بنگلورو سیرت کانفرنس میں مذہبی رہنماؤں نے علم، رحم، مساوات اور انسانی اخوت کو مشترکہ پیغام قرار دیا
انقلاب ہمیشہ اقتدار کی تبدیلی، سیاسی کشمکش یا نظام کی شکست و ریخت کا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک انقلاب وہ بھی ہے جو انسان کے ذہن سے شروع ہو، اس کے باطن کو بدل دے، خواہشات کو علم و شعور کے تابع کرے، کردار کی تعمیر کرے اور پھر اسی بدلے ہوئے انسان کے ذریعے سماج میں عدل، رحم، مساوات اور انسانی وقار کی بنیادیں مضبوط کرے۔ چنانچہ جماعت اسلامی ہند، یشونت پور کے زیر اہتمام جے پی پارک گراؤنڈ، متھیکیرے میں منعقدہ سیرت کانفرنس ’’پیغمبر محمد ﷺ: انقلاب کے علمبردار‘‘ میں سیرتِ رسولؐ کے اسی پہلو کو مختلف مذہبی، سماجی اور فکری پس منظر رکھنے والے مقررین نے اپنے اپنے انداز میں نمایاں کیا۔ یہ کانفرنس 26 اگست تا 6 ستمبر تک جاری رہنے والی سیرت مہم 2026 کے آغاز کے موقع پر منعقد ہوئی۔
اس پیغام کی پہلی اور شاید سب سے مؤثر ترجمانی تقریروں سے پہلے صبح منعقدہ سیرت ماڈل نمائش میں ہوئی۔ نمائش کا مرکزی تصور قرآن کی پہلی وحی ’’اقرأ — پڑھو‘‘ سے اخذ کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ نبوی انقلاب کا نقطہ آغاز علم ہے۔ علم انسان کی خواہشات، جذبات اور اعمال کی رہنمائی کرے تو زندگی سنورتی ہے لیکن جب علم و شعور پس منظر میں چلے جائیں اور خواہشات انسان پر غالب آجائیں تو فرد سے لے کر پورا سماج بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ مختلف ماڈلس میں تزکیہ نفس، اخلاقی اصلاح، عدل اور معاشی استحصال جیسے موضوعات کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سودی نظام کے اثرات دکھانے والے ایک ماڈل میں مکان، تعلیم، علاج اور دوسری ضروریات کے لیے لیے گئے قرضوں میں جکڑے انسان کی بے بسی کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا تھا۔
نمائش کا افتتاح امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک ڈاکٹر محمد سعد بلگامی نے کیا۔ اسی موقع پر منعقدہ کتاب میلے کا افتتاح ناظم بنگلورو میٹرو انجینئر ہارون صفدر نے کیا، جہاں سیرتِ رسول ﷺ سے متعلق کتابوں کے ساتھ اسلامی لٹریچر اور خصوصاً بچوں کے لیے کتابوں کا قابل ذکر ذخیرہ رکھا گیا تھا۔ یوں ’’اقرأ‘‘ کا پیغام صرف نمائش کے ایک ماڈل تک محدود نہیں رہا بلکہ کتاب اور مطالعے کو بھی مہم کا عملی حصہ بنایا گیا۔
شام کے جلسہ عام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کرنے والوں میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شامل تھیں۔ وشوا کلیان مشن، بسوا گنگوتری اسپریچول سنٹر، کمبالاگوڈو کے سدگرو شری بسوا یوگی سوامی جی نے نفرت، تکبر اور ذات پات کی تقسیم کو موجودہ سماج کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہب کا حقیقی پیغام انسانوں کو قریب لانا ہے۔ انہوں نے حضرت محمد ﷺ اور بسوانا کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی اخوت، مساوات اور باہمی احترام پر زور دیا۔ ان کے مطابق فرد اپنے باطن کی اصلاح کیے بغیر سماج کی حقیقی اصلاح نہیں کر سکتا۔ انہوں نے موجودہ دنیا میں جنگ، کشیدگی اور بالادستی کی خواہش کو بھی انسانی تکبر سے جوڑا اور کہا کہ نفرت کے بجائے انسانوں کو جوڑنے والی فکر کی ضرورت ہے۔
سینٹ جوزف ملنکارا کیتھولک چرچ، متھیکیرے کے پیرش پریسٹ ریورنڈ فادر ہینس جان نے اپنی گفتگو کو انسانیت اور رحم دلی کے گرد مرکوز رکھا۔ ان کی قینچی اور سوئی کی مثال نے ایک بڑے سماجی مسئلے کو نہایت سادہ انداز میں واضح کیا۔ قینچی زیادہ قیمت کی ہونے کے باوجود چیزوں کو کاٹتی ہے، جبکہ معمولی قیمت کی سوئی الگ الگ ٹکڑوں کو جوڑ دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب اور مذہبی انسان کو سوئی کی طرح سماج کو جوڑنے والا بننا چاہیے، نہ کہ ذات پات، تعصب اور نفرت کی قینچی بن کر انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا چاہیے؟
