ووٹنگ جمہوریت کا سب سے بنیادی عمل ہے اور اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ شہری کا نام ووٹر لسٹ میں موجود رہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی جانب سے جاری کردہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کا مقصد بظاہر یہی بتایا جاتا ہے کہ فہرست کو مُردہ، منتقل شدہ، دو جگہ درج اور غیر شہری اندراجات سے پاک کیا جائے۔ اصولی طور پر یہ ایک جائز اور ضروری کام ہے مگر جس طریقے، جس رفتار اور جس پیمانے پر یہ عمل جاری ہے، اس نے ایک سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا فہرست کی درستگی کی قیمت لاکھوں اہل شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر کے ادا کی جائے گی؟
یہ کام ملک بھر میں مرحلہ وار جاری ہے۔ پہلا مرحلہ سال 2025 میں بہار میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل مکمل ہوا۔ دوسرا مرحلہ اکتوبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران مغربی بنگال سمیت نو ریاستوں اور تین مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں مکمل ہوا اور تیسرا مرحلہ سولہ ریاستوں اور تین مرکزی زیر انتظام علاقوں میں جاری ہے۔ اس عمل میں بوتھ لیول افسران گھر گھر جا کر گنتی کرتے ہیں، فارم تقسیم و جمع کیے جاتے ہیں، مسودہ فہرست شائع ہوتی ہے اور اعتراضات کے بعد حتمی فہرست جاری کی جاتی ہے۔
لیکن اس عمل میں کئی بنیادی خامیاں ہیں۔ پہلی: یہ نظرِ ثانی اکثر پرانی (بعض جگہ 2002 کی) فہرست کو بنیاد بنا کر کی جا رہی ہے، جس سے موجودہ فہرست کی ساکھ ہی مشکوک بنا دی جاتی ہے جو برسوں سے مسلّمہ ہے۔ دوسری: اسے انتخابات سے عین پہلے انتہائی مختصر مدت میں مکمل کیا جا رہا ہے نتیجتاً غلطیاں انتخابی نتائج پر اثر ڈالنے کے بعد ہی درست ہو پائیں گی، جیسا کہ بہار میں ہوا جہاں سپریم کورٹ کا فیصلہ انتخابات کے کئی ماہ بعد آیا۔ تیسری اور سب سے سنگین خامی یہ ہے کہ ثبوت کا بوجھ شہری پر ڈال دیا گیا ہے، اب اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اہل ووٹر ہے، اور یہ بوجھ سب سے زیادہ غریبوں، مہاجر مزدوروں اور خواتین پر پڑتا ہے جن کے پاس اکثر مطلوبہ دستاویزات نہیں ہوتیں۔ چوتھی: پورا عمل ہی شفافیت سے عاری ہے، بنیادی فہرست عام نہیں کی جاتی اور کئی جگہ ہدایات واٹس ایپ جیسے غیر رسمی ذرائع سے دی گئیں اور شکایت کنندگان کو دفتروں سے ان کی شکایات کا ازالہ کیے بغیر ہی لوٹا دیا گیا۔
ان خامیوں کا نتیجہ اعداد و شمار میں صاف نظر آتا ہے۔ بہار میں مسودہ فہرست سے تقریباً پینسٹھ لاکھ نام حذف کیے گئے۔ کمیشن کے مطابق ان میں بائیس لاکھ متوفی، سات لاکھ ایک سے زائد جگہ درج، اور تقریباً پینتیس لاکھ منتقل شدہ یا غائب ووٹر شامل تھے۔ سپریم کورٹ کو مداخلت کر کے حکم دینا پڑا کہ ان پینسٹھ لاکھ ناموں کی فہرست اور حذف کی وجوہات عام کی جائیں۔ مگر صورتحال یہ ہوئی کہ ستمبر کی آخری تاریخ تک محض 1.2 لاکھ افراد ہی اعتراض داخل کر سکے۔
مغربی بنگال میں دسمبر 2025 کی مسودہ فہرست میں تقریباً اٹھاون لاکھ نام حذف کر دیے گئے۔ ریاست کے ووٹروں کی تعداد سات کروڑ چھیاسٹھ لاکھ سے گھٹ کر سات کروڑ آٹھ لاکھ رہ گئی، اور تقریباً ساٹھ لاکھ نام زیرِ فیصلہ قرار پائے۔ دہلی کی تصویر تو اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت دہلی کے ایک کروڑ پینتالیس لاکھ ووٹروں میں سے نصف سے زائد (54.6 فیصد) یا تو فہرست سے خارج کر دیے گئے یا انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے نوٹس تھما دیے گئے، 47.6 لاکھ نام حذف ہوئے اور مزید 31.6 لاکھ کو نوٹسیں جاری ہوئیں۔ خود کمیشن کے اپنے ضابطے کے مطابق کسی بوتھ پر دو فیصد سے زائد حذوف کو مشکوک سمجھا جاتا ہے اور اس کی ذاتی تصدیق لازم ہے؛ مگر دہلی کے سیکڑوں بوتھوں پر یہ حد بری طرح پامال ہوئی۔ چاندنی چوک کے ایک بوتھ پر، جہاں 2025 میں 909 ووٹر تھے، مسودہ فہرست میں تمام نام اڑا دیے گئے اور صرف ایک ووٹر باقی بچا۔ منگول پوری میں کئی ایسے افراد کو مُردہ قرار دیا گیا جو اپنے اپنے گھروں میں زندہ موجود تھے۔
