غزہ کے کھنڈرات، اجڑی ہوئی بستیوں اور بے گناہ انسانوں کی مسلسل ہلاکتوں نے دنیا کے ہر باضمیر انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی فوج داری عدالت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر چکی ہے تو دوسری طرف یہ تلخ حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ غزہ کے نہتے شہریوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی سپلائی چین میں بھارت بھی ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے۔
یہ محض ایک الزام یا سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ حقوق انسانی کی معتبر عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ تحقیقی رپورٹ ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں تجارتی اعداد و شمار، کسٹم دستاویزات اور متعلقہ کمپنیوں کے سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لے کر بتایا گیا ہے کہ بھارت، خواہ سرکاری اداروں کے ذریعے ہو یا نجی کمپنیوں کے توسط سے اسرائیل کی جنگی ضروریات پوری کرنے میں شریک ہے۔ رپورٹ کے مطابق 7؍ اکتوبر 2023 سے 30؍ نومبر 2025 کے درمیان بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں، اسلحہ جاتی پرزوں اور گولہ بارود کی کم از کم 2596 کھیپیں بھیجی گئیں۔ ان میں فوجی نوعیت کے تقریباً 3 لاکھ 90 ہزار چھوٹے اسلحہ جاتی پرزے، دھماکہ خیز گولہ بارود کے 5 لاکھ 64 ہزار سے زائد اجزا، ڈرون وار ہیڈز، توپ کے گولوں کے خول اور فوجی گاڑیوں کے سیکڑوں پرزے شامل ہیں۔
اس معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس تجارت میں صرف نجی کمپنیاں ملوث نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو یہ سامان برآمد کرنے والی نو کمپنیوں میں سے تین براہ راست حکومت ہند کی ملکیت ہیں۔ نجی شعبے میں اڈانی گروپ اور اسرائیل کے ایک اسلحہ ساز ادارے کے مشترکہ منصوبے نے مشین گنوں کے ہزاروں پرزے اور بولٹ کیریئر فراہم کیے ہیں۔ بھارت فورج سے وابستہ ایک کمپنی نے 155 ملی میٹر توپ کے گولوں کے ہزاروں خول ایلبٹ سے منسلک ایک فرم کو بھیجے۔ ایک اور مشترکہ ادارے نے دسمبر 2025 میں ’’اسکائی اسٹرائیکر‘‘ خود کش ڈرون کے لیے دھماکہ خیز وار ہیڈز فراہم کیے ہیں۔ یہ وہی ڈرون ہے جس کا ملبہ غزہ کی تباہ شدہ بستیوں میں دستاویزی طور پر پایا گیا ہے۔
اسلحہ اور جنگی ٹیکنالوجی کی یہ تجارت کسی وقتی انتظام کا حصہ نہیں ہے بلکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تیزی سے گہرے ہوتے ہوئے دفاعی تعلقات کا مظہر ہے۔ اسٹاک ہوم کے معروف تحقیقی ادارے سِپری کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار رہا۔ نومبر 2025 میں دونوں ملکوں نے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک مفاہمتی معاہدہ بھی کیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ غزہ کے تاریخی انسانی المیے کے بعد دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کم زور ہونے کے بجائے مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
اس تجارت کی اخلاقی اور قانونی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوج داری عدالت نے نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کے مطابق ان دونوں کے خلاف جنگی جرائم، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، شہری آبادی پر جان بوجھ کر حملے کرنے اور قتل، تعذیب اور دیگر انسانیت سوز جرائم کے معقول شواہد موجود ہیں۔ یہ وارنٹ عدالت کے 125 رکن ممالک کو پابند کرتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو ان کی حدود میں داخل ہوں تو انہیں گرفتار کیا جائے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ نسل کشی کے مخصوص الزام سے متعلق مقدمہ الگ سے عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے، لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت حقوق انسانی کی متعدد عالمی تنظیمیں غزہ کی صورت حال کو کھلے لفظوں میں نسل کشی قرار دے چکی ہیں۔
یہیں ایک بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے: جب کسی ریاست کا سربراہ جنگی جرائم اور جرائم بہ خلاف انسانیت کے الزامات میں ایک عالمی عدالت کو مطلوب ہو اور اس کی حکومت کے ہاتھ ہزاروں بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہوں تو اس کی جنگی مشن کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے والے کو کیا محض ایک تاجر قرار دیا جا سکتا ہے؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا موقف واضح ہے کہ اسرائیل کو اسلحے کی مسلسل برآمد بھارت کو شراکتِ جرم کے سنگین خطرے سے دوچار کرتی ہے۔ بین الاقوامی قانون میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ صرف جرم کا براہ راست ارتکاب کرنے والا ہی جواب دہ نہیں ہوتا بلکہ وہ فریق بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا جو جرم کے امکان سے واقف ہونے کے باوجود اس کے لیے وسائل اور آلات فراہم کرے۔
اس صورت حال کی تلخی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب بھارت کی تاریخی خارجہ پالیسی کو سامنے رکھا جائے۔ یہ وہی ملک ہے جس نے تحریک عدم وابستگی کی قیادت کی، فلسطینی جدوجہد کی بھرپور حمایت کی اور 1988 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ گاندھی اور نہرو کے ہندوستان میں فلسطین محض خارجہ پالیسی کا ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک اصولی اور اخلاقی موقفکی علامت تھا۔
لیکن آج بھارت عالمی فورموں پر فلسطین کے معاملے میں مسلسل کنارہ کشی کی روش اختیار کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ جون 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی قرارداد پیش ہوئی تو 149 ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا لیکن بھارت ان چند ملکوں میں شامل تھا جنہوں نے رائے دہی سے گریز کیا۔ اس سے قبل بھی بھارت نے اپریل 2024 میں اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد پر غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی تھی۔
ستمبر 2024 میں بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی اسرائیل کو اسلحے کی برآمد روکنے کے لیے دائر درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ یہ خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس عدالتی فیصلے نے معاملے کی قانونی بحث کو ایک جانب کر دیا لیکن اس سے حکومت کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ حکومت ہند اپنے طرز عمل کا جواز بات چیت، سفارت کاری اور دو ریاستی حل جیسے خوش نما الفاظ میں تلاش کرتی ہے۔ بلاشبہ اسرائیل کے ساتھ بھارت کے دفاعی اور تکنیکی تعلقات کے پیچھے ٹھوس اسٹریتجک مفادات کار فرما ہیں اور کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے قومی مفادات سے یکسر صرفِ نظر نہیں کر سکتی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا قومی مفاد کی قیمت بے گناہ انسانوں کے خون سے ادا کی جا سکتی ہے؟
تاریخ ان قوموں کے کردار کو معاف نہیں کرتی جو مظلوموں کے خون کو تجارتی منافع کے ترازو میں تولتی ہیں۔ بھارت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنی تاریخی اور اخلاقی وراثت کی طرف لوٹے، اپنی خارجہ پالیسی کو محض مالی اور اسٹریٹجک مفادات کے بجائے عدل، انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر استوار کرے اور دنیا کو یہ باور کرائے کہ فلسطینی عوام کے لیے اس کی ہمدردی محض رسمی بیانات اور کاغذی قراردادوں تک محدود نہیں ہے بلکہ عملی میدان میں بھی وہ سب سے آگے ہے، ورنہ آنے والی نسلیں یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب غزہ جل رہا تھا تو ہمارا ملک آگ بجھانے والوں میں شامل تھا یا آگ کو ایندھن فراہم کرنے والوں کے میں؟