ڈیجیٹل دور میں ہر شہری کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ ایک حقیقی اور ناگزیر ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے تحت بھارت کا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (DPDP) ایکٹ سامنے آیا جو بظاہر شہریوں کی نجی معلومات کو بڑی ٹیک کمپنیوں اور ڈیٹا کی چوری سے بچانے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر جیسے جیسے اس قانون کی تفصیلات اور اس کے تازہ ضوابط سامنے آئے ہیں، یہ خدشہ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے کہ یہ قانون شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت سے زیادہ، طاقت وروں کو احتساب سے بچانے، معلومات تک رسائی کے حق (RTI) کو کمزور کرنے اور آزادیِ صحافت پر قدغن لگانے کا ذریعہ بن سکتا ہے!
اس قانون کی تشکیل کا سفر دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ عبرت ناک بھی ہے۔ اس کا آغاز 2017 کے پٹا سوامی فیصلے سے ہوا جس میں سپریم کورٹ نے رازداری کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دیا تھا۔ اس کے بعد جسٹس بی این سری کرشنا کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنی، جس کی سفارشات پر 2019 میں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پارلیمنٹ میں پیش ہوا اور مشترکہ کمیٹی کے سپرد ہوا۔ اگست 2022 میں حکومت نے یہ بل اچانک واپس لے لیا، پھر نومبر 2022 میں ایک نیا مسودہ آیا اور بالآخر 11؍ اگست 2023 کو موجودہ DPDP ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور ہوگیا۔ اس کے نفاذ کے لیے ضوابط کا مسودہ جنوری 2025 میں جاری ہوا اور 13 نومبر 2025 کو حتمی DPDP رولز کا اعلامیہ جاری ہوا۔ جب کہ اس کا نفاذ مختلف مرحلوں میں ہوگا۔ ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ قائم ہو چکا ہے، کنسنٹ منیجر کی رجسٹریشن 2026 میں اور بیشتر ذمہ داریاں و جرمانے مئی2027 سے لاگو ہوں گے۔ اس پورے قانون اور اس کے ضوابط پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو قانون رازداری کے حق کی ضمانت دینے والے فیصلے سے پیدا ہوا تھا اس کی حتمی شکل اس کی اصل روح سے مختلف ہو گئی ہے۔
اپنے بنیادی ڈھانچے میں یہ قانون چند اصطلاحات کے گرد گھومتا ہے مثلاً "ڈیٹا پرنسپل" وہ شہری ہے جس کی معلومات ہوتی ہیں؛ "ڈیٹا کا امین" وہ فرد، کمپنی یا ادارہ ہے جو ڈیٹا کو پروسس کرتا ہے؛ "کنسنٹ منیجر" وہ رجسٹرڈ ادارہ ہے جو رضامندی کے انتظام میں مدد دیتا ہے؛ اور "ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ آف انڈیا" اس قانون کی نگرانی و نفاذ کا ذمہ دار ہے۔ قانون کے مطابق ڈیٹا صرف رضامندی ہی سے جمع کیا جا سکتا ہے، شہری کو اس سلسلے میں واضح نوٹس دینا ہوگا، اسے اپنا ڈیٹا حذف کروانے کا حق حاصل ہوگا، ڈیٹا کی چوری کی اطلاع 72 گھنٹوں کے اندر دینی ہوگی، بچوں کے ڈیٹا کے لیے والدین کی اجازت لازم ہوگی اور خلاف ورزی پر ڈھائی سو کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ویسے کاغذ پر یہ ایک جدید، حقوق پر مبنی قانون اور ضابطہ ہے جو عالمی معیارات سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ کاغذ پر لکھے ہوئے قانون کا نہیں بلکہ اس کی چند مخصوص شقوں اور استثناؤں میں چھپا ہے۔
اس قانون کے سلسلے میں سب سے بڑا اور بنیادی خدشہ اس کی دفعہ 44(3) ہے، جو 2005 کے RTI ایکٹ کی دفعہ 8(1) (j) کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پہلے اس دفعہ کے تحت کسی عہدیدار کی ذاتی معلومات (مثلاً اثاثوں کی تفصیل، سرکاری خریداری یا طرزِ عمل) کو اس وقت ظاہر کیا جا سکتا تھا جب عوامی مفاد نجی رازداری سے زیادہ اہم ہو۔ عوامی مفاد والی یہی رعایت احتساب کی صحافت اور شہریوں کے حقِ معلومات کا سب سے بڑا ہتھیار تھی۔ اس ایکٹ کی دفعہ 44(3) اس توازن کو ختم کر دیتی ہے اور تمام ذاتی معلومات کو عوامی مفاد کے تقاضے کے باوجود روکا جا سکتا ہے۔ اسی لیے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ ترمیم RTI ایکٹ کی روح کو فنا کرنے والی ہے۔
