حال ہی میں ریاست اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں میونسپل کونسلرز ہاتھوں میں گنگاجل لیے ہوئے یہ حلف اٹھا رہے ہیں کہ کارپوریشن کی آمدنی ساٹھوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگی۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد کارپوریشن نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، کونسلروں نے اسے پرانی اور ایڈیٹ شدہ ویڈیو قرار دے کر تردید کی ہے۔ اگرچہ یہ ویڈیو مصدقہ نہیں ہے مگر اس نے جس بے چینی کو جنم دیا، اس کی اصل وجہ محض اس ویڈیو میں نہیں ہے۔ اصل تشویش یہ ہے کہ لوٹ کھسوٹ اب اس قدر معمول بن چکی ہے کہ اسے گنگا جل، جسے ہندو مقدس سمجھتے ہیں، اس کے نام پر حلف اٹھا کر بد عنوانی کو منظم کرنے کا تصور بھی نا قابلِ یقین نہیں لگتا۔ یہی اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ بد عنوانی اب انفرادی حد تک محدود نہیں رہی، بلکہ اعلیٰ ترین سطحوں پر ایک ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اس ادارہ جاتی لوٹ کی سب سے بڑی مثال بینکوں کا قرضوں کو کھاتہ سے حذف (write-off) کرنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بینکوں نے تقریباً سولہ لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے قرضے، قرض دہندگان کے کھاتوں سے حذف کیے ہیں۔ ان میں چھوٹے قرض داروں کا حصہ پندرہ فیصد سے بھی کم ہے؛ بقیہ تقریباً چھپن فیصد، یعنی دس لاکھ کروڑ روپے بڑی صنعتوں اور کارپوریٹ گھرانوں کے کھاتوں میں جاتا ہے۔ اصل کھیل انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ (IBC) اور این سی ایل ٹی کے ذریعے کھیلا جاتا ہے، جہاں کھاتے سے قرض کا حذف کرنا محض تکنیکی نہیں رہتا بلکہ عملاً قرض معافی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب کوئی بڑی کمپنی قرض ادا نہ کرے تو معاملہ این سی ایل ٹی میں جاتا ہے، جہاں اکثر ستر سے نوے فیصد تک "ہیئرکٹ" لے لیا جاتا ہے، یعنی ہزار کروڑ روپے کا قرض محض دو تین سو کروڑ میں نمٹا دیا جاتا ہے اور باقی رقم ہمیشہ کے لیے ڈوب جاتی ہے، نتیجے میں کمپنی کے اثاثے کوڑیوں کے مول منتقل ہو جاتے ہیں۔ 25-2024 میں IBC کے تحت بینکوں کی وصولی محض سینتیس فیصد رہی؛ باقی تریسٹھ فیصد حصہ ڈوب گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین اس عمل کو بڑے سرمایہ داروں کی قرض معافی قرار دیتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ قرضوں کا یہ حذف کرنا محض ایک تکنیکی عمل ہے اور اس سے قرض دار کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان بڑے نادہندگان کے نام تک عوام سے چھپا لیے جاتے ہیں، جب کہ چند ہزار روپے کے کسان اور چھوٹے تاجر بینکوں کی وصولی مہم کا نشانہ بنتے ہیں۔ جون 2025 تک محض سرکاری بینکوں کے دو ہزار سے زائد ارادی نادہندگان (wilful defaulters) پر پونے دو لاکھ کروڑ روپے واجب الادا تھے۔ ایک طرف عام آدمی کے لیے قانون کی اتنی سختی کہ چند ہزار روپے کے قرض پر بھی کھیت اور مکان تک نیلام ہو جائیں اور دوسری طرف طاقتور کے لیے "ہیئرکٹ" کے نام پر عملاً قرض معافی کی رعایت! یہی دہرا معیار بدعنوانی کے ادارہ جاتی ہونے کی سب سے واضح علامت ہے۔
اگر کارپوریٹ قرضوں کی معافی ایک سرا ہے تو دوسرا سرا سیاسی فنڈنگ ہے۔ 2018 میں شروع کی گئی الیکٹورل بانڈ اسکیم کے ذریعے کمپنیاں اور افراد گمنام طور پر سیاسی جماعتوں کو چندہ دے سکتے تھے۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً سولہ ہزار پانچ سو اٹھارہ کروڑ روپے کے بانڈز کیش کرائے گئے اور ایک مرحلے پر یہ ملک میں سیاسی فنڈنگ کا تقریباً چھپن فیصد بن گئے۔ فروری 2024 میں سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر اس اسکیم کو غیر آئینی قرار دے دیا، کیونکہ یہ شہریوں کے "حقِ معلومات" کے خلاف تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ بڑی کمپنیوں کے چندے اور پالیسی سازی کے درمیان "کچھ لو کچھ دو" کا حقیقی خطرہ پایا جاتا ہے۔ اور جب ایس بی آئی کے فراہم کردہ اعداد و شمار سامنے آئے تو کئی مقامات پر چندے، سرکاری ٹھیکوں اور تفتیشی اداروں کی کارروائیوں کے درمیان وقت کی مطابقت مشتبہ نظر آئی۔ یہ محض ایک اسکیم کا معاملہ نہیں تھا بلکہ سرمائے اور اقتدار کے گٹھ جوڑ کو قانونی جامہ پہنانے کی کوشش تھی جسے بالآخر عدلیہ نے ہی ختم کیا۔