فادر ہینس جان نے انسانیت اور کرُونا (رحم دلی) کو اپنی گفتگو کا محور بناتے ہوئے کہا کہ محض انسان کی صورت میں پیدا ہوجانا کافی نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں انسان بننا ضروری ہے۔ دوسرے انسان کے دکھ کو محسوس کرنا، اس کے جذبات کو سمجھنا، اس کا احترام کرنا اور ضرورت کے وقت اس کے کام آنا ہی انسانیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کی اصل تعلیم انسان کے اندر اسی رحم، محبت اور انسان دوستی کو پروان چڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا "میں نے حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں انسانیت اور رحم دلی کے انہی پہلوؤں کو پایا اور اپنی گفتگو میں آپ کے سامنے انہیں بیان کرنے کی کوشش کی ہے"
سکریٹری حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک محمد یوسف کنی نے اپنے خطاب میں حضرت محمد ﷺ کو ’’انقلاب کے علمبردار‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہوئے نبوی انقلاب کے سماجی پہلو کو نمایاں کیا۔ انہوں نے شراب، سود، منشیات اور اخلاقی بے راہ روی جیسی برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف احکام اور سزاؤں کے ذریعے معاشرہ تبدیل نہیں کیا بلکہ انسان کے اندر وہ اخلاقی شعور پیدا کیا جو اسے خود برائی سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ مدینہ میں شراب کی حرمت کے حکم کے بعد لوگوں کا اسے کسی پولیس اور جبری کارروائی کے بغیر ترک کر دینا اسی داخلی انقلاب کی ایک نمایاں مثال ہے۔
محمد یوسف کنی کے خطاب کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ سماجی برائیوں کے خلاف صرف قانون کافی نہیں ہوتا۔ قانون کی اپنی اہمیت ہے لیکن جب تک انسان کا ضمیر زندہ نہ ہو اور اس کے اندر اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس پیدا نہ ہو، برائیاں نئی شکلوں میں واپس آتی رہتی ہیں۔ سیرتِ رسول ﷺ نے انسان کو خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس دے کر اس کے کردار کو بدلا اور اسی کردار کی تبدیلی سے ایک نیا سماج وجود میں آیا۔ انہوں نے مختلف مذہبی روایات میں بھی نشہ، استحصال اور اخلاقی برائیوں کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں مشترکہ انسانی جدوجہد کا میدان قرار دیا۔
معروف کنڑ ادیب یوگیش ماسٹر کی گفتگو نے سیرت کے ایک نسبتاً مختلف پہلو کو سامنے رکھا۔ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو انسانی ذہن اور جذبات کی تربیت کا ایک مؤثر نظام قرار دیا۔ ان کے نزدیک سیرت کو صرف واقعات کے مجموعے کے طور پر پڑھنے کے بجائے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ رسول انسان کے ذہن، ردعمل اور رویے کو کس طرح تربیت دیتے ہیں۔
انہوں نے اس نبوی تعلیم کا حوالہ دیا کہ طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ یوگیش ماسٹر نے کہا کہ مسلمان کو بھی غصہ آتا ہے، ہندو، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی؛ اس لیے غصے اور تشدد کو مذہب کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے انسانی ذہن اور اس کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بسوانا اور بدھ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف روحانی روایات انسان کو اپنے غصے، نفرت اور منفی جذبات پر قابو پانے کی دعوت دیتی ہیں۔
یوگیش ماسٹر نے اپنی کنڑ تصنیف ’’ننا اریوِنا پراوادی‘‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حضرت محمد کو سمجھنے کے لیے ان کی تعلیمات کو انسانی زندگی کے عملی مسائل سے جوڑ کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی تحریر کردہ کنڑ نعت کے چند اشعار پیش کرکے اپنی گفتگو مکمل کی۔
