دہلی کے علاقے آشرم کے چون سالہ رہائشی چونگتھم وکرم سنگھ کوئی اجنبی نہیں تھے بلکہ وہ اسی ملک کے شہری تھے۔ منی پور سے تعلق رکھنے والا موسیقی کا یہ استاد تقریباً بیس برس سے اسی شہر میں رہ رہا تھا، اسی شہر کی گلیوں میں اپنی زندگی گزار چکا تھا۔ مگر گزشتہ ہفتے اسے محض اس "جرم" میں اپنی جان گنوانی پڑی کہ اس نے اپنے گھر کے باہر ہونے والے شور و ہنگامے پر اعتراض کیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق قریبی ڈھابے کے کچھ لوگوں سے شور و شغب کی شکایت پر آپس میں تلخی ہوگئی، دھمکیاں ملیں اور بالآخر ایک ہجوم نے اسے گھر کے باہر بے دردی سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ دہلی پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی ہجومی تشدد سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، سات افراد کو گرفتار اور ایک نابالغ کو حراست میں لیا گیا۔ مگر ایک شریف شہری کا شور و ہنگامے پر اعتراض کرنے کی پاداش میں یوں جان سے مار دیا جانا کئی سوال کھڑا کر دیتا ہے۔
بظاہر یہ شور و ہنگامے کے تنازعے سے شروع ہونے والا ایک واقعہ ہے مگر یہ جس پس منظر میں پیش آیا وہ اسے ایک عام جھگڑے سے مختلف بنا دیتا ہے۔ یہ شمال مشرقی ہند کے لوگوں کے ساتھ برسوں سے جاری امتیازی سلوک، منی پور کے طویل بحران اور ملک میں بڑھتی ہوئی ہجومی تشدد کی ذہنیت کے سنگم پر ہونے والا ایک دردناک واقعہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قتل پر شمال مشرق کے ہر گھر میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا ہم محفوظ ہیں؟ اپوزیشن کے رہنماؤں نے اسے مرکز کی ناکامی قرار دیا، جب کہ حکومتی حلقوں نے اسے سیاست سے جوڑنے پر اعتراض کیا۔ مگر سیاسی بیان بازی سے ہٹ کر اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ شہری جو شکل و صورت سے اپنے دیگر ہم وطنوں سے الگ نظر آتا ہے اسے بھی قانون اور معاشرے کا وہی تحفظ حاصل ہے جو ملک کے دوسرے شہریوں کو ہے؟
بدقسمتی سے اس سوال کا جواب ماضی کے آئینے میں بہت ہی تلخ ہے۔ سال ۲۰۱۴ میں دہلی کے علاقے لاجپت نگر میں اروناچل پردیش کے طالب علم نیدو تانیم کو اس کی شکل و صورت پر تبصرے سے شروع ہونے والے جھگڑے کے بعد پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے ایک دہائی بعد ۲۰۲۵ میں تریپورہ کے طالب علم اینجل چکما کی اتر اکھنڈ میں ایک مبینہ نسلی حملے میں موت ہوئی۔ ان بڑے واقعات کے درمیان روزمرہ کے بے شمار چھوٹے بڑے حملے بھی ہوتے رہے ہیں۔ چنکی جیسے نسلی طعنے، کرائے کے مکان، بازار اور دوران سفر امتیاز، اور خواتین کے ساتھ ہراسانی وغیرہ۔ خود دہلی ہائی کورٹ کے سامنے پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی آنے والے شمال مشرقی باشندوں میں سے تقریباً چھیاسی فیصد کسی نہ کسی نسلی امتیاز کا سامنا کر چکے تھے، جبکہ دو تہائی سے زائد خواتین نے ہراسانی کی شکایت کی ہے اور دہلی اس معاملے میں تمام بڑے شہروں میں سرِ فہرست پایا گیا۔ ان کی "منگولیائی وضع قطع کو بنیاد بنا کر انہیں اکثر اپنے ہی وطن میں باہری یا اجنبی سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض ایک عام قسم کی بدتمیزی نہیں ہے بلکہ شہریت کے تصور پر ایک کاری ضرب ہے۔
نیدو تانیم کے قتل کے بعد وزارتِ داخلہ نے ایم پی بیز بروا کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی تھی جس نے ٹھوس سفارشات پیش کیں کہ: نسلی امتیاز کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم بنایا جائے، قانون میں ترمیم کی جائے، ایسے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں اور خصوصی پولیس یونٹیں قائم کی جائیں اور نصابی کتب (NCERT) میں شمال مشرق کی تاریخ و ثقافت کو شامل کیا جائے تاکہ باقی ملک کے بچے اس خطے کو اپنے ہی ملک کا حصہ سمجھیں۔ مگر ایک دہائی گزر جانے کے بعد بھی نسلی امتیاز کے خلاف کوئی خصوصی قانون نہیں بن سکا اور کمیٹی کی بیشتر سفارشات فائلوں میں گویا دفن کر دی گئیں۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ خود سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ کہیں یہ رپورٹ فراموش کردہ دستاویزات کی گرد آلود الماریوں میں دم نہ توڑ دے۔ جب ریاست برسوں تک کسی مسئلے کے حل سے پہلو تہی کرتی رہے تو یہ خاموشی خود اس طرح کے معاملات میں ایک طرح کی شراکت بن جاتی ہے۔
