اقتدار کی تاریخ میں بعض اوقات ایک مختصر سا استعفیٰ، سیکڑوں تقاریر سے زیادہ طاقت ور پیغام بن جاتا ہے۔ کسی وزیر کا اپنے عہدے سے دستبردار ہونا ہمیشہ اس بات کا اعلان نہیں ہوتا کہ وہ مجرم ہے یا اس کی ذاتی غفلت ثابت ہو چکی ہے، بلکہ اکثر یہ اس اعتراف کی علامت ہوتا ہے کہ عوامی منصب صرف اختیارات کا نام نہیں بلکہ اعتماد کا بھی نام ہے۔ اس اعتماد میں دراڑ پڑ جائے تو بعض اوقات عہدہ برقرار رکھنے کے بجائے اسے چھوڑ دینا سیاسی وقار میں اضافہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ پارلیمانی جمہوریتوں میں استعفیٰ کو کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بلوغت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
ہندوستان نے بھی آزادی کے بعد ویسٹ منسٹر طرز کی پارلیمانی جمہوریت کو اختیار کیا۔ اس نظام میں وزیر محض اپنے دستخطوں یا اپنے ذاتی فیصلوں کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ اس پورے انتظامی ڈھانچے کا سیاسی سربراہ ہوتا ہے جو اس کی وزارت کے ماتحت کام کرتا ہے۔ اگر اس ڈھانچے میں ایسی سنگین خامیاں سامنے آئیں جن سے عوامی اعتماد متزلزل ہو جائے تو وزیر قانونی طور پر قصوروار ثابت ہوئے بغیر بھی سیاسی طور پر جواب دہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی تصور ہندوستانی جمہوریت کے ابتدائی عشروں میں نہ صرف نظریاتی طور پر موجود تھا بلکہ اس پر عمل بھی کیا گیا۔
وقت کے ساتھ ہندوستان کی سیاست نے کئی تبدیلیاں دیکھیں۔ اتحادی حکومتوں کا دور آیا، پھر مضبوط اکثریتی حکومتوں کا۔ میڈیا کا کردار بدلا، انتخابی سیاست کی ترجیحات بدلیں اور اقتدار کے انداز بھی تبدیل ہوئے۔ انہی تبدیلیوں کے درمیان ایک خاموش مگر نہایت اہم تبدیلی یہ بھی آئی کہ وزارتی احتساب کی وہ روایت جو کبھی ہندوستانی پارلیمانی نظام کا اخلاقی سرمایہ سمجھی جاتی تھی رفتہ رفتہ کمزور ہوتی چلی گئی۔ آج یہ سوال صرف کسی ایک وزیر یا کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ پورے جمہوری مزاج کا ہے کہ کیا ہندوستان میں استعفیٰ اب بھی سیاسی ذمہ داری کی علامت ہے یا یہ روایت تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہے؟
یہ مضمون اسی تبدیلی کا تاریخی اور تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ مقصد کسی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنانا یا کسی حکومت کا دفاع کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت میں وزارتی ذمہ داری کا تصور گزشتہ سات دہائیوں میں کس طرح تبدیل ہوا، کن حالات میں وزراء نے عہدے چھوڑے، کن مواقع پر ایسا نہیں ہوا اور اس تبدیلی نے عوام اور حکومت کے تعلق کو کس حد تک متاثر کیا۔
جمہوری روایت کی بنیاد: جب عہدہ ذمہ داری کا مترادف تھا
ہندوستان کی ابتدائی سیاسی قیادت نے برطانوی پارلیمانی روایت سے صرف آئین ہی نہیں لیا بلکہ اس کے ساتھ وابستہ اخلاقی اصولوں کو بھی بڑی حد تک قبول کیا۔ ان اصولوں میں ایک بنیادی اصول یہ تھا کہ وزارت کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ اس امانت کے تحفظ کا تقاضا یہ تھا کہ اگر کسی وزارت کے دائرۂ اختیار میں ایسا بحران پیدا ہو جائے جو قومی سطح پر عوامی اعتماد کو متأثر کرے تو وزیر محض یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتا کہ اس نے خود کوئی غلطی نہیں کی۔
