکثریتی شناخت سے مختلف ہو۔ مسلمانوں کے بارے میں اکثر یہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ ان کی قومی وفاداری کہاں ہے؟ کیا وہ پہلے مسلمان ہیں یا ہندوستانی؟ کیا انہیں اپنے حب الوطنی کے ثبوت بار بار دینے چاہئیں؟ آئینی نقطۂ نظر سے یہ سوالات غیر متعلق ہیں، کیونکہ آئین ہر شہری کو بلا امتیاز مساوی حیثیت دیتا ہے۔ لیکن تہذیبی قوم پرستی کے بیانیے میں یہی سوالات سیاسی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔
پروفیسر جیال اس پہلو کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ شہریت کا تصور صرف نظریاتی بحث نہیں بلکہ انتخابی سیاست کا بھی اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ جب کسی مخصوص طبقے کی شہریت، دستاویزات یا ووٹر فہرستوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہوتے ہیں۔ اس سے نمائندگی، سیاسی شمولیت اور جمہوری مساوات متاثر ہوتی ہے۔
آج اصل سوال آر ایس ایس یا کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ہندوستانی آئین کی روح کا ہے۔ کیا ہندوستان ایک ایسا ملک رہے گا جہاں تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہوں یا پھر ایک ایسا ملک بن جائے گا جہاں شہریوں کی حیثیت ان کی مذہبی اور تہذیبی شناخت کے مطابق مختلف سمجھی جائے گی؟ یہ سوال آنے والے برسوں میں ہندوستانی جمہوریت کی سمت متعین کرے گا۔
پروفیسر نیرجا گوپال جیال کا لیکچر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ شہریت صرف پاسپورٹ، آدھار کارڈ یا ووٹر شناختی کارڈ کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اخلاقی تصور ہے۔ اگر اس تصور کی بنیاد مساوات کے بجائے تہذیبی اکثریت پر رکھی جائے تو جمہوریت کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کے آئین نے جس مساوی شہریت کا خواب دیکھا تھا اس کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری کو مذہب، زبان، نسل یا ثقافت سے قطع نظر برابر کا ہندوستانی تسلیم کیا جائے۔ آئینی جمہوریت کی طاقت اسی میں ہے کہ وہ اکثریت کی حکم رانی کو اقلیتوں کے حقوق، قانون کی بالادستی اور مساوی شہریت کے اصولوں کے ساتھ متوازن رکھے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ہندوستان کو ایک کثیرالثقافتی، متنوع اور جمہوری ریاست بناتے ہیں اور یہی اصول مستقبل میں بھی اس کی سب سے بڑی قوت رہیں گے۔