ہرمز کی کشیدگی نے عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا۔خلیج میں جنگ کی آگ، تیل، تجارت اور امن سب داؤ پر
مغربی ایشیا میں دوبارہ جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ایران پر سو سے زائد مقامات پر حالیہ حملوں نے اس خطے میں ایک بار پھر شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حالات اتنے ابتر ہو گئے ہیں کہ ٹرمپ اب ایران کے چوٹی کے رہنماؤں کو مریض بتانے لگے ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی امن گفتگو کو وقت کی بربادی قرار دینے لگے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہوئے بھی نہیں تھکتے کہ ایران بات چیت کے لیے گڑگڑا رہا ہے۔
اصلاً امریکہ یہ چاہتا ہے کہ وینزویلا کی طرح ایران کے تیل کے کنوؤں پر قابض ہو کر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر لے، مگر اس کے تمام منصوبوں پر ایرانیوں نے پانی پھیر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو ایرانیوں کے کنٹرول سے نکالنے کے لیے وہ غنڈہ گردی پر اتر آیا ہے۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ اس مسئلے کا کوئی آسان حل نکل آئے اور وہ امریکیوں کو جنگ جیتنے کی خبر دیں۔ مگر یہ اب ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ تہران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کر رکھا ہوا ہے۔
چونکہ جنگی جرائم کی ابتدا امریکہ نے کی تھی اس لیے ایران کی خواہش ہے کہ وہ جنگی نقصانات کی تلافی آبنائے ہرمز سے کرے۔ امریکہ ہمیشہ جنگجویانہ مہم کے تحت سوچ کر ہی جہاز بھیجتا رہا ہے تاکہ دنیا بھر میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں کرے اور دنیا کو یہ بتا سکے کہ وہ آبنائے ہرمز سے اپنے جہاز گزار سکتا ہے۔ مگر ایران نے امریکی جہازوں پر حملہ کر کے اپنے ارادوں کی وضاحت کر دی جس سے امریکہ اپنا آپا کھو بیٹھا۔
دنیا جان گئی کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ تقریباً چار چوٹی کے افسروں کی شہادت کے باوجود ایران کے قدموں میں جنبش پیدا نہیں ہوئی، بلکہ وہ مزید ثابت قدم رہا۔ دنیا نے دیکھا کہ نسل کش اسرائیل اور امریکہ نے پہلے ہی حملے میں 165 معصوم بچیوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا، اس کے باوجود ایران سرخ رو ہوا۔ امریکہ یہ جنگ ہار گیا، اگرچہ ٹرمپ ایران کی پوری تہذیب کو ختم کرنے کا اعلان بارہا کرتے رہے۔
ایران بھی جنگی تباہی کی وجہ سے جنگ کے طویل ہونے سے بچنا چاہتا ہے۔ ادھر چار روز سے جاری جنگ میں امریکہ نے 300 سے زائد مقامات پر بمباری کی۔ اس نے نہ پلوں کو بخشا، نہ واٹر پلانٹس کو، اور نہ ہی تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کو تباہ کرنے سے باز آئے۔ ایران نے بھی کل ہی ان چھ خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا، جن میں عمان (ایران کا حلیف) بھی شامل ہے، جہاں امریکی اڈے موجود تھے۔ کویت پر حملے میں ایک امریکی فوجی مارا گیا۔
امریکہ کو ایرانی فوجی قوت کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ آج بھی ایران کے پاس مختلف اقسام کے میزائلوں اور ڈرونز کا بھرپور ذخیرہ موجود ہے۔ مگر جنگ سے دونوں کو بھاری نقصان پہنچے گا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اقتصادی مراکز کو تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود جنگ ختم ہونی ہی چاہیے۔ جنگ تو جنگ ہے، ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔
ٹرمپ کو اسرائیل کی خوش نودی کو ترک کرکے اسی امن معاہدے کو آگے بڑھانا ہوگا جو اس نے ایران کے ساتھ کیا تھا، جس میں یہ وضاحت کی گئی تھی کہ آبنائے ہرمز اور بحری آمد و رفت کی فیس کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔ اب اس مسئلے کو گفت و شنید کے ذریعے سلجھایا جائے تو بہتر ہے، ورنہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی صورت میں پوری دنیا اقتصادی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