اس روایت کی سب سے نمایاں مثال 1956ء میں سامنے آئی۔ جنوبی ہندوستان کے اریالور کے قریب پیش آنے والے المناک ریلوے حادثے میں سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس وقت لال بہادر شاستری وزیر ریلوے تھے۔ حادثے کی تحقیقات میں انہیں ذاتی طور پر حادثے کا سبب قرار نہیں دیا گیا، نہ ہی کسی عدالت نے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی لیکن انہوں نے ایک مختلف معیار قائم کیا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر ریلوے کا پورا نظام ان کی نگرانی میں کام کر رہا ہے تو اس نظام کی بڑی ناکامی پر وہ خود کو سیاسی ذمہ داری سے الگ نہیں کر سکتے اور انہوں نے استعفے دے دیا۔ ان کا استعفیٰ ہندوستانی جمہوریت میں اس اصول کی علامت بن گیا کہ وزیر صرف اختیارات کا مرکز نہیں بلکہ جواب دہی کا بھی مرکز ہے۔
اسی سوچ کی جھلک چند برس بعد منڈھرا (LIC) اسکینڈل میں بھی نظر آئی۔ وزیر خزانہ ٹی ٹی کرشنماچاری پر ذاتی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی تھی لیکن چونکہ معاملہ ان کی وزارت کے دائرۂ کار سے متعلق تھا اور پارلیمنٹ میں حکومت سخت دباؤ کا سامنا کر رہی تھی اس لیے انہوں نے وزارت چھوڑ دی۔ اس فیصلے نے یہ پیغام دیا کہ حکومتیں صرف عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد پر بھی اپنی سیاسی ذمہ داری محسوس کرتی ہیں۔
1962ء کی چین-ہند جنگ نے بھی ہندوستانی قیادت کے سامنے ایک بڑا امتحان رکھا۔ عسکری تیاریوں کی کمی، حکمت عملی کی غلطیوں اور سیاسی فیصلوں پر شدید تنقید ہوئی۔ ان حالات میں وزیر دفاع وی کے کرشنا مینن کو وزارت چھوڑنی پڑی۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جنگ کی تمام ناکامیوں کے ذمہ دار صرف وہی تھے کیونکہ اس میں فوجی منصوبہ بندی، انٹیلیجنس، سفارتی اندازوں اور کئی دیگر عوامل کا بھی دخل تھا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وزارتِ دفاع کے سیاسی سربراہ ہونے کے ناطے وہ خود کو مکمل طور پر اس بحران سے الگ نہیں رکھ سکے۔ یہی پارلیمانی روایت کا بنیادی تقاضا تھا۔
اسی روایت کا تسلسل بعد کے عشروں میں بھی کسی نہ کسی حد تک قائم رہا۔ 1999ء میں مغربی بنگال کے گیسال ریلوے حادثے نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس وقت نتیش کمار وزیر ریلوے تھے۔ حادثے کی تکنیکی وجوہات پر تفصیلی تحقیقات ہوئیں مگر انہوں نے ان تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کیا بلکہ اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ پیش کر دیا۔ ان کے اس اقدام کو مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی سراہا کیونکہ یہ اس روایت کی توسیع تھی جس کی بنیاد لال بہادر شاستری رکھ چکے تھے۔
اسی طرح 2008ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں نے قومی سلامتی کے پورے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ دہشت گردی کا منصوبہ سرحد پار تیار ہوا تھا، اس میں کئی اداروں کی ناکامیاں زیر بحث آئیں لیکن اس کے باوجود مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل کو اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا۔ اس فیصلے کی بنیاد یہ نہیں تھی کہ وہ اس واقعے کے ذمہ دار تھے بلکہ یہ تھی کہ وزارتِ داخلہ ملک کے داخلی سلامتی کے نظام کی سیاسی ذمہ دار ہے۔ جب نظام غیر معمولی ناکامی کا شکار ہو تو اس کا سیاسی اثر وزارت پر بھی پڑتا ہے۔
