اکھلیش یادو کی اعظم خان سے جیل میں ملاقات، یو پی میں اویسی کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ
دلی میں ریس کورس کی تاریخی مسجد پر خطرات کے بادل، پانی بجلی کٹنے کے بعد قانونی چارہ جوئی جاری
مدھیہ پردیش میں بی جے پی رکن اسمبلی کی متنازعہ اپیل، ہندو خاندانوں سے بچوں کو مدرسوں اور کانوینٹ اسکولوں سے نکالنے کا مشورہ
ووٹر فہرستوں میں گڑبڑی کا معاملہ اب صرف سیاسی بیان بازی یا الزامات تک محدود نہیں رہا بات کافی اگے نکل چکی ہے یو پی کے ضلع پیلی بھیت کے صدر اسمبلی حلقہ نمبر 127 کی ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی خبر ثبوت کے مرحلے تک پہنچ گئی ہے۔ یو پی کے چیف الیکٹورل افسر رندیپ رنوا نے ابتدائی جانچ کے بعد دو ایس ڈی ایم اور ایک کمپیوٹر آپریٹر کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہو گئی ہے۔ کانگریس وسماجواری پارٹی کے مقامی لیڈروں اور کارکنوں کے مطابق ووٹر فہرستوں میں گڑبڑی کا کھیل ریاستی وزیر سنجے گنگوار کے اشارے پر کیا گیا۔ سنجے گنگوار پچھلے الیکشن میں تقریبا چھ ہزار ووٹوں سے جیتے تھے جبکہ اسی حلقے میں تقریبا13 ہزار ووٹوں کی فہرستوں میں گڑبڑی کا معاملہ سامنے آیا ہے اس میں اکثریت مسلم ووٹروں کی ہے۔ واضح رہے سنجے گنگوار مسلمانوں کے خلاف کئی بار نفرت پر مبنی بیان دے چکے ہیں اس کے باوجود یوگی کابینہ میں انہیں مملکتی وزیر بنایا گیا ۔
پیلی بھیت میں 24 فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے جبکہ پیلی بھیت پارلیمانی حلقے میں بریلی کا بھیڑی اسمبلی حلقہ بھی شامل ہے۔ جس کی وجہ سے پیلی بھیت کی مسلم آبادی کا تناسب 26 فیصد سے زیادہ ہو جاتا ہے اس کے باوجود پچھلے پارلیمانی انتخابات میں بی جی پی امیدوار جتن پرساد جیت گئے۔ ضلع کی چاروں اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ پیلی بھیت کے مقامی باشندے کافی دنوں سے ووٹر فہرستوں میں ناموں کی گڑبڑی کی شکایت کر رہے تھے تاہم کانگریس پارٹی کی جانب سے 21 اکتوبر کو لکھنو میں پریس کانفرنس کے بعد یہ معاملہ قومی سطح پر شہ سرخیوں میں آگیا اس معاملے کی سی بی ائی جانچ کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اندرونی جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔ ادھر اعظم گڑھ میں وکاس یادو کے دس ووٹوں کے معاملے میں جانچ کے بعد ووٹر فہرستوں کا کام کرنے والے نو ملازمین کو ہٹا دیا گیا ہے ان میں آر او، اے آر او اور بی ایل اوز شامل ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے لکھنو میں پریس کانفرنس کے دوران وکاس یادو کے دس ووٹ ہونے کا دعوی کیا تھا جو جانچ میں درست ثابت ہوا۔
ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس طرح کے معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس اتر اکھنڈ اور جھارکھنڈ میں مسلم اکثریت والے علاقوں میں ایس آئی آر کی گڑبڑیوں کو سامنے لا چکا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کے بعد حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کتنی بڑی سازش چل رہی ہے۔
ایم ایل سی الیکشن کی ووٹر فہرستوں میں گڑبڑی
یو پی میں راجیہ سبھا کے بعد ایم ایل سی کی گیارہ سیٹوں پر انتخابات کروائے گئے ان میں بھی ووٹر فہرستوں کی گڑبڑی سامنے آئی ہے۔ پریاگراج میں ووٹر فہرستوں میں عجیب و غریب نام کی پرچیاں منظر عام پر آئی ہیں ایک ووٹر کی پرچی پر نام کی جگہ لکھا گیا 'رام نے یادو کو مارا" دوسری پر لکھا تھا عرفان علی نے کہا" تیسری پرچی پر لکھا تھا محمد پاگل ریحان, ووٹر فہرستوں میں اس طرح کے نام مذاق کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے اس پر صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگریزی لسٹوں کے ہندی ٹرانسلیشن سے اس طرح کی گڑبڑی ہوئی ہے۔ متعلقہ آر او اور اے آر او سے ان معاملوں میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ایم ایل سی چناؤ میں سرکاری مشینری کے بے جا استعمال کا الزام لگا رہے ہیں۔ ٹیچر ایم ایل سی حلقوں میں نجی کالجوں پر دباؤ بنانے اور دھمکا کر ووٹ حاصل کرنے کی بات بھی سامنے آ چکی ہے۔ ایم ایل سی الیکشن کے دوران آگرہ سے سماج وادی پارٹی کے ٹیچر ایم ایل سی امیدوار آکاش اگروال اتنے دل برداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے اپنا مذیب بدلنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ سناتن والوں سے پریشان ہوکر اگلے ماہ لکھنو میں مذہب بدل لیں گے۔انہوں نے برسر اقتدار جماعت اور انتظامی افسروں پر چناؤ میں دھاندلی کا الزام لگایا۔ وہ کیمرے کے سامنے ہی رو پڑے ۔ان کے مطالبہ پر تین بوتھوں پر دوبارہ ووٹ ڈلواے گئے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی بی جی پی پر ایم ایل سی چناؤ میں کھلی غنڈہ گردی اور دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ایسے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی احتجاجی مہم مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ انڈیا بلاک اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں مسلسل جارحانہ رخ اختیار کیے ہوئے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری و کمیونیکیشن انچارج جے رام رمیش نے یو پی کی ووٹر لسٹ میں غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے پی جے پی کو مدد پہنچائی جا رہی ہے اور یہ منصوبہ بند سازش کے تحت کھیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی کئی معاملے زیر سماعت ہے ۔جمہوریت کو بچانے کے لیے صاف و شفاف انتخابی نظام انتہائی ضروری ہے۔
یو پی میں اویسی کی ریلیاں اور اکھلیش کی اعظم خان سے جیل میں ملاقات۔
یو پی میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کی سیاسی بساط بچھنے لگی ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کے لیے یو پی کے مختلف حلقوں میں لگاتار سیاسی ریلیاں کر رہے ہیں۔ وہ اقتدار میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری کا معاملہ زور و شور سے اٹھا رہے ہیں۔ یو پی میں کانگریس کے ساتھ سماجوادی پارٹی بھی ان کے نشانے پر ہے۔ مغربی یوپی کی ریلیوں میں اویسی نے سماجوادی پارٹی کے سابق وزیر اور سینئر سماجوادی رہنما محمد اعظم خان کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اویسی نے رام پور کے ٹانڈہ قصبہ میں بڑی سیاسی ریلی کر کے کہا اب عبدل کسی کی دری نہیں بچھائے گا۔ ایم آئی ایم مسلم نوجوانوں کو لیڈر بنا کر مسلمانوں کی نئی قیادت کھڑی کرے گی ۔اویسی کا تیر نشانے پر لگا۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو محمد اعظم خان سے جیل میں ملاقات کرنے رام پور پہنچ گئے۔ اکھلیش نے جیل میں ملاقات کے بعد محمد اعظم خان کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ اکھلیش یادو نے اعظم خان سے اپنے خاندانی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے بھروسا دلایا کہ پارٹی انصاف کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر جوہر یونیورسٹی کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ اکھلیش نے کہا بی جے پی کا یونیورسٹی یا تعلیم سےکوئی واسطہ نہیں ہے اس لیے وہ جوہر یونیورسٹی اور اعظم خان کے خاندان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ واضح رہے محمد اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم دوہرے پین کارڈ بنوانے کے معاملے میں رام پور کی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ اس کیس میں انہیں سات سال کی سزا ہوئی ہے جس کے خلاف الٰہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل زیر غور ہے۔ اکھلیش کی اعظم خاں سے ملاقات اور اویسی کی بیانات سے یو پی کا سیاسی پارہ چڑھنے لگا ہے۔ آئندہ انتخابات میں سیکولرزم کا دم بھرنے والی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو کتنی سیاسی حصےداری دیں گی یہ تو ٹکٹ بٹوارے کے بعد ہی پتہ چل پائے گا۔
دلی کی ریس کورس مسجد کا قضیہ
