مسجد میں مداخلت سے جمہوریت، شہری آزادیوں اور دستور کی بالادستی پر سنگین سوالات
کیا پولیس کسی مسجد میں داخل ہوکر اس کے لاؤڈ اسپیکر سے مسلمانوں اور غیر مسلموں سمیت عوام سے یہ اپیل کرسکتی ہے کہ وہ کسی عوامی پروگرام میں شرکت نہ کریں یا حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج سے باز رہیں، جب کہ دستورِ ہند انہیں پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے؟ یہ سوال ملک میں ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی عوامی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرانی دہلی کی دو مساجد میں پولیس اہلکار داخل ہوئے، وہاں نصب لاؤڈ اسپیکر کا نظام اپنے قبضے میں لے لیا اور لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر وہ 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے تو انہیں سنگین نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں۔ یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہورہا تھا۔ گیانیش کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری کی اور 13 کروڑ ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف کر دیے، جس سے بی جے پی کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد مغربی بنگال، دہلی، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد ملی۔
پولیس نے صرف اپنی طرف سے عوام سے اپیل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دونوں مساجد کے ائمہ سے بھی الگ الگ اپیلیں کروائیں تاکہ وہ عوام پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں احتجاجی مقام یا مظاہرے کے کسی دوسرے مقام پر جانے سے روکیں۔
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا کہ پولیس نے عوام کو احتجاجی جلسوں اور مظاہروں سے دور رکھنے کے لیے مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال کیا، حالاں کہ دستورِ ہند ایسے احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ 1975 سے 1977 تک اندرا گاندھی کی جانب سے نافذ کردہ 18 ماہ کی بدنامِ زمانہ ایمرجنسی کے دوران بھی ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ بنیادی حقوق کی معطلی کا ذکر آتے ہی ہندوستان میں عموماً اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کی مثال دی جاتی ہے۔ لیکن مئی 2014 میں نریندر مودی کے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے شہریوں کے بنیادی حقوق پر ہونے والے حملوں کے مقابلے میں اندرا گاندھی کے دورِ ایمرجنسی کے مظالم بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔
یہ معاملہ نہایت حساس اور اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مسجد کا لاؤڈ اسپیکر عموماً صرف تین مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پہلا، اذان دینے کے لیے جس کے ذریعے نماز کے اوقات کا اعلان کیا جاتا ہے اور دن میں پانچ مرتبہ اہلِ ایمان کو نماز کی دعوت دی جاتی ہے۔ دوسرا، کسی گم شدہ شخص، خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی اور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، کی تلاش کے لیے اعلان کرنا۔ تیسرا، کبھی کبھار محلے کی کسی نمایاں شخصیت کے انتقال کی اطلاع دینا۔ تاہم 99 فیصد سے زائد صورتوں میں مسجد کا لاؤڈ اسپیکر صرف اذان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان مقاصد کے علاوہ اس کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ پورے بھارت میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کی عمومی صورتِ حال یہی ہے۔
اگر پولیس امن و قانون برقرار رکھنے، کسی ممکنہ تشدد کو روکنے یا بلوائیوں اور شرپسند عناصر کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے باز رکھنے اور خبردار کرنے کے لیے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں پولیس کا اقدام پوری طرح جائز ہوگا۔ لیکن یہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ پولیس نے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال لوگوں کو ان کے اس جمہوری حق سے محروم کرنے کے لیے کیا جو دستور کے تحت انہیں پُرامن احتجاج کی صورت میں حاصل ہے۔
پولیس نے اعلان کے لیے صرف مساجد ہی کا انتخاب کیوں کیا؟
