گزشتہ دنوں آذربائیجان کے تعلیمی اداروں سے سامنے آنے والے مناظر نے ہر باضمیر انسان کو جھنجھوڑ دیا ہے: اسکول کے گیٹ پر روک دی جانے والی باحجاب طالبات، تئیس سالہ تدریسی خدمات کی حامل ایک معلّمہ کو محض سر ڈھانپنے کی پاداش میں کلاس روم میں داخلے سے ممانعت اور استانی کے گلے لگ کر سسکیاں لیتی ہوئی معصوم بچیاں۔ 21 ستمبر 2026 کو کابینہ کے ایک فیصلے اور قبل ازیں جولائی میں قانونِ عمومی تعلیم میں صدر الہام علییف کی توثیق کردہ ترمیم کے بعد اسکولوں میں نام نہاد "سیکولر اصولوں کے منافی" لباس کے انسداد کے نام پر عملاً حجاب کو نشانہ بنایا گیا۔ اکتوبر سے اس پابندی کے نفاذ کے بعد پرامن احتجاج پھوٹ پڑا، گرفتاریاں ہوئیں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد عالمی و علمی اداروں نے فیصلے کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔ مگر صدر علییف نے ترکیہ اور دیگر حلقوں کی اپیلوں کو "طرزِ زندگی میں مداخلت" قرار دے کر مسترد کر دیا۔ چھیانوے فیصد مسلم آبادی کے حامل ملک میں ایک طالبہ کو محض اپنا سر ڈھانکنے کی بنا پر حقِ تعلیم سے محروم کرنا جدید دور کے نام نہاد آزادی نسواں کے دعوے داروں کے کھوکھلے پن کی نشانی ہے۔
یہ سانحہ کسی الگ تھلگ ردِ عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ اسلاموفوبیا کی وہ گرم لہر ہے جو حالیہ برسوں، بالخصوص سانحۂ غزہ کے بعد دنیا بھر میں تیزی سے چلائی جا رہی ہے۔ مغرب میں دائیں بازو کے انتہا پسندانہ عروج اور مسلمانوں کے وجود کو مستقل شک کے دائرے میں رکھنے کی جو ناپاک روایت قائم ہوئی ہے اب وہ تنگ نظر سیکولرازم کی آڑ میں مسلم اکثریتی خطوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس فکری و سیاسی یلغار میں حجاب کو نشانہ اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ یہ اسلامی تشخص اور مسلم شناخت کا سب سے واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
عالمی نقشے پر نگاہ ڈالی جائے تو حجاب کے خلاف مہم کا ایک وسیع جال دکھائی دیتا ہے جس کے دونوں سرے ایک ہی نوع کے استبداد پر منتج ہوتے ہیں۔ ایک جانب نام نہاد روشن خیال مغرب ہے: فرانس (جہاں اسکولوں میں 2004 سے حجاب، 2011 سے نقاب اور حال ہی میں عبایہ پر پابندی لگی ہے) بیلجیم، آسٹریا، ڈنمارک اور جرمنی وغیرہ ممالک؛ دوسری جانب ہمارے ملک میں 2022 کا کرناٹک تنازع جہاں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ مسلم اکثریتی ریاستیں بھی اسی روش پر گامزن نظر آتی ہیں: تاجکستان نے جون 2024 میں حجاب کو "اجنبی لباس" قرار دے کر پابندی لگائی، قازقستان و کرغیزستان نے چہرہ ڈھانپنے کو ممنوع ٹھیرایا اور اب آذربائیجان کی حکومت بھی اسی صف میں شامل ہو چکی ہے۔
یہیں سے اس معاملے کا اصل فکری تضاد سامنے آتا ہے۔ مغرب ایک جانب تو انفرادی آزادی اور خواتین کے حقوق کی دہائی دیتا ہے اور جبری حجاب کے خلاف آواز بلند کرتا ہے مگر دوسری جانب مسلم عورت کو جبراً بے حجاب ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر مسئلہ واقعتاً خود مختاری کا ہوتا تو عورت کے لیے حجاب اختیار کرنے یا ترک کرنے، دونوں کے مساوی حقوق تسلیم کیے جاتے۔ جب ایک جائز انتخاب کو حکومتی طاقت سے سلب کیا جائے تو یہ آزادی نہیں بلکہ استبداد اور جبری نفاذ کہلاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید لا دین حکومتوں کو عورت کے تحفظ سے نہیں بلکہ اس کے دینی تشخص کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اپنی نظریاتی اختلاف سے الرجی ہے۔
اس تمام تر دباؤ کے متوازی ایک نہایت خوش آئند رجحان بھی سامنے آیا ہے جو استبداد کے ان ہتھکنڈوں کو بے اثر کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا بھر میں نوجوان مسلم نسل اسلامی شعائر کو کسی رسمی روایت کے بجائے باقاعدہ فکری انتخاب کے طور پر اپنا رہی ہے۔ غزہ کے واقعات کے بعد جہاں سنجیدہ حلقوں میں مطالعہ قرآن کا رجحان بڑھا ہے، وہیں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کی سڑکوں پر طالبات، معلمات اور ان کی حمایت میں کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے والے طلبا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جبر کے ذریعے تشخص کو مٹانے کی کوشش شعور کو مزید بلندی عطا کرتی ہے۔ چنانچہ آذربائیجان کے حالیہ مظاہرے محض ردِعمل نہیں بلکہ ایک زندہ ضمیر کے گواہ ہیں۔ "حجاب تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں" کے پلے کارڈرس، تعلیم و ملازمت اور ایمان میں سے ایمان کا انتخاب اور سوشل میڈیا سنسرشپ کے باوجود صدائے حق بلند کرنا اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ اسلامی عقائد کو قانونی احکامات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ اگرچہ یہ پابندی ہنوز برقرار ہے مگر اس مزاحمت نے اس مسئلے کو بین الاقوامی اخلاقی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ 2010 میں بھی آذربائیجان میں عوامی احتجاج کے بعد ایسی ہی پابندی پسپا ہوئی تھی اور موجودہ بیداری خود اپنے آپ میں ایک اخلاقی فتح ہے۔ آذربائیجان کے اس واقعے میں امتِ مسلمہ کے لیے کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ اولاً یہ کہ مسلم تشخص کسی سیاسی دباؤ کے سامنے سرنگوں ہونے کے لیے نہیں بنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے دباؤ میں آ کر اپنے شعائر و علامات سے دستبرداری اختیار کی اس کا فکری زوال ہو کر رہا۔ اس تشخص کی حفاظت کے لیے جبر کا جواب تشدد کے بجائے اخلاقی برتری، ثباتِ قدمی اور پرامن مزاحمت سے دینا ہی وہ رویہ ہے جو استبداد کو شکست دیتا ہے۔ ثانیاً، عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ "آزادی" اور "حقوق" کے مفہوم پر مغرب قابض ہو کر بیٹھا ہے۔ وہ جبری بے پردگی کو تو روشن خیالی کہتا ہے مگر اپنی مرضی کے حجاب کو جبر ٹھیراتا ہے۔ لہٰذا امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ معذرت خواہانہ روِش چھوڑ کر انتخاب کی حقیقی آزادی اور وقارِ نسواں کا اسلامی تصور مضبوط استدلال کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ ثالثاً، اسلام نے جس امت کا خاکہ پیش کیا ہے وہ ایک جسدِ واحد کی مانند ہے۔ باکو کی باحجاب طالبات پر جب تعلیم کے دروازے بند کیے گئے تو اس کی تکلیف ہر باضمیر مسلمان نے محسوس کی ہے۔ قومی مملکتوں کی جغرافیائی سرحدیں ایمانی رشتے کو ختم نہیں کر سکتیں؛ لہٰذا تمام مسلم ممالک کو مظلوموں کے حقوق کے لیے ہر ممکن اخلاقی، سفارتی اور فکری سطح پر یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔ رابعاً، اس واقعے کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ مزاحمت کے ہراول دستے میں اسکول و کالج کی نو عمر طالبات اور با ضمیر طلبا شامل ہیں۔ مادہ پرستی کے اس دور میں نئی نسل کی شعائرِ اسلامی سے وابستگی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ دین کو رسم و رواج کے بجائے با قاعدہ فکری انتخاب کے طور پر اپنا رہی ہے۔ بزرگوں اور اداروں کا فرض ہے کہ وہ اس بیداری کی قدر کریں اور اس کی صحیح فکری آبیاری کریں۔ آذربائیجانی نوجوانوں نے واضح کیا کہ حقوق کی بازیابی کا پائیدار راستہ اشتعال انگیزی نہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد ہے۔ عدالتوں سے رجوع کرنا، انسانی حقوق کے فورموں پر آواز اٹھانا اور علمی بیانیہ سازی کرنا وہ ہتھیار ہیں جو جبر کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر سکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ اس المیے کا ایک تلخ ترین پہلو بھی ہے کہ مسئلہ صرف غیروں کی عداوت کا نہیں ہے بلکہ اپنوں کی بغاوت کا بھی ہے۔ چنانچہ مسلم اکثریتی خطوں میں بھی آمرانہ رویوں اور تنگ نظر لا دینیت کی اندھی تقلید نے مسلم معاشروں کو اندر سے بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ اپنے ہی عوام کے مذہبی جذبات سے برسرِ پیکار ہونا حکم رانوں کے فکری دیوالیہ پن کا ثبوت ہے، جس کے خلاف خود مسلم دنیا کے اندر سنجیدہ فکری احتساب کی ضرورت ہے۔ پیرس ہو، اڈپی ہو، دوشنبہ ہو یا باکو، جدید مادہ پرست ریاست اس عورت کو تو قبول کر لیتی ہے جو اپنے نظریے سے دستبردار ہو جائے لیکن اس باحجاب عورت سے خوف زدہ ہے جو اپنے ایمان کا علی الاعلان اظہار کرتی ہے۔ سہولت کے بجائے مشقت اور عقیدے کو ترجیح دینے والا یہ استقامت بھرا رویہ دراصل اس حقیقت کی گواہی ہے کہ آزمائشوں کی بھٹی سے گزر کر ہی ایک سچا مسلمان کندن بن کر نکھرتا ہے۔