یہ تمام واقعات ایک اہم حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ہندوستان کی ابتدائی اور درمیانی سیاسی تاریخ میں وزارتی ذمہ داری کا معیار صرف قانونی قصور تک محدود نہیں تھا۔ ایک وزیر سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنی وزارت کی کامیابی کا سہرا بھی اپنے سر باندھے اور اس کی بڑی ناکامی کا بوجھ بھی قبول کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں استعفیٰ کو سیاسی شکست نہیں بلکہ جمہوری روایت کے احترام کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
لیکن اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں یہ روایت آہستہ آہستہ بدلنے لگی۔ سیاسی اکثریت مضبوط ہوئی، انتخابی سیاست کا مزاج تبدیل ہوا اور اقتدار کو دیکھنے کا زاویہ بھی مختلف ہوتا گیا۔ نتیجتاً وہ معیار جو کبھی ہندوستانی پارلیمانی زندگی کا ایک غیر تحریری اصول سمجھا جاتا تھا، نئی سیاسی ترجیحات کے سامنے کمزور پڑنے لگا۔
️روایت سے انحراف: 2014 کے بعد وزارتی احتساب کا بدلتا ہوا تصور
2014ء میں نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو ہندوستانی سیاست صرف انتخابی اعتبار سے ہی نہیں بدلی بلکہ اقتدار کے انداز، سیاسی ترجیحات اور حکومتی طرزِ عمل میں بھی نمایاں تبدیلی آئی۔ مضبوط اکثریت نے حکومت کو غیر معمولی فیصلہ سازی کی قوت دی مگر اس کے ساتھ ایک نئی سیاسی روایت بھی ابھر کر سامنے آئی۔ اس روایت میں حکومت نے ہر بڑے بحران کے بعد متعلقہ وزیر کی سیاسی ذمہ داری کے بجائے ادارہ جاتی تحقیقات، انتظامی کارروائی اور مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کو زیادہ اہمیت دی۔ یوں پارلیمانی روایت کا وہ تصور جس میں وزیر اپنی وزارت کی بڑی ناکامی کا سیاسی بوجھ بھی اٹھاتا تھا بتدریج پس منظر میں چلا گیا۔
اس تبدیلی کو سب سے واضح طور پر بڑے قومی واقعات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 2019ء کے پلوامہ حملے نے پورے ملک کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ چالیس سے زائد سی آر پی ایف اہلکاروں کی شہادت نے داخلی سلامتی، انٹلیجنس کے تبادلے اور حفاظتی حکمت عملی پر متعدد سوالات کھڑے کیے۔ ان سوالات کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ خود اس حملے کے ذمہ دار تھے لیکن پارلیمانی نظام میں سوال ہمیشہ فرد کے مجرمانہ کردار کا نہیں ہوتا بلکہ وزارت کی مجموعی کارکردگی کا بھی ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسی بنیاد پر سیاسی ذمہ داری کا مسئلہ اٹھایا لیکن حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی توجہ عسکری جواب، سفارتی دباؤ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر مرکوز رکھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ استعفیٰ سیاسی بحث کا موضوع تو بنا مگر حکومتی عمل کا حصہ نہ بن سکا۔
یہی رجحان 2020ء اور 2021ء کے کورونا بحران میں بھی نمایاں نظر آیا۔ ملک گیر لاک ڈاؤن کے بعد لاکھوں مہاجر مزدوروں کی مشکلات، صحت کے بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ، آکسیجن کی قلت اور دوسری لہر کے دوران پیش آنے والے افسوسناک مناظر نے حکومت کی تیاریوں پر سنگین سوالات پیدا کیے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس پورے بحران کی ذمہ دار صرف وزارتِ صحت تھی کیونکہ وبائیں دنیا بھر کے لیے غیر معمولی چیلنج ثابت ہوئیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صحت کا قومی نظام اسی وزارت کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ اسی لیے ناقدین نے دلیل دی کہ جب نظام اپنی کمزوریاں اس شدت سے ظاہر کرے تو متعلقہ وزیر کم از کم سیاسی ذمہ داری قبول کرے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بعد میں کابینہ میں رد و بدل ضرور ہوا مگر وہ اس نوعیت کا اقدام نہیں تھا جسے روایتی پارلیمانی معنوں میں استعفیٰ کہا جا سکے۔۔