سب سے تشویش ناک پہلو اپیل کے نظام کی سست روی ہے، جو خود اس عمل کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ مغربی بنگال میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر انیس اپیلیٹ ٹریبونل قائم کیے گئے۔ کمیشن کے حلف نامے کے مطابق حذف شدہ ووٹروں کی جانب سے تقریباً اڑتیس لاکھ اپیلیں دائر ہوئیں مگر اپریل سے اب تک محض ایک لاکھ چھبیس ہزار ہی نمٹائی جا سکیں، یعنی اوسطاً پچیس ہزار ماہانہ۔ 16؍ ستمبر تک سینتیس لاکھ سے زائد اپیلیں زیرِ التوا تھیں۔ اسی رفتار سے تمام مقدمات نمٹانے میں بارہ سال سے زائد لگیں گے۔ گویا وہ شہری جو غلط طور پر فہرست سے نکالا گیا وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک ووٹ نہیں دے سکے گا۔ اس دوران کئی انتخابات آئیں گے اور گزر جائیں گے۔ اور جو ایک لاکھ چھبیس ہزار اپیلیں نمٹائی گئیں، ان میں سے نوّے فیصد سے زائد (تقریباً ایک لاکھ چودہ ہزار) ناموں کو دوبارہ فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ غالب اکثریت غلط طور پر حذف کی گئی تھی۔ حذف کرنے کا یہ کام جب خود ہی اتنے بڑے پیمانے پر غلط ثابت ہو رہا ہو تو یہ اسے انتظامی غلطی نہیں کہا جا سکتا بلکہ حقِ رائے دہی پر ایک منظم حملہ تصور کیا جائے گا، کیونکہ جس سسٹم کی اصلاح بھی بارہ سال بعد ہو، وہ عملاً کسی کام کا نہیں ہے۔
اسی سبب سے اپوزیشن کی ووٹ چوری مہم کو تقویت ملی ہے۔ راہل گاندھی نے ووٹر ادھیکار یاترا نکالی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ حذف کیے گئے لاکھوں نام غریب، دلت، مہاجر اور کمزور طبقات کے ہیں، اور یہ کہ الیکشن کمیشن درحقیقت برسرِ اقتدار جماعت کے حق میں کام کر رہا ہے۔ ترنمول کانگریس نے بنگال میں بغیر سماعت کے ناموں کے حذف کرنے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ جبکہ عام آدمی پارٹی نے دہلی میں دعویٰ کیا کہ نمونے کے طور پر جانچے گئے حذف شدہ ووٹروں میں سے بیشتر بقیدِ حیات اپنے اپنے پتوں پر موجود تھے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اسے ایک شفاف اور قانونی عمل قرار دیتا ہے جس میں کئی حفاظتی تدابیر شامل ہیں، وہ مزید کہتا ہے کہ اکثر جائز دعوؤں پر نام بحال کر دیے جاتے ہیں۔ مئی 2026 میں سپریم کورٹ نے بھی SIR کو کمیشن کے قانونی و آئینی اختیار کے دائرے میں قرار دے کر اس کی قانونی حیثیت برقرار رکھی۔ اگرچہ عدالت نے ساتھ ہی کئی اصلاحی ہدایات بھی دیں، مثلاً حذف شدہ ناموں کی فہرست کی اشاعت اور آدھار کو قابلِ قبول دستاویز میں شامل کرنا وغیرہ۔ یہ ہدایات خود اس بات کا اعتراف ہیں کہ ایس آئی آر کا عمل بے داغ نہیں تھا۔
آئین ہر بالغ شہری کو مساوی حقِ رائے دہی (دفعہ 326) اور قانون کے سامنے برابری (دفعہ 14) کی ضمانت دیتا ہے "ایک فرد، ایک ووٹ، ایک قدر" ہماری جمہوریت کی روح ہے۔ ماہرینِ قانون کی تشویش یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا ایک عام انتظامی اختیار SIR کی صورت میں ایک غیر معمولی کردار اختیار کر گیا ہے اور کمیشن کی غیر جانبداری ہی دراصل شہری کے حقِ رائے دہی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ جب ریفری ہی مشکوک کردار ادا کرے تو پورے کھیل کی ساکھ ہی مجروح ہوتی ہے۔
فہرست کا درست ہونا ضرور مطلوب ہے، مگر اس کی قیمت اہل شہری کی محرومی نہیں ہونی چاہیے۔ اصولی بات یہ ہے کہ کسی کو نا اہل ثابت کرنے کا بوجھ ریاست پر ہونا چاہیے نہ کہ شہری پر کہ وہ اپنے آپ کو اہل ثابت کرے؟ نظر ثانی انتخابات سے عین قبل ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے؛ اپیل کا نظام اتنا تیز ہونا چاہیے کہ کوئی اہل شہری ناحق نا اہل نہ قرار پائے۔ بارہ سالہ انتظار کا مذاق نہ بنے؛ اور بنیادی فہرست و طریقہ کار مکمل شفاف ہو۔ جب لاکھوں شہریوں کے نام خاموشی سے فہرست سے غائب کر دیے جائیں تو یہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں رہتا بلکہ جمہوریت کی بنیاد کا بتدریج انہدام کہلاتا ہے۔ کسی بھی نظرثانی کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہے کہ اس نے کتنے نام حذف کیے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے کتنے اہل شہریوں کو غلط طور پر ووٹر لسٹ سے باہر ہو جانے سے بچایا۔