دوسرا بڑا اندیشہ یہ ہے کہ اس قانون میں صحافت کے لیے کوئی استثنا نہیں رکھا گیا ہے، حالانکہ 2018، 2019 اور 2021 کے مسودوں میں یہ موجود تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک صحافی بھی ڈیٹا کا امین بن جاتا ہے؛ یعنی کسی بدعنوان عہدیدار کی تحقیق کرنے والے صحافی کے لیے بھی یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اسی فرد کو مطلع کرے اور اس سے رضامندی حاصل کرے جس کے خلاف وہ تحقیق کر رہا ہے۔ یہ عملاً "پیشگی سنسرشپ" ہے۔ اور عدم تعمیل کی صورت میں ڈھائی سو کروڑ کا جرمانہ ہر نیوز روم کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار بن جاتا ہے۔ تیسرا اندیشہ حکومت کے لیے وسیع استثنا ہے، جس کے تحت حکومت اور اس کے ادارے اس قانون کی کئی پابندیوں سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں، جس سے نگرانی (Surveillance) کے خدشات جنم لیتے ہیں۔ یعنی شہری تو رضامندی کا پابند ہو، مگر ریاست آزاد رہے! چوتھا، خود ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ کی غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان ہے، کیونکہ اس کے ارکان کا تقرر اور کنٹرول بڑی حد تک حکومت کے ہاتھ میں ہے؛ ایسے میں یہ بورڈ ریاست ہی کے خلاف غیر جانبدارانہ فیصلہ کیسے دے گا؟
اس قانون کے خلاف اٹھنے والی آواز کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع ہے اور یہی اس کی سنگینی کا ثبوت ہے۔ ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن نے اس ایکٹ اور اس کے ضوابط کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نفاذ سے نیوز روم بند ہو جائیں گے۔ یہ بات خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس خطرے کو صرف آزاد اور تنقیدی ڈیجیٹل میڈیا ہی نہیں بلکہ وہ ادارے بھی محسوس کر رہے ہیں جو حکومت نواز سمجھے جاتے ہیں۔ کیوں کہ جو تلوار صحافت پر گرتی ہے وہ ناقدوں اور فرماں برداروں میں فرق نہیں کرتی۔ دوسری طرف اپوزیشن اور RTI کے کارکن مدتوں سے اس دفعہ کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب خطرے کا یہ احساس اتنے متنوع حلقوں میں یکساں ہو تو اسے محض سیاسی مخالفت کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ یہ ایکٹ خود سپریم کورٹ کے پٹا سوامی فیصلے میں طے کردہ رازداری کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے، رازداری ایک بنیادی حق ہے، جب کہ RTI ایکٹ اپنی دیگر دفعات کے ذریعے شفافیت کو بدستور سہارا دیتا رہے گا۔ بلاشبہ رازداری واقعی ایک حق ہے اور بھارت کو ڈیٹا تحفظ کے قانون کی ضرورت تھی لیکن جس دفعہ 3 کو تحفظ کا سہارا بتایا جا رہا ہے وہ اب غیر متعلق ہو چکی ہے، کیونکہ خود دفعہ 8(1) کو پوری طرح سے بدل دیا گیا ہے اور شہریوں کے حقِ معلومات کو قانون سازوں کے برابر تسلیم کرنے والی شق کا حذف کیا جانا بالکل بلا جواز ہے۔ اسی سے درپردہ نیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ شبہ یہ ہے کہ اصل مقصد شہری کے ڈیٹا کا تحفظ سے زیادہ طاقت ور کو احتساب سے بچانا ہے، یعنی عہدیداروں کے ریکارڈ، اثاثوں اور بے ضابطگیوں کو رازداری کی دیوار کے پیچھے چھپا دینا ہے، جب کہ حکومت خود کو قانون سے مستثنیٰ قرار دے رہی ہے۔ ایک ایسا قانون جو شہریوں کو کچھ کمپنیوں کے سامنے تو با اختیار بنائے مگر حکومت کے سامنے بے اختیار کر دے، وہ دراصل رازداری کو ہتھیار بنا دینے کے مترادف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رازداری اور شفافیت دونوں ہی جمہوریت کے ستون ہیں۔ بدعنوانی کو بے نقاب کرنا عوامی مفاد کا لازمی تقاضا ہے اور یہ تقاضا خود رازداری کے تصور کا حصہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ایکٹ کی دفعہ 44(3) کو منسوخ کر کے یا اس میں ترمیم کر کے RTI کی عوامی مفاد کی رعایت بحال کی جائے، اس میں صحافت کے لیے واضح استثنا شامل کیا جائے، حکومت کو حاصل استثناوں کو محدود کیا جائے اور ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ کی غیر جانبداری یقینی بنائی جائے۔ فی الوقت یہ معاملہ جزوی طور پر سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور اس سلسلے میں عدالت کا فیصلہ ہی اہم ہوگا مگر آخری اور سب سے اہم فیصلہ ایک با خبر و بیدار شہری سماج ہی کا ہے، کیونکہ جو قانون ڈیٹا کی حفاظت کے نام پر شہری کے حق معلومات اور صحافی کے لکھنے کے حق کو خطرے میں ڈال دے وہ عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اقتدار کے لیے ڈھال ہے۔
اداریــــہ

ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ اور ضوابط: خطرات اور اندیشے رازداری کے تحفظ کے نام پر شفافیت اور آزادی صحافت پر وار؟

