جب 1945 میں دوسری جنگِ عظیم کے کھنڈرات پر اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس کے منشور کا پہلا وعدہ یہ تھا کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاری سے بچایا جائے گا۔ لیکن اسّی ہی برس گزرے تھے کہ آج دنیا یوکرین اور خلیج فارس کے محاذوں پر اس وعدے کی دھجیاں اڑتے دیکھ رہی ہے، اور وہ ادارہ جو امن کا محافظ بنایا گیا تھا محض ایک تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ یہ ناکامی اتفاقی نہیں ہے بلکہ اس بنیادی خامی کا نتیجہ ہے جو خود اس ادارے کی تشکیل میں موجود تھی۔
اقوامِ متحدہ، لیگ آف نیشنز کی ناکامی کے بعد اس امید پر قائم ہوئی تھی کہ عالمی تنازعات کو طاقت کے بجائے مکالمے سے حل کیا جائے گا۔ اس کے مقاصد بلند تھے، یعنی عالمی امن، انسانی حقوق کا تحفظ، ترقی اور نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ وغیرہ۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس کی کامیابیوں کو بھی تسلیم کیا جائے۔ مثلاً دنیا کے کئی خطوں میں امن مشن، بیماریوں کے خلاف عالمی مہمات، لاکھوں پناہ گزینوں کی مدد اور درجنوں قوموں کی آزادی میں معاونت اسی ادارے کی مرہون منت ہیں۔ مگر جہاں بڑی طاقتوں کے مفادات ٹکراتے ہیں وہاں یہ ادارہ بھیگی بلی بن جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی اصل خرابی اس کے تشکیلی ڈھانچے میں ہے۔ منشور بظاہر تمام رکن ممالک کی خود مختار مساوات کا اعلان کرتا ہے مگر عملاً اس نے پانچ سوپر پاور ممالک، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت اور ویٹو کا وہ اختیار دے دیا جو انہیں باقی دنیا سے بالاتر بنا دیتا ہے۔ 1945 میں جب ادارہ بنا تھا تو اس کے رکن ممالک کی تعداد اکیاون تھی اور آج یہ تعداد ایک سو ترانوے ہے۔ دنیا بدل گئی، نوآبادیات ختم ہو گئیں، نئی طاقتیں ابھریں مگر سلامتی کونسل کا وہی پانچ رکنی سوپر پاوروں کا گروپ آٹھ دہائیوں سے بدستور اس پر مستولی ہے۔ ویٹو دراصل ادارہ جاتی شکل میں ڈھلی ہوئی ناانصافی ہے۔ ان پانچ ممالک میں سے کوئی بھی کسی بھی قرارداد کو، خواہ اس کے حق میں پوری دنیا کیوں نہ ہو جائے، اکیلا روک سکتا ہے۔
یہی ساختیاتی خرابی تاریخ میں بار بار المیوں کو جنم دیتی رہی ہے۔ سرد جنگ کے پورے دور میں سلامتی کونسل ویٹو کی زد میں مفلوج بنی بیٹھی رہی۔ 1994 میں روانڈا کی نسل کشی کے دوران، جس میں لاکھوں افراد قتل ہوئے، یہ ادارہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ 1995 میں سربرینیکا کا قتلِ عام اسی کی بے حسی کی داستان ہے۔ 2003 میں عراق پر حملہ کونسل کو خاطر میں لائے بغیر ہوا۔ شام کے بحران میں روس اور چین کے مسلسل ویٹوز نے کسی مؤثر کارروائی کو ناممکن بنا دیا اور فلسطین کے معاملے میں امریکہ کے بار بار کے ویٹو نے اسرائیل کو ہر احتساب سے محفوظ رکھا۔ ان تمام واقعات میں ایک چیز مشترک نظر آتی ہے، وہ یہ کہ جہاں کوئی فریق مستقل رکن یا اس کا حلیف ہو وہاں کونسل اندھی بہری ہو جاتی ہے۔
یوکرین اس بے بسی کی سب سے واضح مثال ہے۔ فروری 2022 میں روس نے یوکرین پر بھرپور حملہ کیا اور جب سلامتی کونسل میں جارحیت روکنے اور فوجوں کی واپسی کی قرارداد پیش ہوئی تو خود حملہ آور روس نے اپنے خلاف قرارداد کو ویٹو کر دیا، حالانکہ منشور کی دفعہ 27 (3) صاف کہتی ہے کہ کسی بھی تنازعے کا فریق ووٹنگ سے الگ رہے گا۔ کونسل جام ہو گئی تو معاملہ جنرل اسمبلی کے "یونائیٹنگ فار پیس" طریقہ کار کے تحت وہاں لے جایا گیا اور ویٹو کے استعمال پر جواب دہی کے لیے نیا ضابطہ بھی بنا۔ مگر سب سے چشم کشا لمحہ فروری 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے اپنی پالیسی بدل کر روس اور چین کے ساتھ مل کر ایک ایسی مبہم قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس میں نہ حملہ آور کا نام تھا نہ یوکرین کی خود مختاری کا، محض نام نہاد پائیدار امن کی ایک رسمی اپیل تھی۔ یوں اصول کی جگہ بڑی طاقتوں کی سہولت نے لے لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں عام شہریوں کی ہلاکتیں 2024 کے مقابلے میں ایک سو چودہ فیصد زیادہ رہیں، جبکہ کونسل بدستور بے اثر رہی۔