جون 2023ء کا بالاسور ریلوے حادثہ اس تبدیلی کی شاید سب سے مؤثر مثال ہے۔ یہ حادثہ صرف جانی نقصان کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ اس لیے بھی اہم تھا کہ ہندوستان میں ریلوے وزارت کے ساتھ ایک تاریخی روایت وابستہ رہی ہے۔ لال بہادر شاستری اور نتیش کمار دونوں نے ریلوے حادثات کے بعد استعفیٰ دے کر ایک سیاسی معیار قائم کیا تھا۔ بالاسور حادثے کے بعد بھی یہی سوال سامنے آیا کہ کیا اس تاریخی روایت کو برقرار رکھا جائے گا؟ وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے امدادی کارروائیوں کی براہِ راست نگرانی کی، تحقیقات کا حکم دیا اور تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی پر زور دیا لیکن وزارت سے علیحدگی کا سوال حکومت نے سرے سے قبول نہیں کیا۔ اس ایک واقعے نے دو مختلف سیاسی ادوار کے درمیان فرق کو نمایاں کر دیا۔ پہلے دور میں ریلوے حادثہ وزیر کے لیے سیاسی احتساب کا سبب بنتا تھا جبکہ اب وہ انتظامی تحقیقات کا موضوع بن کر رہ گیا۔
تعلیمی شعبہ بھی اس تبدیلی سے مستثنیٰ نہیں رہا۔ گزشتہ چند برسوں میں قومی سطح کے امتحانات، خصوصاً NEET اور دیگر امتحانی نظام سے متعلق تنازعات نے لاکھوں طلبا اور ان کے والدین کو شدید اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور امتحانات کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات نے وزارتِ تعلیم کی نگرانی کے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی انتظامی ناکامی محض ماتحت اہلکاروں تک محدود نہیں رہتی۔ لیکن حکومت نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا اور اصلاحات، تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کو کافی قرار دیا۔
ان تمام مثالوں میں ایک مشترک رجحان واضح دکھائی دیتا ہے۔ 2014ء سے پہلے جب کسی وزارت کے دائرۂ اختیار میں غیر معمولی بحران پیدا ہوتا تھا تو بحث کا مرکز یہ ہوتا تھا کہ متعلقہ وزیر سیاسی ذمہ داری قبول کرے گا یا نہیں۔ 2014ء کے بعد بحث کا مرکز تبدیل ہو گیا۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ تکنیکی خرابی کہاں تھی، کس افسر نے کوتاہی کی، کس ایجنسی سے غلطی ہوئی یا کس سازش نے اس بحران کو جنم دیا۔ یہ تمام سوال اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان کے درمیان وزیر کی سیاسی جواب دہی کا سوال بتدریج پس منظر میں چلا گیا۔
اس تبدیلی کے اسباب بھی قابلِ غور ہیں۔ مضبوط اکثریتی حکومتیں عموماً اپنے وزراء کو اپوزیشن کے دباؤ کے تحت ہٹانے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ ایسا کرنے کو وہ سیاسی کمزوری کی علامت سمجھتی ہیں۔ دوسری طرف شخصیت پر مبنی سیاست نے بھی کابینہ کی اجتماعی ذمہ داری کے بجائے قیادت کے مرکزی کردار کو زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ نتیجتاً وزراء کے استعفے اب حکومتی روایت کا حصہ نہیں رہے بلکہ انتہائی غیر معمولی حالات کی صورت میں ہی زیرِ غور آتے ہیں۔
یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: اگر وزیر اپنی وزارت کی کامیابی کا سہرا لینے کا حق رکھتا ہے تو کیا اسی وزارت کی نمایاں ناکامی پر وہ کسی درجے کی سیاسی ذمہ داری بھی قبول نہیں کرے گا؟ پارلیمانی جمہوریت کا کلاسیکی تصور اسی سوال کا جواب اثبات میں دیتا ہے۔ اس تصور کے مطابق وزیر ہر حادثے کا واحد ذمہ دار نہیں ہوتا لیکن وہ اپنی وزارت کے دائرۂ اختیار میں پیدا ہونے والی مسلسل یا سنگین ناکامیوں سے مکمل طور پر لا تعلق بھی نہیں رہ سکتا۔ اگر اس اصول کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر وزارت محض اختیارات کا منصب رہ جاتی ہے، ذمہ داری کا نہیں۔