ہار جیت کے مسئلے میں الجھے بغیر امریکہ و اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تمام ممکنہ نقصانات کے باوجود ایران کو جھکانا ممکن نہیں ہے۔ امریکہ نے اپنے بڑے بڑے جنگی جہازوں کو اس جنگ سے دور ہی رکھا ہے، کیونکہ ایران اپنے میزائلوں سے ان جنگی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
توقع یہی کی جا رہی ہے کہ یہ حالیہ جنگ گزشتہ چالیس روزہ جنگ کی طرح خطرناک نہیں ہوگی، کیونکہ ٹرمپ ایک طرف اپنے آپ کو امن کا پیامبر بنا کر پیش کریں گے۔ل اور دوسری طرف جنگ کر کے بھی وہ امن کے نوبل انعام کے دعویدار بننا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اسٹیٹس مین کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ پہلے جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اور پھر اسے ٹھنڈا کرکے امن کا علم بردار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک اور معاملہ جو ٹرمپ کے سامنے ہے وہ درمیانی مدت کے انتخابات ہیں جو نومبر میں متوقع ہیں۔ اگر ٹرمپ کو میدانِ جنگ میں شکست ہوئی تو نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ان کا بیڑہ غرق ہونا طے ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول سے امریکیوں کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے اور ٹرمپ نے امریکہ کو ایک جنگ میں پھنسا دیا ہے۔ ایک ہارا ہوا جنرل درمیانی مدت کے انتخابات میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں میں شکست کھا سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں جنگ کی وجہ سے امریکہ میں مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے، اس لیے ٹرمپ کے پاس بات چیت کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔
دوسری طرف امریکہ پر پڑنے والے بوجھ کی بات کی جائے تو حالیہ جنگ میں امریکہ نے ایک ہزار سے زائد کروز میزائل اور پندرہ سو سے زائد ایئر ڈیفنس میزائل خرچ کیے۔ اتنی بڑی مقدار میں اسلحے کی پیداوار بحال کرنے میں اسے کئی سال لگ جائیں گے۔ پینٹاگون نے گزشتہ دنوں ہتھیاروں کی پیداوار بحال کرنے کے لیے 29 ارب ڈالر کے بجٹ کا مطالبہ کیا تھا جو موڈیز اینالائسس کے مطابق 32 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی بیسوں کے 20 اڈوں اور 42 جنگی جہازوں کی مرمت کا خرچ شامل نہیں ہے۔ امریکہ پر اس جنگ کی وجہ سے ایک ہزار ارب ڈالر کا معاشی بوجھ پڑنے کے آثار ہیں، جس میں سے 300 ارب ڈالر کی رقم ایم او یو کے مسودے کے مطابق ایران کی تعمیرِ نو سے منسلک ہے۔ یاد رہے کہ اس جنگ میں 13 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکہ کی مسلط کردہ اس جنگ کے باعث نہ صرف دنیا بھر میں بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا، یہاں تک کہ ٹرمپ کے لیے نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر بل کینیڈی نے بھی موجودہ ایم او یو کو امریکی خارجہ پالیسی کی دہائیوں کی سب سے بڑی بھول قرار دیا ہے۔
دوسری طرف ایران کے خلاف اسرائیلی شیطان کی جنگی مہم کو انجام تک پہنچنے سے پہلے ختم کر دینے کی وجہ سے امریکی۔ یہودی لابی بھی ناراض ہے جس کے بل بوتے پر امریکی صدور صدارتی کرسی تک پہنچتے آئے ہیں۔
ہمارا ملک امریکہ-ایران جنگ میں ملوث نہ ہونے کے باوجود اس جنگ سے پیدا ہونے والے سماجی اور معاشی نقصانات کا سامنا کر رہا ہے اور آئے دن ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ابھی معلوم نہیں کہ اس جنگ کی تپش کب تک برداشت کرنی ہوگی۔ اس جنگ نے ملک کی معیشت کو گہری چوٹ پہنچائی ہے، ساتھ ہی سیاسی مغالطوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بغور دیکھا جائے تو یہ جنگ چہار رخی ہے، کیونکہ ایران کو اپنے تیل کے وسائل اور تجارتی شاہراہوں سے متعلق اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ایران کے قریب واقع تیل سے مالا مال ممالک میں امریکہ نے اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، جس سے ایران کو محسوس ہوتا ہے کہ عرب ممالک کے توسط سے امریکہ اس کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر سکتا ہے، کیونکہ ٹرمپ ناقابلِ بھروسا بن چکے ہیں وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی بات بدلتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا سمجھوتا بھی بھروسے کی کسوٹی پر پورا نہیں اتر سکا۔