خلیج فارس کا منظر نامہ اسی تسلسل کا نتیجہ ہے مگر اس کا رخ الٹا ہے۔ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اس پر سلامتی کونسل نے قرارداد 2817 منظور کی جس میں ایران کے جوابی حملوں کی سخت مذمت تو کی گئی ہے مگر جن امریکی اور اسرائیلی حملوں سے جنگ کا آغاز ہوا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ چین اور روس نے ویٹو کے بجائے محض رائے دہی سے گریز کیا جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایک اور قرارداد کو انہی دونوں ممالک نے ویٹو کر دیا۔ ایران کے سفیر نے اسے اپنے ملک کے خلاف یہ کہہ کر کھلی ناانصافی قرار دیا کہ جو ملک جارحیت کا اصل شکار ہے اسی کی مذمت ہو رہی ہے۔ یوکرین میں روس اپنے آپ کو ویٹو سے بچاتا ہے اور خلیج میں امریکہ خود کو اور اپنے حلیف کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ذہنیت ایک ہی سامنے آتی ہے کہ ویٹو ہمیشہ طاقتور کی ڈھال بنتا رہا ہے۔
یہی دوہرا معیار اس عالمی ادارے کی ساکھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ پانچ مستقل ارکان میں سے تین امریکہ، برطانیہ اور فرانس مغربی طاقتیں ہیں جو روس و چین کے ساتھ مل کر عالمی فیصلوں کو تہس نہس کرتے ہیں۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ، یعنی دنیا کی غالب اکثریت حقیقی اختیار سے محروم ہے۔ کہیں کسی جارحیت پر فوری چیخ و پکار، اور کہیں ویسی ہی جارحیت پر مکمل خاموشی! یہ طریقہ اصول نہیں بلکہ یہ طے کرتا ہے کہ فریق اصل میں کون ہے؟ جب انصاف کا ترازو یوں ڈولنے لگے تو ادارے کی اخلاقی ساکھ باقی نہیں رہتی۔
اسی لیے سلامتی کونسل کی اصلاح اب کوئی سفارش نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن گئی ہے۔ 2024 کے "سمٹ آف دی فیوچر" میں منظور کردہ "پیکٹ فار دی فیوچر" نے ایک ایسی کونسل کا وعدہ کیا جو نمائندہ، مؤثر، جمہوری اور جواب دہ ہو اور افریقہ کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کے ازالے کو ترجیح قرار دیا۔ جی-4 گروپ (بھارت، برازیل، جرمنی، جاپان) کا مطالبہ ہے کہ کونسل کو موجودہ تعداد کو پندرہ سے بڑھا کر پچیس یا چھبیس رکنی کی جائے، جس میں چھ نئی مستقل نشستیں ہوں، دو افریقہ، دو ایشیا-پیسیفک اور لاطینی امریکہ و مغربی یورپ کے لیے فی کس ایک ہو۔
سب سے کھلا تضاد ایشیائی نمائندگی میں ہے۔ دنیا کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی ایشیا میں بستی ہے، مگر اس براعظم کی صرف ایک مستقل نشست چین کی ہے جبکہ افریقہ کے چوّن ممالک میں سے ایک بھی نہیں ہے۔ بھارت جو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری اور سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے آج بھی اس کے دروازے پر دستک دے رہا ہے مگر چین اس کی راہ روکے کھڑا ہے۔ اٹھارہ برسوں سے جاری بین حکومتی مذاکرات (IGN) عملاً بے نتیجہ ہیں۔ اصل رکاوٹ یہ ہے کہ منشور میں ترمیم کے لیے انہی پانچ مستقل ارکان کی توثیق درکار ہے جو اپنے مراعات میں کمی کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ یعنی جس ادارے کی اصلاح مطلوب ہے اس کی سرداری انہی کے ہاتھ میں ہے جو دراصل اس کی اصلاح ہی نہیں چاہتے۔
یقیناً اقوامِ متحدہ کا یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اسے ترک نہیں کیا جا سکتا، مگر اتنا ناقص بھی ہے کہ اسے موجودہ شکل میں جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ 1945 کے سانچے میں ڈھلی ہوئی مشینری 2026 کی دنیا کو نہیں چلا سکتی۔ اس کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ کونسل کی توسیع ہو، ایشیا و افریقہ اور عالمی جنوب کی حقیقی شمولیت ہو اور ویٹو کے بے لگام اختیار پر قدغن لگے۔ کم از کم یہ اصول تو نافذ ہونا چاہیے کہ تنازعے کا فریق اپنے مقدمے میں خود منصف نہ بنے۔ ورنہ خطرہ ہے کہ یہ ادارہ بھی لیگ آف نیشنز کی طرح بے وقعت ہو کر رہ جائے گا اور جنرل اسمبلی جیسے متبادل آہستہ آہستہ اس کی جگہ لینے لگیں گے۔ کسی بھی عالمی ادارے کی کامیابی کا پیمانہ یہی ہے کہ وہ کمزور کو طاقتور کے ظلم سے بچائے؛ افسوس کہ آج اقوامِ متحدہ اکثر طاقتور کو احتساب سے بچاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یوکرین اور خلیج فارس محض دو سانحے نہیں ہیں بلکہ ایک بیمار نظام کی علامتیں ہیں اور اصلاح اب عالمی جنوب پر کوئی احسان نہیں بلکہ خود اقوامِ متحدہ کی روح کو بچانے کی واحد صورت ہے۔