10؍ اکتوبر کو دارالحکومت دہلی کی سڑکوں پر جب پولیس والے صحافیوں کو گھسیٹ کر زبردستی بسوں میں ڈال رہے تھے جب کہ صحافی اپنا پریس کارڈ دکھا کر اپنی پیشہ ورانہ شناخت واضح کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو جواب میں وہ صرف ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ "کوئی میڈیا ویڈیا نہیں ہے۔" یہ جملہ محض کسی ایک پولیس اہلکار کا منہ سے نکالا ہوا جملہ نہیں تھا بلکہ اس مخصوص سوچ کا عکاس تھی جس کے مطابق جہاں حکومت کی مرضی نہ ہو وہاں نہ کوئی گواہ ہو سکتا ہے، نہ کوئی کیمرہ اور نہ ہی کوئی سچائی پیش کی جا سکتی ہے۔ صحافتی تنظیموں نے اس دن کو ملکی تاریخ میں ایمرجنسی کے بعد پریس کی آزادی پر سب سے سفاکانہ حملہ قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ اچانک ہونے والی کسی لغزش کا نتیجہ نہیں بلکہ اس مسلسل اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے جس کا سلسلہ ملک میں برسوں سے چلا آ رہا ہے۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے پریس فریڈم انڈیکس 2026 میں بھارت 180 ممالک میں سے گر کر 157ویں درجے پر آ چکا ہے۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ درجے کی مزید گراوٹ اور انتہائی سنگین زمرے میں شمولیت کا ثبوت ہے۔ سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری کہلانے والا ملک، صحافتی آزادی کے اس اشاریے میں اپنے تقریباً تمام جنوبی ایشیائی پڑوسیوں سے پیچھے رہ گیا ہے؛ پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا اور نیپال سب کے سب بھارت سے بہتر پوزیشن پر ہیں۔ تنظیم نے اس گراوٹ کے اسباب بھی واضح کیے ہیں، جن میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات، میڈیا اداروں کی چند مخصوص ہاتھوں میں ملکیت، ذرائع ابلاغ کی کھلی سیاسی وابستگی اور خاص طور پر قومی سلامتی کے قوانین کا صحافیوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال شامل ہے۔ رپورٹ میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نے سالہا سال سے کوئی باقاعدہ پریس کانفرنس نہیں کی اور وہ محض اپنے موافق صحافیوں کو ہی انٹرویو دیتے ہیں، نیز حکومت سرکاری اشتہارات کے ذریعے ذرائع ابلاغ پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار حق و صداقت کے لیے روز بروز تنگ ہوتی ہوئی فضا کا واضح پیمانہ ہیں۔
اس سنگین صورتحال کا سب سے بدترین مظاہرہ 10؍ اکتوبر کو دہلی میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب کاکروچ جنتا پارٹی اور طلبا و بائیں بازو کی تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اس کے جواب میں انتظامیہ نے پورے دارالحکومت کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ شام تک تقریباً سات ہزار افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں سے اکثریت کو رات کے اندھیرے میں ہی ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا۔
سب سے زیادہ اذیت ناک سلوک ان صحافیوں کے ساتھ کیا گیا جو صرف واقعے کی رپورٹنگ اور اپنا پیشہ ورانہ فریضہ نبھا رہے تھے۔ نیوز پورٹل اسکرول کے رپورٹر آیوش تیواری کو بی جے پی دفتر کے باہر کوریج کے دوران حراست میں لے لیا گیا، جبکہ اسی ادارے کے صحافی شعیب دانیال کو جنتر منتر سے قریباً بیس کلومیٹر دور جنوبی دہلی سے اٹھا لیا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے صحافی سوربھ شرما کے مطابق، بغیر نیم پلیٹ کے ایک نقاب پوش پولیس والے نے انہیں گھسیٹا اور ٹھوکریں ماریں، جس کی ویڈیو انہوں نے خود ریکارڈ کی۔ نیوز لانڈری کے تین رپورٹروں کے موبائل فون چھین لیے گئے اور اپنی شناخت بتانے پر انہیں وہی کورا جواب ملا کہ 'کوئی میڈیا نہیں ہے'۔ نو بھارت ٹائمز کے نمائندوں کو ویڈیو کوریج کے دوران حراست میں لے لیا گیا، جبکہ بزنس اسٹینڈرڈ کی صحافی انوشکا بھاردواج کو گھسیٹتے ہوئے یہ طعنہ دیا گیا کہ 'تم بہت دیر سے صحافی بن رہی ہو'۔ ان کے بقول ان کا کرتا کھینچا گیا اور کسی نے کوئی پروا نہ کی۔ ان واقعات میں دو پہلو خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ اول یہ کہ خواتین صحافیوں کے ساتھ بھی کسی رو و رعایت کے بغیر بے دردی کا مظاہرہ کیا گیا؛ دوم، موبائل فون چھینے گئے اور ریکارڈ شدہ فوٹیج مٹانے کی کوشش کی گئی۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جارحیت کا مقصد امن و امان کی بحالی نہیں بلکہ دستاویزی ثبوتوں کو مٹانا تھا۔ ان کارروائیوں کا بنیادی نشانہ خاص طور پر وہ آزاد اور غیر جانبدار صحافی بنے جو سچائی کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے نکلے تھے۔
اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس عوامی غم و غصے کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکلے، اسے ابھارنے میں تحقیقاتی صحافت کا بھی نمایاں کردار تھا۔ ایک بڑے انگریزی اخبار کی تحقیقی رپورٹ نے الیکشن کمیشن اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی (SIR) کے عمل پر سوالات اٹھائے تھے، جس نے عوامی بے چینی اور احتجاج کو مہمیز دی۔ گویا صحافت نے وہی کردار ادا کیا جو ایک جمہوری معاشرے میں اس کا اصل منصب ہوتا ہے، یعنی اربابِ اقتدار کو کٹہرے میں کھڑا کرنا اور عوام کو حقائق سے باخبر رکھنا۔ لیکن اسی 'جرم' کی پاداش میں اس احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ یہ محض کوئی اتفاقی عمل نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی کہ جو آزاد صحافت جھوٹ کا پردہ فاش کرے اور عوام کا شعور بیدار کرے، اقتدار کی نگاہ میں اصل خطرہ وہی ہے اور اسے کسی طرح خاموش کروانا انہیں مقصود ہے۔
اس لحاظ سے اس واقعے کو اتفاقیہ پولیس کی زیادتی قرار دینا اصل مرض سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ دراصل یہ ایک طویل اور منظم حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے سخت قوانین کو آزاد صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو دوسری طرف سرکاری اشتہارات روک کر اداروں کو معاشی طور پر کمزور کیا جاتا ہے اور تیسری طرف منظم سوشل میڈیا ٹرولنگ کے ذریعے صحافیوں، بالخصوص خواتین صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے؛ اور اب چوتھے حربے کے طور پر صحافیوں کو احتجاج کے دوران جسمانی طور پر اٹھا کر، ان کے فون چھین کر اور مواد حذف کروا کے سچی خبر کو منظرِ عام پر آنے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا ہے۔ یوں بیک وقت جمہوریت کے ہر ستون کو مفلوج کیا جا رہا ہے: احتجاج کرنے والے شہری منظم ہونے والے طلبا اور حقائق ریکارڈ کرنے والے صحافی جب بیک وقت بے اثر کر دیے جائیں تو جمہوریت باقی نہیں رہتی بلکہ گھٹ گھٹ کر آخرکار دم توڑ دیتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کہلانے والی جمہوریت کا ایک پُرامن احتجاج پر کیمرے کی موجودگی تک برداشت نہ کرنا خود اس کے جمہوری تشخص پر گہرا سوالیہ نشان ہے۔
یہ حقیقت یاد رکھنا ضروری ہے کہ صحافت کی آزادی صحافیوں کی کوئی ذاتی مراعات نہیں، بلکہ یہ عام شہری کا وہ بنیادی حق ہے جس کے تحت اسے باخبر رہنے کا اختیار حاصل ہے۔ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ وہ اقتدار پر نظر رکھنے والی آنکھ ہے؛ اس آنکھ کو نقصان پہنچانا دراصل پوری قوم کو اندھیرے میں دھکیل دینا ہے۔ 1975 کے ایمرجنسی کے دور کو ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین باب اسی لیے سمجھا جاتا ہے کہ اس وقت صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا اور آج یہی عمل کئی حوالوں سے اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ یہ جمہوری لبادے میں نافذ ہے۔
اب اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ 10؍ اکتوبر کی تمام تر زیادتیوں کا بے لاگ طریقے سے احتساب کیا جائے، احتجاج کی رپورٹنگ کرنے کے صحافتی حق کو تحفظ فراہم کیا جائے، مختلف قوانین کو صحافت کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کی روِش ختم کی جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہریانِ ملک اور عدلیہ دونوں صحافت پر حملے کو براہِ راست اپنے بنیادی حقوق پر حملہ تصور کریں۔جب حکومت کی طاقت سچائی لکھنے اور سچائی دکھانے والوں کو پکڑ کر قید کرتی ہے تو صرف صحافی ہی قید نہیں ہوتا بلکہ عوام کا حقِ آگہی Right to Information قید ہو جاتا ہے۔
اداریــــہ

احتجاج کے دوران صحافت نہیں عوام کا ‘حق آگہی’قید ہو رہا ہے