اس پورے منظرنامے کو منی پور کے پس منظر کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ مئی ۲۰۲۳ سے میتی اور کوکی قبیلوں کے درمیان چھڑنے والے نسلی تصادم نے دو سو ساٹھ سے زائد جانیں نگل لیں اور ساٹھ ہزار سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا۔ ریاست کی معیشت تباہ ہوئی، ہزاروں ہتھیار اسلحہ خانوں سے لوٹے گئے اور ایک پوری آبادی نے خود کو بے یار و مددگار محسوس کیا۔ فروری ۲۰۲۵ میں صدر راج نافذ ہوا اور فروری ۲۰۲۶ میں ختم بھی کر دیا گیا مگر بے گھر خاندان آج بھی اپنے گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں اور بد اعتمادی کی خلیج پاٹی نہیں جا سکی۔ اس بحران کے دوران اعلیٰ ترین قیادت کی طویل خاموشی نے یہ پیغام دیا کہ ملک کے ایک کونے کے شہریوں کا دکھ اتنا اہم نہیں ہے۔ یہی احساسِ محرومی اب دارالحکومت دہلی میں رہنے والے شمال مشرقی باشندوں کے خوف میں اضافہ کر رہا ہے۔
وکرم سنگھ کا قتل دراصل اس بڑے فساد کی ایک علامت ہے جسے ہجومی تشدد کی فسادی ذہنیت کہا جاتا ہے، جہاں ہجوم خود ہی منصف، وکیل اور جلاد بن جاتا ہے۔ کبھی شور شرابے پر، کبھی مویشی چوری کی افواہ پر، کبھی مذہب یا شناخت کی بنیاد پر اور کبھی محض کسی کے الگ نظر آنے پر۔ سپریم کورٹ نے ۲۰۱۸ میں ہجومی تشدد کے خلاف واضح ہدایات دی تھیں اور نئے ضابطہ قانون میں اس کے لیے سخت دفعہ بھی شامل کی گئی تھی مگر کاغذ پر موجود قانون اور زمین پر اس کے نفاذ کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہی اصل مسئلہ ہے۔ جب ہجوم سزا سے بے خوف ہو کر حملے کرنے لگے اور اگر قانون کام کرے بھی تو اس کی گرفت سست یا امتیاز پر مبنی ہو تو برابری کا قانون ایک نظریاتی جملہ بن کر رہ جاتا ہے۔ چنانچہ ایسی ذہنیت صرف شمال مشرق کے لوگوں کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ اڑوس پڑوس میں رہنے والی اقلیتوں، دلتوں اور دیگر کمزور طبقات کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ درجہ بندی کی شہریت کی ایک ہی تصویر کے یہ مختلف رخ ہیں۔
آئین ہر شہری کو قانون کے سامنے برابری (دفعہ ۱۴) وقار کے ساتھ زندگی گزارنے (دفعہ ۲۱) اور نسل، مذہب یا مقام کی بنیاد پر عدمِ امتیاز (دفعہ ۱۵) کی ضمانت دیتا ہے مگر عملی زندگی میں اس کا الٹا ہی نمونہ دیکھنے میں آتا ہے، ایک ایسی درجہ بند شہریت جہاں آپ کی حیثیت اکثر آپ کے چہرے، عقیدے، خطے یا ذات سے متعین ہوتی ہے۔ آئین کی یقین دہانی اور زمینی حقیقت کے درمیان یہی خلیج اوپر اٹھائے گئے سوال کا اصل جواب ہے یعنی قانون، جمہوری آزادی اور شہری حقوق اصولاً تو سب کے لیے یکساں ہیں مگر حقیقتاً معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
اس صورتحال کو بدلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ نسلی امتیاز کے خلاف برسوں سے التوا میں پڑے ہوئے قانون کو دوبارہ بنایا جائے، بیز بروا کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے، وکرم سنگھ کے قاتلوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے، تعلیمی اداروں میں اور معاشرے میں ذمہ دار شہری ہونے کا احساس پیدا کیا جائے اور شمال مشرقی ریاستوں کو ایک اجنبی یا نمائشی خطے کے بجائے ملک کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ مساوات کا درس صرف کتاب میں لکھا ہوا نہ ہو بلکہ عملی طور پر بھی اس کا مظاہرہ ہو ورنہ یہ محض ایک دکھاوا سمجھا جائے گا۔ کسی بھی جمہوریت کی اصل پہچان یہ ہے کہ اس کا ہر شہری بلا امتیاز رنگ و نسل اور شکل و صورت اپنے آپ کو پوری طرح محفوظ و مامون سمجھے۔ جب تک وکرم سنگھ کا خاندان اور شمال مشرق کا ہر گھر، اس سوال کا جواب پر اعتماد طریقے سے نہ دے آئین کی تمام یقین دہانیاں ادھوری ہیں۔