بد عنوانی کی ایک اور شکل وہ ہے جس میں مذہب اور گئو رکشا کے نام کی آڑ میں دیانت دار تاجروں کو لوٹا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، عدالتی مشاہدات اور خود پولیس کی کارروائیوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بہت سے نام نہاد گئو رکشک گروپس باقاعدہ بھتہ خوروں کی طرح کام کرتے ہیں۔ مویشیوں کی حمل و نقل کرنے والے تاجروں کو شاہراہوں پر روکا جاتا ہے، ان سے رقم بٹوری جاتی ہے، اور جو ادائیگی سے انکار کرے اس کے مویشی چھین لیے جاتے ہیں یا اس پر اسمگلنگ کے جھوٹے مقدمے درج کرا دیے جاتے ہیں۔ ایک سماجی کارکن کے بقول یہ ایک دھندا ہے؛ پیسے دو تو چھوڑ دیتے ہیں ورنہ مویشی یا رقم چھین لیتے ہیں۔ ماضی قریب ہی میں مہاراشٹر میں دو تاجروں کو مار پیٹ کر کے ان سے باون مویشی ضبط کر لیے گئے؛ کرناٹک میں ایک گئو رکشک سرغنے کو تاجروں سے بھتہ خوری کے الزام میں سخت غنڈہ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔
سب سے تشویش ناک بات یہ کہ کئی معاملات میں ریاستی مشینری مجرموں کے بجائے متاثرین کے خلاف ہی مقدمے درج کرتی ہے۔ یہ لوٹ محض معاشی نہیں بلکہ سماجی زہر بھی ہے۔
اس پورے منظر نامے کا آخری سرا عام شہری کی جیب ہے۔ ستمبر 2025 میں حکومت نے جی ایس ٹی کو دو بنیادی شرحوں (پانچ اور اٹھارہ فیصد) میں سمیٹ کر اسے دیوالی کا تحفہ قرار دیا، اور بلاشبہ بعض اشیا پر شرحیں کم بھی ہوئیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جی ایس ٹی بالواسطہ ٹیکس ہے جو تقریباً ہر خرید و فروخت پر بالآخر آخری صارف، یعنی عام آدمی ہی ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جی ایس ٹی وصولی ہر ماہ نئے ریکارڈ بناتی ہے، جو دراصل عوام کی جیب سے نکالے جانے والی رقم کا پیمانہ ہے۔ اس پر مستزاد بینکنگ اور آن لائن لین دین پر عائد چھوٹی چھوٹی فیسیں ہیں، کم از کم بیلنس نہ رکھنے کا جرمانہ، حد سے زائد اے ٹی ایم استعمال پر چارج، کارڈ ادائیگی پر مرچنٹ فیس اور اس پر مزید اٹھارہ فیصد جی ایس ٹی وغیرہ ہے۔ یو پی آئی اگرچہ ابھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے مگر دیگر خدمات پر لگنے والی فیسیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ یہ سب مل کر عام شہری کے کھاتے سے خاموشی سے رقم نوچتے رہتے ہیں۔
ان تمام چیزوں کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ایک ہی تصویر ابھرتی ہے: وارڈ کونسلروں کے گنگا جل حلف سے لے کر بورڈ روم کے کروڑوں کے "ہیئرکٹ" تک، اور الیکٹورل بانڈ سے لے کر شاہراہوں پر بھتہ خوری تک، یہ سب ایک ہی کھیل کی کڑیاں ہیں۔ بد عنوانی کی بد ترین صورت اس کا معمول اور اصول بن جانا ہے۔ جب لوٹ مار نظام کا حصہ بن جائے تو حیا مر جاتی ہے اور جب حیا مر جاتی ہے تو احتسابی عمل محض ایک رسم بن کر رہ جاتا ہے، کہیں تحقیقات کا حکم دے دیا جاتا ہے، کہیں نظر ثانی کی درخواست خارج ہو جاتی ہے، نتیجے میں معاملہ جہاں تھا وہیں رہ جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی نظام اس وقت زوال سے دوچار ہوتا ہے جب اس کے مال دار لوگ قانون سے بالاتر ہو جائیں اور غریب لوگ ہر طرف سے نچوڑے جائیں۔ اس گراوٹ کو روکنے کا واحد راستہ شفافیت اور بلا امتیاز اور کڑا احتساب ہے: بڑے نا دہندگان کے نام عوام کے سامنے آنے چاہئیں، سیاسی چندے کے ہر ایک روپیے کا حساب ہونا چاہیے، مذہب کے نام پر بھتہ خوری کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور عام شہری پر سے ٹیکسوں اور فیسوں کا غیر ضروری بوجھ اتارا جائے۔