جلسے کا دعوتی اور فکری حاصل مفکر و خطیب اکبر علی اڈپی کی گفتگو میں زیادہ واضح ہوکر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کو محض مسلمانوں کا پیغمبر سمجھ لینا خود آپ کے پیغام کو محدود کردینے کے مترادف ہے۔ قرآن آپ کو رحمۃ للعالمین قرار دیتا ہے اور آپ کی زندگی کو انسانوں کے لیے بہترین نمونہ بتاتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کی ذمہ داری صرف خود سیرت پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اسے پوری انسانیت کے سامنے اس کے حقیقی، عالمگیر تناظر میں پیش کرنا بھی ہے۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ آپ نے اپنی پوری زندگی میں شخصیت پرستی اور اپنے بارے میں غیر معمولی تصورات کو پنپنے نہیں دیا۔ اپنے صاحبزادے کی وفات کے دن سورج گرہن ہونے پر جب بعض لوگوں نے دونوں واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑنا چاہا تو آپ نے فوراً اس خیال کی تردید کی اور واضح کیا کہ سورج اور چاند کسی انسان کی موت یا پیدائش کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے۔ یہ واقعہ ایک طرف توہم پرستی کی نفی کرتا ہے تو دوسری طرف یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کو غیر ضروری تقدس اور فوق البشر تصورات سے محفوظ رکھا۔
اکبر علی اڈپی نے آخرت کے تصور کو انسانی زندگی کی ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو تقریباً نو ماہ ماں کے پیٹ میں ایک مرحلۂ زندگی سے گزارتا ہے اور پھر وہاں سے اسے اس دنیا میں بھیجتا ہے۔ جس طرح ماں کا پیٹ انسان کی آخری منزل نہیں تھا، اسی طرح یہ دنیا بھی اس کے سفر کی آخری منزل نہیں ہے۔ یہاں کی زندگی پوری ہونے کے بعد انسان کو ایک دوسری دنیا کی طرف سفر کرنا ہے، جہاں اسے اس زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انسان بہت سی حقیقتوں کا انکار کرسکتا ہے، لیکن موت کا انکار نہیں کرسکتا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ایک بنیادی محور انسان کو ایسا اچھا انسان بنانا ہے جو اپنے پروردگار کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارے، نیکی اور انصاف کی راہ اختیار کرے اور جس کے لیے پروردگار کی طرف سے آخرت میں جنت کے انعام کا وعدہ ہے۔
جلسے کی نظامت نواز نے رواں اور مؤثر کنڑ زبان میں کی۔ اختتام پر امیر مقامی سہیل احمد نے مہمانوں، مقررین، شرکاء، رضاکاروں اور پروگرام کو کامیاب بنانے میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔
بنگلورو کی اس سیرت کانفرنس میں مختلف پس منظر رکھنے والے مقررین کی گفتگو کے موضوعات الگ تھے، مگر ان سب کے درمیان ایک مشترک رشتہ نمایاں تھا: انسان کو اندر سے بدلنا۔ کسی نے اسے علم کہا، کسی نے رحم و انسانیت، کسی نے غصے پر قابو پانے کی تربیت، کسی نے عدل و جواب دہی اور کسی نے انسانی اخوت سے تعبیر کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صبح کی نمائش کا ’’اقرأ‘‘ شام کے جلسے کے پیغام سے جڑ گیا۔
سیرت کا انقلاب انسان کو محض یہ نہیں بتاتا کہ دنیا میں کیا غلط ہے، بلکہ یہ سوال اس کے اپنے سامنے رکھتا ہے کہ وہ خود کتنا بدلنے کے لیے تیار ہے۔ علم خواہش کی رہنمائی کرے، ایمان ضمیر کو بیدار کرے، ضبطِ نفس کردار کو سنوارے اور رحم و عدل انسان کے تعلقات کی بنیاد بنیں تو فرد کی اصلاح سماجی تبدیلی کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔ ’’اقرأ‘‘ سے شروع ہونے والا یہی سفر سیرت کو تاریخ کے ایک روشن باب سے نکال کر آج کے انسان اور آج کے سماج کے لیے ایک زندہ دعوت بنا دیتا ہے۔
اقرأ سے انقلاب تک : سیرتِ رسولؐ کا زندہ پیغام

سیرتِ رسولؐ آج کے انسانی معاشرے کے لیے مؤثر دعوتِ عمل