دونوں فریق آبنائے ہرمز کو ہتھیار بنا کر ایک دوسرے کو چت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز پر اسی طرح زور آزمائی جاری رہی تو چند ہی دنوں میں خلیجی ممالک کی تیل کی تجارت پر اس کے منفی اثرات نمایاں ہونے لگیں گے۔
دوسری طرف باب المندب پر ایران نواز حوثی جنگجوؤں کا قبضہ ہے، جس سے ایران کو ایک طرح کی بالا دستی حاصل ہے۔ مگر دوسری جانب عرب دنیا کے سینے میں اسرائیلی صہیونی کینسر کا پھوڑا بھی موجود ہے، جسے یہ اندیشہ ہے کہ عربوں کا اتحاد اس کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
تیل کی برآمدات کا بے تاج بادشاہ بننے کی خواہش کے تحت امریکہ کو لگتا ہے کہ خلیجی ممالک کے پاس تیل کے بے پناہ ذخائر تو موجود ہیں مگر نہ ان کے پاس ان کے مؤثر انتظام کا ہنر ہے اور نہ ہی وہ اپنے دفاع کی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ٹرمپ کے ذہن پر یہ خبط سوار ہے کہ امریکہ کو معاشی اور سیاسی طور پر عظیم بنانے کے لیے خلیجی ممالک کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس منصوبے کی راہ میں ایران ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کی یہ بھی خواہش ہے کہ ایران کسی نہ کسی طرح افزودہ (Enriched) یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے جو بظاہر ممکن نہیں ہے۔
جہاں تک بھارت کا تعلق ہے وہ اس جنگ میں کسی بھی فریق کا حامی بننا نہیں چاہتا کیونکہ توانائی کی سلامتی اور اس کے استحکام کے لیے متحدہ عرب امارات اور خلیج کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات ہیں، وہ چاہتا ہے کہ اس خطے سے گزرنے والے کنیکٹیویٹی منصوبوں اور یہاں موجود اس کی سرمایہ کاری کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ جس طرح چاہ بہار بندرگاہ کے معاملے میں احتیاط برتی گئی اسی طرح امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ بھارت کے تعلقات اعتدال پر قائم رہیں تو بہتر ہوگا۔
ٹول کے حوالے سے بیان بازی کرتے ہوئے ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کے بعد کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے بیس فیصد ٹول وصول کرے گا مگر بعد میں وہ اپنے اس بیان سے مکر گئے۔ اس پر ایران نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ کے مقابلے میں کم ٹول وصول کرے گا۔ اس کا اثر غریب ممالک اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک پر نہایت منفی پڑ سکتا ہے۔
ہمارا ملک پہلے ہی تیل اور گیس کی مہنگائی، نیز کھاد (فرٹیلائزر) کی قلت کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے غذائی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ دونوں شیطانی ممالک کی جانب سے فروری کے اواخر میں ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد امریکہ سمیت پوری دنیا میں مہنگائی بڑھنے لگی ہے۔ بھارت میں شرحِ مہنگائی سترہ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ گزشتہ روز خام تیل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ سیاسی خطرات کا تجزیہ کرنے والی کنسلٹنسی فرم یوریشیا گروپ کا دعویٰ ہے کہ اگر جنگ کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھی تو آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آ جائے گی جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
امریکہ۔ایران جنگ، غریب اور ترقی پذیر ممالک کی تشویش میں اضافہ

جنگ کا بڑھتا دائرہ، معیشت سے سیاست تک ہر محاذ متاثر۔ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی، امریکہ پر ہی بھاری؟