اسی مقام پر ہندوستانی جمہوریت ایک نئے فکری موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف انتظامی تحقیقات اور قانونی کارروائیاں ہیں، دوسری طرف وہ سیاسی روایت ہے جس نے کبھی استعفے کو اقتدار کے وقار کا حصہ بنایا تھا۔ ان دونوں تصورات کے درمیان یہی کشمکش مستقبل میں ہندوستانی پارلیمانی سیاست کے معیار کا تعین کرے گی۔
️ جمہوریت کا اصل امتحان: کیا استعفے کی روایت دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے؟
ہندوستانی سیاست کی گزشتہ سات دہائیوں کا مطالعہ ایک واضح نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ وزارتی احتساب کی روایت جامد نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ اس کا مفہوم اور عملی صورت دونوں بدلتے گئے۔ آزادی کے بعد کے عشروں میں کسی بڑے انتظامی بحران کے بعد یہ سوال فطری سمجھا جاتا تھا کہ متعلقہ وزیر اپنے منصب پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز کیسے پیش کرے گا۔ آج صورتِ حال تقریباً اس کے برعکس ہے۔ اب سوال یہ نہیں ہوتا کہ وزیر استعفیٰ دے گا یا نہیں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت اس بحران کا سیاسی بیانیہ کس طرح تشکیل دے گی، تحقیقات کس ادارے کے سپرد ہوں گی اور معاملہ عوامی بحث میں کتنے دن باقی رہے گا۔
یہ تبدیلی محض سیاسی رویے کی تبدیلی نہیں بلکہ جمہوری ثقافت کی تبدیلی بھی ہے۔ جب اقتدار کا بنیادی مقصد ہر قیمت پر سیاسی استحکام اور انتخابی برتری بن جائے تو استعفیٰ ایک اخلاقی روایت کے بجائے سیاسی نقصان تصور ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اب بڑے سے بڑا بحران بھی اکثر حکومتوں کو اپنے وزراء تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں کرتا۔ اس کے برعکس پوری توجہ اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ بحران کے سیاسی اثرات کو کس طرح محدود کیا جائے۔
اس تبدیلی کا ایک اثر یہ بھی ہوا ہے کہ ہندوستانی پارلیمانی نظام میں "اجتماعی وزارتی ذمہ داری" کا تصور رفتہ رفتہ کمزور پڑتا محسوس ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق کابینہ اجتماعی طور پر پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہے لیکن عملی سیاست میں اس اصول کی جگہ بتدریج انتظامی ذمہ داری نے لے لی ہے۔ چنانچہ اگر کسی وزارت میں سنگین ناکامی سامنے آتی ہے تو سب سے پہلے ماتحت افسران، تکنیکی کمیٹیوں یا انتظامی خامیوں کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ بلاشبہ ان عوامل کی تحقیق ضروری ہے مگر اس عمل میں یہ بنیادی حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے کہ کسی بھی وزارت کا سیاسی سربراہ صرف اختیارات کا حامل نہیں بلکہ اس وزارت کی مجموعی کارکردگی کا نمائندہ بھی ہوتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ استعفیٰ ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اگر ہر حادثے کے بعد وزیر بدل دیا جائے لیکن نظام کی خامیاں برقرار رہیں تو محض چہرے تبدیل کرنے سے فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی وزیر اپنے منصب پر برقرار رہتے ہوئے شفاف تحقیقات کرائے، ادارہ جاتی اصلاحات نافذ کرے، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور مستقبل میں ایسی ناکامیوں کی روک تھام کے لیے واضح اقدامات کرے تو یہ بھی ذمہ داری نبھانے کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ لیکن جب نہ استعفیٰ ہو، نہ اصلاحات نمایاں ہوں اور نہ ہی سیاسی سطح پر جواب دہی کا احساس دکھائی دے تو پھر عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ اقتدار ذمہ داری کے بجائے صرف اختیار کا نام بن گیا ہے۔