سوال یہ ہے کہ 10 اکتوبر کے احتجاج میں شرکت سے لوگوں کو روکنے کے لیے پولیس نے صرف مساجد کا انتخاب کیوں کیا؟ مسجد کے قریب واقع مندروں اور گردواروں میں بھی لاؤڈ اسپیکر نصب ہیں لیکن پولیس وہاں جانے کی ہمت نہیں کر سکی۔ آخر کیوں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں مسلمان ایک کمزور اور غیر محفوظ برادری بن چکے ہیں۔ پولیس کے مطالبے کی مخالفت کرنے کی صورت میں مسجد اور اس کے انتظام سے وابستہ افراد کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا۔ پہلے ہی درجنوں مساجد کو اس الزام کے تحت پولیس اور انتظامیہ منہدم کرچکی ہیں کہ وہ تجاوزات یا سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھیں۔ کون جانتا ہے کہ پولیس ان مساجد کے خلاف بھی ایسا ہی الزام گھڑ لیتی اور ان کے ڈھانچوں کو جزوی یا مکمل طور پر منہدم کرکے نقصان پہنچاتی۔
ایسے حالات میں جب عدالت کی مداخلت بھی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہی ہو نہ صرف مسجد کے ذمہ داران بلکہ کوئی بھی شخص پولیس کے مطالبے کے سامنے بغیر کسی بحث و تکرار کے سرِ تسلیم خم کرسکتا ہے۔ چنانچہ جب گفت و شنید یا مفاہمت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں تھی تو مساجد کے ائمہ کے پاس پولیس کے حکم کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
پولیس کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مسجد عبادت اور روحانی تفکر کی جگہ ہے۔ اس کے احاطے یا آلات کو ریاست یا پولیس محض اس لیے لوگوں کو قانونی سرگرمیوں سے خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کرسکتی کہ ان سرگرمیوں سے حکومت یا برسرِ اقتدار جماعت کی خواہشات متصادم ہوتی ہیں۔ پولیس اہلکار بھی سماج ہی کا حصہ ہیں اور وہ بھی کسی نہ کسی مذہب پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے مذہبی جذبات کے تئیں حساسیت اور احترام کا مظاہرہ کریں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ پولیس اس قدر خوف زدہ کیوں تھی کہ اسے مسجد میں جاکر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلان کرنا پڑا اور لوگوں کو کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کے سنگین نتائج سے خبردار کرنا پڑا؟ کیا اس جماعت کے احتجاج میں صرف مسلمان شریک ہوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کے احتجاجی مظاہروں میں دیگر برادریوں کے افراد بھی شریک ہوتے ہیں اور ان کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ دہلی ہی نہیں بلکہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو چھوڑ کر ملک کی تمام ریاستوں میں ان برادریوں کی آبادی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔
مسلمانوں نے بھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مختلف سیکولر تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ ان میں سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ رواں سال جون اور جولائی میں جب کاکروچ جنتا پارٹی نے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ (NEET) کے پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر دھرمیندر پردھان کی برطرفی کے لیے احتجاج کیا تو مسلم نوجوانوں نے مظاہرین کے لیے کھانے کا انتظام بھی کیا۔
انسانیت کی بھلائی کے لیے مسلمانوں کا کردار
جون اور جولائی کی تحریک میں مسلمانوں کی شرکت اگرچہ اچانک اور کسی پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر ہوئی تھی، لیکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی کے مطالبے پر سابق رکنِ راجیہ سبھا محمد ادیب اور روحانی رہنما سجاد نعمانی جیسے مسلم قائدین نے باقاعدہ طور پر تحریک میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ جماعتِ اسلامی ہند اور جمعیۃ علمائے ہند جیسی غیر سیاسی مذہبی تنظیموں نے بھی کاکروچ جنتا پارٹی کی پُرامن تحریک کی حمایت کی، کیونکہ یہ معاملہ کسی وزیر کے استعفیٰ کے مطالبے سے کہیں زیادہ وسیع اور سنگین نوعیت کا ہے۔
اصل مسئلہ دستور، جمہوریت، سیکولرازم، عدلیہ اور مقننہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور ملک کو آمریت و استبداد میں تبدیل ہونے سے بچانے کا ہے۔
