نلگنڈہ خواتین کے تربیتی ورکشاپ میں 800 سے زائد شرکاء کی شرکت
انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند (IIAD) نے ممبئی اور نلگنڈہ (تلنگانہ) میں اپنے آف لائن تعلیمی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں اکیڈمی کے زیر اہتمام 15 اکتوبر کو ممبئی میں علمائے کرام، ائمہ مساجد اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے لیے یو-لیڈ (U-LEAD) پروگرام منعقد ہوا، جب کہ 17 اکتوبر کو نلگنڈہ میں خواتین کی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ میں 800 سے زائد خواتین، طالبات اور عالمات نے شرکت کی۔ ان پروگراموں میں اسلامی تعلیم، قیادت کی صلاحیتوں کے فروغ، جدید مہارتوں اور سماجی اصلاح کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔
پریس ریلیز کے مطابق انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند، دیوبند ایجوکیشنل اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (DERF) کا تعلیمی منصوبہ ہے۔ مجوزہ مراکز کے ذریعے آن لائن تعلیم کے ساتھ بالمشافہ تدریس، تربیت اور مقامی سطح پر تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ نلگنڈہ مرکز کے قیام سے متعلق ضروری کارروائیاں آئندہ چھ ماہ میں مکمل کرنے اور 2027 میں باقاعدہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ممبئی (اندھیری ویسٹ) میں واقع نور مسجد کے یوسفیہ ہال میں منعقدہ یو-لیڈ پروگرام میں علمائے کرام، ائمہ مساجد، ڈاکٹروں، مختلف پیشوں سے وابستہ افراد اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کے بانی و ڈائریکٹر مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے اس موقع پر ممبئی میں اکیڈمی کا پہلا آف لائن مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں دینی قیادت کے لیے اسلامی علوم میں پختگی کے ساتھ مؤثر ابلاغ، بہتر تدریسی صلاحیت، تنظیمی مہارت، قیادت اور موجودہ سماجی مسائل کی تفہیم بھی ضروری ہے۔ اکیڈمی کا مقصد روایتی دینی تعلیم کو جدید تدریسی طریقوں اور عملی مہارتوں سے مربوط کرنا ہے تاکہ طلبا، ملازمت پیشہ افراد، ڈاکٹروں، انجینئروں، خواتین اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانے والے افراد کے لیے منظم دینی تعلیم کے مواقع پیدا ہوسکیں۔
مولانا عینی قاسمی نے علمائے کرام، ائمہ، مدارس کے طلبا اور عالمات کی قائدانہ، ابلاغی، تدریسی اور تنظیمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، تدریس میں طلبا کی عمر، ذہنی استعداد، سیکھنے کے انداز اور انفرادی ضروریات کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں جدید تدریسی طریقوں اور بچوں کی نفسیات سے واقفیت اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے خطباتِ جمعہ کو دینی رہنمائی، اخلاقی تربیت اور مثبت سماجی شعور پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے مساجد میں مطالعاتی مراکز، مشاورتی خدمات اور محلہ جاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی تاکہ مساجد اپنے بنیادی دینی کردار کے ساتھ تعلیمی اور سماجی خدمات میں بھی مؤثر حصہ لے سکیں۔
پروگرام کی صدارت جمعیت علمائے مہاراشٹر کے ناظمِ تنظیم مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی نے کی۔ انہوں نے معاصر فکری اور نظریاتی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے علمی پختگی، سنجیدہ مطالعے اور دینی تعلیمات کی گہری تفہیم کو ضروری قرار دیا۔ مولانا معوّذ ابو دردا قاسمی نے نوجوان مسلمانوں کو درپیش فکری و نظریاتی مسائل اور ان کی صحیح رہنمائی کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔
اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمد اعجاز قاسمی نے تعلیمی پروگراموں اور سرگرمیوں کا تعارف پیش کیا جب کہ اکیڈمی کے بانی سید فرقان حسن الدین نے اس کے تنظیمی ڈھانچے اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ دیگر شرکاء میں مولانا سراج احمد ندوی، مولانا مفتی عبدالباسط قاسمی، مولانا وہاج اطہر، جمعیت علمائے اندھیری و باندرہ کے صدر اور مولانا محمد قاسم، جنرل سکریٹری جمعیت علمائے اندھیری شامل تھے۔ نظامت مولانا مفتی شبیر احمد نے کی۔
نلگنڈہ میں خواتین کی تربیت اور سماجی اصلاح پر توجہ
جمعیت علمائے نلگنڈہ کے زیر اہتمام 17 اکتوبر کو منعقدہ ایک روزہ تربیتی ورکشاپ میں 800 سے زائد خواتین، طالبات اور عالمات نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں دینی تعلیم، خاندانی ذمہ داریوں، بچوں کی نشوونما اور بدلتے ہوئے سماجی حالات سے ہم آہنگ جدید مہارتوں کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔
پروگرام کی صدارت جمعیت علمائے تلنگانہ کے صدر اور دارالعلوم نلگنڈہ کے بانی و ناظم مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی نے کی۔ مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اختتامی اجلاس سے خطاب کیا۔ مولانا ذیشان ندوی نے بھی اپنے خیالات پیش کیے جب کہ نظامت مفتی زبیر مظاہری نے انجام دی۔
مولانا عینی قاسمی نے خواتین کی دینی و تعلیمی ترقی، کردار سازی اور سماجی اصلاح میں ان کے کردار کی اہمیت واضح کی۔ انہوں نے کہا کہ صالح اور متوازن نسل کی تربیت کے لیے اخلاقی اور تعلیمی رہنمائی کے ساتھ بچوں کی نفسیاتی ضروریات اور نشوونما کے مراحل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
ورکشاپ میں مصنوعی ذہانت (AI) ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ابلاغ و تقریر، قیادت اور پیشہ ورانہ مہارتوں جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ اس کے علاوہ عالمات کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں معاصر تعلیمی و سماجی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا۔
شرکاء نے جہیز کی لعنت، منشیات کے استعمال اور ناخواندگی جیسے سماجی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ خواتین کی تعلیم، خاندانی رہنمائی اور اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعے ان مسائل کے تدارک میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے خواتین اور عالمات کو تعلیم و تربیت کے میدان میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
ورکشاپ کے دوران انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند نے نلگنڈہ میں تلنگانہ کا اپنا پہلا آف لائن تعلیمی مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا۔ مجوزہ مرکز میں اسلامی تعلیم، خواتین کی تربیت، قیادت کے فروغ اور جدید مہارتوں سے متعلق پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اکیڈمی کے مطابق مرکز کے قیام سے متعلق ضروری کارروائیاں آئندہ چھ ماہ میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے، جب کہ 2027 میں باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ممبئی اور نلگنڈہ میں مجوزہ مراکز کا قیام انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کی تعلیمی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اکیڈمی آن لائن کورسز، ڈپلوما پروگراموں اور مہارتوں کی تربیت کے ذریعے طلبا، ملازمت پیشہ افراد، خواتین اور علمائے کرام سمیت مختلف طبقات تک منظم دینی تعلیم پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