جامع قیادت، سماجی انصاف اور قوم کی تعمیر کے لیے اجتماعی جدوجہد پر زور
ایک ایسے وقت میں جب معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم، عدم مساوات اور باہمی عدم اعتماد نے امن و ہم آہنگی کے سوال کو پہلے سے زیادہ اہم بنا دیا ہے، خواتین کی قیادت میں ایک نئی قومی کوشش کا آغاز ہوا ہے۔ امن و ہم آہنگی کے لیے قومی خواتین فورم (NWFPH) کے باضابطہ قیام کے ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور سماجی کارکنوں نے ایک ایسے جامع معاشرے کی تشکیل کا عزم کیا ہے جہاں امن، انصاف، مساوات، وقار اور خواتین کی مؤثر شرکت محض نعرے نہ ہوں بلکہ قومی زندگی کی بنیاد بنیں۔
19؍ اگست کو عالمی یومِ انسانی ہمدردی کے موقع پر نئی دہلی کے فارن کریسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا میں منعقدہ افتتاحی پروگرام میں خواتین رہنماؤں، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، طلبا، صحافیوں، میڈیا پروفیشنلوں اور مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ سماجی مسائل کا حل کسی ایک طبقے یا ادارے کے بس کی بات نہیں؛ اس کے لیے مختلف طبقات، برادریوں اور شعبوں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت ساتھ آنا ہوگا۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر روپ ریکھا ورما تھیں، جب کہ سینئر صحافی بھاشا سنگھ، نئی دہلی وائی ایم سی اے آئی ایم ایس آئی ٹی کی ڈائریکٹر بھارتی ناگپال اور دلت آرتھک ادھیکار آندولن کی جنرل سکریٹری بینا جے پالیکل نے بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔
افتتاحی خطاب میں فورم کی چیئرپرسن جاگرتی راہی نے سروودیا کے اصولوں اور گاندھی جی کی تعلیمات کی روشنی میں امن و ہم آہنگی کے لیے نئے عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھیائی اصول آج بھی مشکل ترین اور تاریک ادوار میں انسانیت کو سمت اور اخلاقی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے کو امن اور ہم آہنگی کی راہ پر آگے بڑھانے کے لیے محض بات چیت کافی نہیں بلکہ عملی زندگی میں ان اصولوں کو اختیار کرنا ہوگا۔
’’مسائل اٹھانا نہیں، حل تلاش کرنا مقصد ہے‘‘
فورم کی وائس چیئرپرسن رحمت النساء نے فورم کے منفرد کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں موجود سماجی خلا اور محرومیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے عملی حل تلاش کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے مرد رفقا کے ساتھ مل کر خواتین، مختلف برادریوں اور مجموعی طور پر انسانیت کو درپیش مسائل کے عملی حل وضع کرسکتی ہیں۔ فورم کا مقصد صرف مسائل کی فہرست پیش کرنا یا ان پر آواز اٹھانا نہیں بلکہ بامعنی حل تلاش کرنا اور سماجی تبدیلی کے عمل میں عملی کردار ادا کرنا ہے۔
فورم کو ہر طبقے کی نمائندگی کا پلیٹ فارم بنایا جائے: روپ ریکھا ورما
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر روپ ریکھا ورما نے فورم کی آئندہ سمت کے حوالے سے اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسے ہر اعتبار سے جامع اور نمائندہ پلیٹ فارم بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ مختلف جنسوں، برادریوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو فورم میں جگہ ملنی چاہیے تاکہ یہ ایک متحرک، متنوع اور زندہ پلیٹ فارم بن سکے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس تنوع کے باوجود فورم کو اپنے بنیادی مقاصد پر مضبوطی سے قائم رہنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف تجربات، پس منظر اور آوازوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہی اس فورم کو امن، انصاف اور سماجی ہم آہنگی کے لیے مؤثر پلیٹ فارم بنا سکتا ہے۔
فرقہ وارانہ تقسیم کے خلاف اجتماعی آواز ضروری: بھاشا سنگھ
سینئر صحافی بھاشا سنگھ نے موجودہ حالات میں امن اور ہم آہنگی کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف امن کی بات کرنا کافی نہیں بلکہ ان قوتوں کو بھی پہچاننا ضروری ہے جو معاشرے میں ان اقدار کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والی جن قوتوں کو ’’فاشسٹ قوتیں‘‘ قرار دیا، ان کے خلاف سماج کے امن پسند طبقات کو بیدار ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے خطاب میں آزاد صحافت، آزاد آوازوں اور اجتماعی سماجی جدوجہد کو ایک جامع اور جمہوری معاشرے کی اقدار کے تحفظ کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔
دلت قیادت اور نمائندگی مضبوط بنانے پر زور
دلت آرتھک ادھیکار آندولن کی جنرل سکریٹری بینا جے پالیکل نے سماجی شمولیت کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے سیاست، سرکاری و سماجی اداروں اور با اختیار عہدوں پر دلت قیادت اور نمائندگی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی معنوں میں جامع معاشرے کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سماجی سوچ اور رویوں میں تبدیلی نہ آئے اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی قیادت کو قبول نہ کیا جائے۔
