سات جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک قطری جہاز پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مبینہ فائرنگ کے بعد خلیج فارس میں کشیدگی کی جو نئی لہر اٹھی ہے، وہ اب ایک وسیع تر علاقائی بحران کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدا میں یہ واقعہ محض سمندری سلامتی کا مسئلہ محسوس ہوا لیکن چند ہی دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محدود عسکری کشمکش خلیجی ریاستوں، بحیرہ احمر اور یہاں تک کہ پاکستان کی سرحدوں تک اثر انداز ہوتی نظر آنے لگی۔ اس دوران سفارتی رابطوں کی متضاد اطلاعات، امریکی بمباری میں اضافہ، ایرانی جوابی حملے اور واشنگٹن میں اسرائیل کے کردار پر کھل کر ہونے والی بحث نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملے جاری رہیں گے اور آئندہ مرحلے میں بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آ جانا چاہیے، اس سے پہلے کہ بات چیت کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔ اس کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "گالی اور گولی کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں"۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پندرہ جولائی کو سخت لہجے میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی اور امریکی وفود نے ایک روز قبل عمان میں گیارہ گھنٹے مذاکرات کیے ہیں۔ تاہم ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس دعوے کی فوری تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ متضاد بیانات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا، لیکن دونوں فریق اسے عوامی سطح پر تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایران میں حملوں کا دائرہ وسیع
ایرانی عسکری حکام کے مطابق 15 جولائی سے حملوں کا رخ شہری بنیادی ڈھانچے کی طرف بھی بڑھ گیا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ بجلی گھروں، بندرگاہی تنصیبات اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ ایرانی ذرائع نے اہواز، ایلام اور خوزستان میں ہسپتالوں، پانی کی فراہمی اور خوراک کے ذخائر کو نقصان پہنچنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔
امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے ان میں سے متعدد دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائیاں صرف عسکری اہمیت کے حامل اہداف تک محدود ہیں اور شہری ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔
پاکستانی سرحد کے قریب نئی تشویش
اس بحران کا ایک اہم پہلو ایرانی بلوچستان میں بنپور کے قریب مبینہ امریکی میزائل حملے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس حملے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ بنپور پاکستان کے ضلع چاغی کے قریب واقع ہے، چنانچہ اس پیش رفت نے اسلام آباد میں فطری تشویش پیدا کی ہے۔ اگر لڑائی سرحدی علاقوں تک پھیلتی ہے تو پاکستان کو سلامتی، پناہ گزینوں اور علاقائی سفارت کاری کے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک جنگ کے دائرے میں
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں کسی کے توانائی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس تناظر میں اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ کویت کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی خبریں آرہی ہیں۔ جنگ اب صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی بلکہ ان خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جن کی سرزمین یا فضائی حدود مبینہ طور پر امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
باب المندب اور توانائی کی عالمی شہ رگ
اس دوران یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ یمن کے حوثی، آبنائے باب المندب میں بحری دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ تنگ آبی راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن کے ذریعے بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو خلیجی تیل کی بڑی مقدار ایشیائی منڈیوں تک اسی راستے سے پہنچتی ہے۔ اسی لیے باب المندب میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی توانائی کی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
اسلام آباد مفاہمت کی ناکامی؟
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شدید حملوں کے باوجود سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن وہ خود جنگ بندی اور مبینہ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" (Islamabad MOU) کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں۔ تہران سے بھی ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سابقہ سفارتی فریم ورک اب مؤثر نہیں رہا۔
جے ڈی وانس کا غیر معمولی انکشاف
بظاہر آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر فائرنگ جنگ بندی کے خاتمے اور اور MOU کی منسوخی کا سبب بنی لیکن اس حوالے سے امن مذاکرات میں امریکی وفد کے سربراہ, نائب صدر جے ڈی وانس نے چشم کشا انکشاف کیے ہیں۔ معروف پوڈکاسٹر جو روگن (Joe Rogan) کو دیے گئے طویل انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض حلقے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ناکام بنانے اور جنگ کو طول دینے کے لیے امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک "منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم" چلائی گئی۔ وانس نے اسرائیل کی مذمت نہیں کی لیکن یہ مؤقف اختیار کیا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا تعین واشنگٹن میں ہونا چاہیے نہ کہ کسی دوسرے ملک کے سیاسی مفادات کے زیرِ اثر! امریکی سیاست میں یہ بیان اس لیے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کہ اعلیٰ سطح پر اسرائیل کے کردار پر اس قدر کھل کر تنقید اس سے پہلے کبھی نہیں سنی گئی تھی۔
نیتن یاہو کا مؤخر شدہ دورہ اور بیانیوں کی جنگ
اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے مجوزہ دورے کا مؤخر ہونا بھی قابلِ توجہ ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات حتمی شکل اختیار نہ کر سکی، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی باضابطہ ملاقات طے ہی نہیں ہوئی تھی۔
کیا دورے کی منسوخی واشنگٹن میں نیتن یاہو کے کم ہوتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کی عکاس ہے؟ اس سلسلے ترکیہ کو F-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کی مثال دی جارہی ہے۔ دوسری جانب کچھ ماہرینِ امور مشرقِ وسطی کے نزدیک یہ ایک طرح کا "ہجرِ بالرضا" بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف اپنی حالیہ عسکری کارروائیوں میں مبینہ طور پر اردن، کویت اور بحرین کی سرزمین، فضائی حدود اور اڈے استعمال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ ممالک ایرانی جوابی حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اسی دوران اسلامی دنیا میں ایک ایسا بیانیہ پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ ایران، امریکہ کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے خلیجی ممالک کو نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کی خواہش یہی ہے کہ ایران اور عرب ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل آ جائیں تاکہ دونوں کی قوت کمزور ہو۔ اس کے برعکس تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ اس کے خلاف تمام کارروائیوں کا اصل منصوبہ اسرائیل نے تیار کیا ہے جبکہ امریکہ محض اس پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت اور سرکاری ذرائع میں یہ تاثر بھی نمایاں ہے کہ صدر ٹرمپ، نیتن یاہو کی پالیسیوں کے عملی نفاذ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسی تاثر کو زائل کرنے کے لیے واشنگٹن اس مرحلے پر ایران کے خلاف حالیہ مہم میں اسرائیل کے نمایاں کردار سے گریز کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ نکار اسی پس منظر میں نیتن یاہو کے مؤخر شدہ دورے کو بھی دیکھ رہے ہیں، یعنی یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کہ موجودہ امریکی مہم کا مقصد اسرائیلی مفادات نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ میں اضافہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے؟
موجودہ جنگ کے بارے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے۔ سرکاری طور پر واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو اپنی ترجیحات قرار دیتا ہے۔ تاہم بعض عسکری مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی ساحلی تنصیبات، بندرگاہوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے حملے محض دفاعی نوعیت کے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مستقبل کی کسی بڑی فوجی کارروائی کی تیاری بھی ہو سکتے ہیں۔ابھی تک امریکہ نے زمینی فوجی مداخلت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا ہے۔ اس لیے قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا واشنگٹن صرف دباؤ بڑھانا چاہتا ہے یا ایران کی ساحلی صلاحیت کو مستقل طور پر کمزور کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے؟
یہ تنازع اب صرف ایران اور امریکہ کی لڑائی نہیں رہا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، عالمی توانائی کے بہاؤ اور امریکی خارجہ پالیسی کی سمت کے بارے میں ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ بحران محدود جنگ کی صورت میں تھم جائے گا یا خطہ ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے؟
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com
آبنائے ہرمز سے بلوچستان کی دہلیز تک

ایران، امریکہ اور بدلتی ہوئی خلیجی جنگ