دلی میں وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ لوگ کلیان مارک کے قریب واقع تاریخی ریس کورس مسجد کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اس کے بعد مسجد کی پانی اور بجلی کا کنکشن کاٹ دیا گیا ہے۔ مسجد کے امام ہارون کا کہنا ہے کہ مسجد وقف بورڈ میں درج ہے انہیں بورڈ سے امامت کی تنخواہ بھی ملتی ہے اس کے باوجود مسجد کو سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ بتایا جا رہا ہے۔ مسجد تقریبا 150 سال پرانی ہے۔1977 کے دہلی گزٹ میں مسجد کو وقف آراضی کے طور پر نوٹیفائیڈ کیا گیا ہے مسجد سے متصل قبرستان بھی ہے۔ دلی وقف بورڈ کے سی ای او تنویر احمد نے این ڈی ایم سی اور ایل این ڈی او کو پانی اور بجلی بحال کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ و دیگر کئی مسلم جماعتیں وملی تنظیمی مسجد کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ جمعیت علمائےہند کے ایک وفد نے وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو سے ملاقات کے بعد کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں حکومت سے فوری طور پر نوٹس واپس لینے اور مسجد کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کا مطالبہ کیا ہے۔ بورڈ کے بیان میں بی جے پی کے دور حکومت میں مساجد، مدارس و دیگر مذہبی مقامات کے خلاف کاروائیوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ قاسم رسول الیاس نے کہا مذہبی مقامات کو سیاسی مفاد کے لیے نشانہ بنانا ملک کے ائینی اصولوں ،آزادی اور باہمی احترام کے منافی ہے۔ حکومت کو تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے۔
مدھیہ پردیش میں مدرسوں کو بند کرنے کی درخواست اور بی جے پی لیڈر کی متنازعہ اپیل
ایم پی کے ضلع ودیشا میں بی جی پی کے رکن اسمبلی اوما کانت شرما نے ہندو خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ خود کو سنوارنے کہنے والے اپنے بچوں کو مسلم مدرسوں اور کانونٹ اسکولوں سے نکال لیں۔ سرونج اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرنے والے اوما کانت شرما نے فیس بک پیج پر یہ اپیل کی ہے۔ سرونج سے ایک اور خبر وائرل ہوئی ہے اس کے مطابق گیارہ مدرسوں کے منتظمین نے طلبا کی کم تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع کے تعلیمی افسران سے مدرسے بند کرنے کی درخواست کی ہے ۔ضلع شکشا کیندر ایس ایس اے نے ضلع تعلیمی مرکز کو خط لکھ کر ان مدارس کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے یوڈائس پورٹل اور ایجوکیشن پورٹل 3.0 پر ان مدرسوں کو بند درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک ضلع کے تعلیم حکام نے اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم قومی انسانی حقوق کمیشن کے رکن پریانک قانون گو نے محکمہ تعلیم کا یہ خط سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اس پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کی تفصیلی پوسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو منظم طریقے سے اسکولوں میں داخل کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے بی جے پی رکن اسمبلی کی متنازعہ اپیل کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان دونوں خبروں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تعلیمی شعبہ میں فرقہ واریت کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔ یو پی اور اتر اکھنڈ کے بعد مدھیہ پردیش بھی بھگوا تجربہ گاہ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال، آئندہ ہفتے پھر ملیں گے تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ، تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا ۔
اعظم گڑھ اور پیلی بھیت میں ووٹر فہرستوں کی گڑبڑی پکڑی گئی۔ریاستی الیکشن کمیشن نے جانچ کے بعد کارروائی کا دیا حکم

ایم ایل سی الیکشن کے دوران دھاندلی ؛آگرہ کے ایس پی امیدوار کی مذہب بدلنے کی دھمکی