قوم کی تعمیر میں نوجوانوں اور طلبا کی آواز اہم
دہلی یونیورسٹی کی سکریٹری اور AISA سے وابستہ مسز انجلی نے قوم کی تعمیر میں نوجوانوں اور طلبا کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کے مسائل، خصوصاً تعلیم، روزگار و مواقع اور جمہوری شرکت سے متعلق امور پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو قومی مباحثے میں زیادہ مؤثر اور با وقار جگہ دی جانی چاہیے کیونکہ ملک کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بنیادی تعلیم کو قومی ترقی کی بنیاد بنایا جائے
دہلی یونیورسٹی کی سابق پروفیسر اور فورم کی مجلسِ عاملہ کی رکن پروفیسر نندیتا نارائن نے قوم کی تعمیر میں تعلیم کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خاص طور پر پرائمری تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں موجود خلا کو دور کیے بغیر قومی ترقی کی مضبوط بنیاد قائم نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تعلیم کو قومی ترقی کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
’’خواتین کے لیے، خواتین کے ذریعے‘‘ کے روایتی تصور سے آگے بڑھنے کا عزم
ساؤتھ ایشین انٹیگریٹڈ نیوز نیٹ ورک کی ایڈیٹر اور فورم کی میڈیا ایڈوائزر بنی یادیو نے فورم کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین امن، ہم آہنگی، انصاف اور قوم کی تعمیر کے مشترکہ عزم کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ فورم کا دائرہ کار صرف روایتی تصور ’’خواتین کے لیے، خواتین کے ذریعے اور خواتین کا‘‘ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ یہ معاشرے کے مختلف شعبوں میں موجود خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں پُر کرنے کی کوشش کرے گا۔
بنی یادیو نے اقوامِ متحدہ کے 17 پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اور 2030 تک ان کے حصول کے ہدف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اہداف میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچہ، ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسائل محض عالمی پالیسیوں کے موضوع نہیں بلکہ عام انسان کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں اور اکثر ان کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں، طبقات اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک مشترکہ کوشش کے لیے آگے آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کی جدوجہد دراصل پوری انسانیت کی جدوجہد ہے۔
امن کی علامت کبوتر، فورم کے لوگو کی رونمائی
تقریب کے دوران امن و ہم آہنگی کے لیے قومی خواتین فورم کا لوگو بھی جاری کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق لوگو میں خواتین کے ہاتھوں کو ایک کبوتر کو تھامتے اور پھر آزاد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ علامت خواتین کو امن کی علم بردار اور پیش رو کے طور پر پیش کرتی ہے، جب کہ کبوتر کو آزاد کیا جانا اس اجتماعی خواہش کی علامت ہے کہ امن کا پیغام معاشرے میں بلند سے بلند تر سطح تک پہنچے اور ہر طبقے تک پھیلے۔
لوگو کی رونمائی کے بعد مہمانِ خصوصی اور اعزازی مہمانوں کی تہنیت کی گئی۔
’’خیالات کو عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا‘‘
پروگرام کے اختتام پر فورم کی جنرل سکریٹری ڈاکٹر رابعہ بصری نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ انہوں نے مہمانوں، مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فورم محض خیالات اور مباحث تک محدود نہیں رہے گا بلکہ انہیں بامعنی عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امن، انصاف، شمولیت، انسانی وقار اور خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنا فورم کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
افتتاحی تقریب نے اس نئے فورم کے بنیادی خدوخال بھی واضح کر دیے ہیں۔ NWFPH کا مقصد مختلف آوازوں، تجربات اور سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے معاشرے کے بنیادی مسائل پر مشترکہ اور پائیدار اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ جامع قیادت، انصاف، خواتین کی شرکت، امن، سماجی ہم آہنگی اور قوم کی تعمیر اس کے مرکزی اہداف قرار دیے گئے ہیں۔
یوں نئی دہلی میں قائم ہونے والا یہ فورم محض خواتین کی ایک تنظیم کے طور پر نہیں بلکہ مختلف طبقات اور شعبوں کو ساتھ لے کر امن، انصاف اور شمولیت پر مبنی معاشرتی تبدیلی کے لیے ایک وسیع اجتماعی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے۔
امن و ہم آہنگی کے لیے قومی خواتین فورم کا آغاز

نئی دہلی میں متنوع شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کا اجتماع

