میکراں کا سوال اور دنیا کی خاموشی۔ تقریروں کے جواب میں سفارتی دباؤ
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں فرانس، چین، آئرلینڈ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے غزہ کی تباہی، فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے حق میں مؤثر آواز اٹھائی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی واضح کیا کہ اسرائیل اور فلسطین کی 1967 سے پہلے کی حدود پر دو خود مختار ریاستیں پائیدار امن کا بنیادی راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غربِ اردن میں آبادکاری، زمین پر قبضے اور بے دخلی کی پالیسیاں ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کو محدود کر رہی ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکراں نے غزہ کی صورتِ حال پر انتہائی جذباتی انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر دنیا غزہ کے المیے پر خاموش اور غیر متحرک رہے گی تو عالمی برادری کی ساکھ کیا رہ جائے گی۔ چینی نائب صدر ہان ژینگ نے فلسطینی خود مختاری اور فلسطینیوں کے ذریعے غزہ کی تعمیر نَو پر زور دیا، جبکہ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر غزہ میں ’’نسل کشی جاری رکھنے‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ لیکن ان تقاریر کے باوجود ایسا کوئی مشترکہ عملی قدم سامنے نہیں آیا جو غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی راہ کھول سکے یا غربِ اردن میں فلسطینیوں کے لیے حقیقی تحفظ پیدا کرے۔ یہی وہ فرق ہے جو تقریر اور پالیسی کے درمیان نمایاں ہوتا ہے۔ جناب گوتریس نے خود کہا کہ فلسطین کی حمایت تقریروں اور قراردادوں سے آگے بڑھ کر پالیسی، فیصلوں اور عملی اقدامات میں تبدیل ہونی چاہیے۔
اس کے برعکس اسرائیل نے بعض یورپی اقدامات کا جواب سفارتی پابندیوں سے دیا ہے۔ نیدرلینڈز کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے بعد اسرائیل نے رملہ میں تعینات ولندیزی (ڈچ) سفارت کاروں کو سات روز میں اسرائیلی جاری کردہ سفارتی دستاویزات واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو: دو مختلف تقریریں، ایک دفاعی بیانیہ
صدر ٹرمپ کی تقریر، 7 اکتوبر 2023 کے واقعے کی مذمت اور غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنی تعریف تک محدود رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزام میں مقتدرہ فلسطین (PA) کے سربراہ محمود عباس کو جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ برس بھی محمود عباس کو ویزا نہیں دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی تقریر اس سے بھی زیادہ دفاعی اور جارحانہ لہجے میں تھی۔ ان کی تقریر شروع ہونے سے قبل جب ستر کے قریب وفود ایوان سے باہر چلے گئے تو نیتن یاہو نے باقی ماندہ مندوبین کو بھی ’’اخلاقی بزدل‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو ’’حقِ دفاع‘‘ اور نسل کشی کے الزام کو ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا۔ ان کے خطاب کا بڑا حصہ اسرائیل کے دفاع اور ایران، قطر و ترکیہ کے خلاف دلائل پر مشتمل تھا۔ نیتن یاہو کی تقریر کے دوران اقوامِ متحدہ کے ہیڈکواٹر کے باہر بھی زبردست مظاہرہ ہوا۔ غیر قانونی دھرنے کے الزام میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن اور ایمی ایوارڈ یافتہ ہنا آئن بائنڈر سمیت کم از کم تیس افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
تاریخ اور موجودہ سیاست
نیتن یاہو نے گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے کہا کہ یہودی وہاں حضرت موسیٰؑ کے زمانے سے موجود رہے ہیں۔ قدیم اسرائیلیوں اور یہودا/یہودی شناخت کی تاریخ ایک پیچیدہ علمی موضوع ہے۔ ’’اسرائیلی‘‘، ’’بنی اسرائیل‘‘، ’’یہودا‘‘ اور ’’یہودی‘‘ کی اصطلاحات مختلف تاریخی ادوار میں مختلف معنوں میں استعمال ہوئی ہیں۔ اس لیے قدیم مذہبی یا تاریخی وابستگی کو موجودہ سیاسی حاکمیت کا براہِ راست ثبوت قرار دینا ایک الگ سیاسی و قانونی دعویٰ ہے۔
اسی طرح نیتن یاہو نے 1967 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسرائیل غربِ اردن، غزہ اور گولان میں موجود نہیں تھا اور جنگ کے نتیجے میں وہ ان علاقوں تک پہنچا۔ لیکن جدید بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے کسی علاقے پر قبضہ اس کی قانونی ملکیت منتقل نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ بھی مسلسل دو ریاستی حل کو 1967 سے پہلے کی حدود کی بنیاد پر پیش کرتی ہے۔
زمین پر تقریروں کا جواب
اقوام متحدہ میں امن اور دو ریاستی حل کی آوازوں کے باوجود غزہ اور غربِ اردن میں تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔ غزہ میں 24 ستمبر کو ایک اسرائیلی فوجی FPV ڈرون ’’عَطَلَف‘‘، یعنی چمگادڑ، فوجی اڈے کے اندر گر کر پھٹ گیا، جس سے دو اسرائیلی ریزرو فوجی ہلاک ہوئے۔