اسی لیے وزارتی احتساب کو کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک دورِ حکومت کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر 1956ء میں لال بہادر شاستری کا اقدام قابلِ تحسین تھا، اگر 1999ء میں نتیش کمار کے فیصلے کو سیاسی وقار کی علامت سمجھا گیا، اگر 2008ء میں شیو راج پاٹل کی رخصتی کو حکومتی جواب دہی کا اظہار قرار دیا گیا تو یہی معیار بعد کے ادوار پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی حکومت کے دور میں یہ استدلال پیش کیا جائے کہ حادثات یا سلامتی کی ناکامیاں ہمیشہ وزیر کی ذاتی غفلت کا نتیجہ نہیں ہوتیں، تو یہی اصول سابقہ حکومتوں کے بارے میں بھی اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب اصول حکومتوں کے بدلنے سے نہ بدلیں۔
اس تناظر میں ہندوستانی سیاست کو ایک سنجیدہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ پارلیمانی جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ اس سے زیادہ اس سیاسی کلچر سے مضبوط ہوتی ہے جس میں اقتدار کے ساتھ جواب دہی بھی وابستہ رہے۔ اگر وزراء اپنی وزارتوں کی کامیابی کو اپنی قیادت کا ثمر قرار دیتے ہیں تو پھر انہی وزارتوں کی نمایاں ناکامیوں میں بھی انہیں کم از کم سیاسی اور ادارہ جاتی ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ دکھانا چاہیے۔ یہی رویہ عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور یہی اداروں کی ساکھ میں اضافہ کرتا ہے۔
استعفیٰ کسی وزیر کے سیاسی سفر کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات وہ اس کے سیاسی کردار کی سب سے مضبوط سند بن جاتا ہے۔ لال بہادر شاستری نے استعفیٰ دے کر اپنی عوامی ساکھ کم نہیں کی بلکہ اتنی بلند کر لی کہ بعد میں وہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جواب دہی اقتدار کو کمزور نہیں کرتی بلکہ اسے اخلاقی جواز عطا کرتی ہے۔
ہندوستانی جمہوریت آج ایک ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پارلیمانی روایات کو صرف آئینی کتابوں تک محدود رکھا جائے گا یا انہیں سیاسی عمل کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔ اگر ہر بڑا بحران صرف انتظامی رپورٹوں، تکنیکی وضاحتوں اور سیاسی بیانات میں گم ہو جائے تو رفتہ رفتہ عوام کا اعتماد کمزور پڑتا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر حکومتیں یہ پیغام دیں کہ اقتدار کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے تو جمہوریت کی اخلاقی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔
اس لیے اصل بحث کسی ایک وزیر، کسی ایک حادثے یا کسی ایک حکومت کی نہیں بلکہ اس سیاسی معیار کی ہے جس پر ہندوستان اپنی جمہوری روایت کو استوار کرنا چاہتا ہے۔ ایک ایسی روایت جس میں وزیر اپنی وزارت کی کامیابی کا کریڈٹ لینے کے ساتھ اس کی بڑی ناکامی کا بوجھ اٹھانے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو۔ جب تک یہ توازن قائم نہیں ہوتا تب تک احتساب کا تصور ادھورا رہے گا اور جب یہ توازن بحال ہو جائے گا تو استعفیٰ سیاسی شکست نہیں بلکہ جمہوری وقار کی علامت سمجھا جائے گا۔