غربِ اردن کی صورتِ حال بھی تشویش ناک ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں 82 فلسطینی جاں بحق اور تقریباً 1900 زخمی ہوئے۔ آبادکاروں کے حملوں سے فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اوسط اس سال یومیہ تین سے زیادہ  رہی۔ اسی عرصے میں آبادکاروں کے 1600 سے زیادہ ایسے حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں فلسطینیوں کو بھاری جانی یا مالی نقصان پہنچا ہے۔
گھر چھن جائے، وطن نہیں
تشدد، بے دخلی اور آبادکاری کے باوجود بہت سے فلسطینی اپنا علاقہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ تلکرم کی خدیجہ کا گھر قبضہ گردوں نے چھین لیا تو اس نے سایہِ دیوار کو اپنا نیا ٹھکانہ بنا لیا۔ یہ واقعات اس حقیقت کی علامت ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے گھر صرف ایک عمارت نہیں بلکہ زمین اور وطن سے تعلق بھی ان کی شناخت کا حصہ ہے۔
الخلیل سے الاقصیٰ تک
الخلیل میں مسلح قبضہ گردوں کے ہاتھوں فلسطینی خواتین کی ہراسانی کی تصویر شائع ہوئی ہے۔ اسی دوران فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے تشدد کا بصری تراشہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ پر عام ہوا۔ انتہائی حساس قید خانے میں یہ فلم بندی فوج کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور سیاسی کارکنوں کا خیال ہے کہ فلسطینیوں کوخوفزدہ کرنے کے لیے قیدیوں پر تشدد کے یہ تراشے خود اسرائیلی فوج جاری کرتی ہے۔ مسجد اقصیٰ میں در اندازی کے واقعات بھی جاری ہیں۔ ستمبر کے آخری سبت (26 ستمبر) کو ایک ہزار کے قریب انتہا پسند یہودی مسجد کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اس دوران سارا یروشلم ہمارا ہے، مسجد اقصیٰ کو مکہ منتقل کرو کے لگائے گئے۔
انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز تقاریر میں عرب نمائندگی کا سوال
فلسطین کا مسئلہ اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ انتہا پسند جماعت کے سربراہ اور وزیر خزانہ بیزلیل اسموترچ نے ایک جلسے میں فوج سے مطالبہ کیا کہ غرب اردن میں بمباری سمیت غزہ کی طرح بھرپور عسکری کاروائی کی جائے۔ عام انتخابات میں بھی عربوں سے متیازی سلوک واضح نظر آرہا ہے۔ بدھ 23 ستمبر کو اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی نے عرب اکثریتی جماعت رعم (Ra'am) اور جوائنٹ لسٹ (Joint List) کو 27 اکتوبر کے انتخابات میں حصہ لینے کی قراداد پیش کی ہے۔ فیصلے کے لیے ہونے والی سماعت میں وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے نکتہ اٹھایا کہ ان جماعتوں کے نمائندے اجلاس کے لیے خطرے کا سبب بن سکتے ہیں چنانچہ الیکشن کمیشن نے ان جماعتوں کو اپنا موقف مجازی (online) بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔ رعم نے آن لائن آنے سے انکار کر دیا جبکہ بلد کے سربرہ سمیع ابو شہادہ نے کمیشن سے مواصلاتی خطاب کیا جس کے بعد سیاسی جماعتوں نے پانچ کے مقابلے میں اٹھارہ ووٹوں سے عرب متحدہ محاذ اور رعم کو انتخابات کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔ تاہم، یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے اور جماعتوں کو اپیل کا حق حاصل ہے۔
زیتون کا درخت: ایک علامت
فلسطینی زمین کی شناخت سمجھی جانے والی زیتون کی فصلوں کو اجاڑنے اور پودے اکھاڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہونے والی تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ کئی جگہ اس کام کے لیے فوجی بلڈوزر استعمال ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم کی نیویارک آمد پر رئیسِ شہر زہران ممدانی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ایک فلسطینی خاندان کے ہاتھوں زیتون کا پودا لگوایا۔ ایک طرف درخت اکھاڑنے کا منظر ہے اور دوسری طرف درخت لگانے کا عمل؛ شاید یہی دو متضاد تصویریں آج فلسطین کے مستقبل کی دو مختلف سمتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس سال فلسطین کے حق میں آوازیں پہلے سے زیادہ بلند دکھائی دیں۔ دو ریاستی حل، فلسطینی خود مختاری اور غزہ کی تعمیر نَو پر عالمی اتفاقِ رائے بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔ لیکن جب زمین پر آباد کاری، بے دخلی، گرفتاری اور تشدد کا سلسلہ جاری رہے تو قراردادیں اور تقاریر اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔ فلسطین کے مسئلے کا فیصلہ تقریروں سے نہیں بلکہ عملی پالیسی، بین الاقوامی قانون کے احترام اور شہریوں کے تحفظ سے ہوگا۔ دنیا اگر واقعی دو ریاستی حل کو امن کا راستہ سمجھتی ہے تو پھر صرف اقوام متحدہ کے ایوان میں اس کا ذکر نہیں بلکہ زمین پر اس کے لیے راستہ بھی بنانا ہوگا۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com