مسلم نوجوانوں نے جمہوریت، دستور اور قانون کی حکم رانی کے تحفظ کے لیے ہونے والی ہر تحریک میں حصہ لیا ہے، جس میں 1975 کی ایمرجنسی کے دوران کی جدوجہد بھی شامل ہے۔ ایسے نوجوان خاموش تماشائی کیسے بن سکتے تھے جب دوسری برادریوں کے نوجوان سڑکوں پر صفِ اول میں کھڑے ہوکر پولیس کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہوں؟
قرآنِ مجید نے مسلمانوں کو پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرنے کا فریضہ سونپا ہے۔ ایسی امت، جسے ’خیرِ امت‘ اور ’اُخرجت للناس‘، یعنی انسانوں کی بھلائی کے لیے برپا کی گئی جماعت قرار دیا گیا ہو، اپنی اس ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کرسکتی۔
قرآنِ مجید میں عطا کردہ اسی نصب العین کے تحت مسلمان ہندوؤں اور دیگر برادریوں کے ساتھ مل کر برطانوی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ برطانوی غلامی سے بھارت کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی قربانیاں کسی بھی دوسری برادری سے کم نہیں تھیں۔ تحریکِ آزادی پر لکھی گئی کتابوں میں ان کی قربانیوں کا ذکر سنہرے حروف میں ملتا ہے۔ جس برادری کی تاریخ قانون، انصاف، آزادی کی اقدار اور کمزور طبقات کے انفرادی و اجتماعی تحفظ کے لیے دی گئی بے شمار قربانیوں سے عبارت ہو، اسے قانون کی بالادستی اور ان اقدار کی جدوجہد سے الگ تھلگ کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ تاریخ ایسی برادری کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو اپنے گھروں کی چار دیواری میں محصور رہے جب کہ دوسری برادریوں کے لوگ آزادی، انصاف، قانون، بھائی چارے اور ہم آہنگی جیسی آفاقی اقدار کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں اترے ہوں اور حکومتِ وقت ان اقدار کو پامال کر رہی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں چلائی جانے والی دونوں تحریکوں میں پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ پہلی تحریک جون اور جولائی 2026 میں دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر چلائی گئی تھی جب کہ موجودہ تحریک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے جاری ہے۔
یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ مسلم مذہبی اور سیاسی قیادت نے کاکروچ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کی تحریکوں میں شرکت کی اپیل نہ تو مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے کی اور نہ ہی جمعہ کے خطبات میں مسجد کے منبر کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس کی وجہ مسجد کے تقدس کا لحاظ بھی تھا اور یہ حقیقت بھی کہ کاکروچ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عوام کو متحرک کرنے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں، ان کے مسائل تمام مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کی مہم میں مسجد کو شامل کیا جاتا تو برسرِ اقتدار جماعت اور حکومت کے سامنے اس کا ایک مختلف تاثر قائم ہوسکتا تھا۔
جمہوریت میں پولیس کا یہ طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے
پولیس نے جو کچھ کیا وہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ بھارت میں اگرچہ دستور اب بھی نافذ ہے اور اسے معطل نہیں کیا گیا لیکن ملک بتدریج آمریت کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔برسرِ اقتدار جماعت دستور اور قانون کی کم سے کم پروا کیے بغیر اپنی خواہشات کے مطابق کام کرتی ہے۔ وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے اور حتیٰ کہ عدالتوں کی ہدایات کو نظرانداز کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ اس کی مثال 10 اکتوبر کو سامنے آئی جب حکومت نے 250 سے زیادہ ٹرینوں کو دہلی پہنچنے سے روک دیا، اس کے علاوہ دہلی میٹرو کے 50 اسٹیشن بھی بند کر دیے تاکہ لوگ احتجاجی مقام تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ اقدامات سپریم کورٹ کی ان ہدایات کے باوجود کیے گئے جن میں کہا گیا تھا کہ ایسے کسی اقدام سے گریز کیا جائے جو احتجاج کے انعقاد یا لوگوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ آمد و رفت میں رکاوٹ بنے۔
حکومت نے جنتر منتر کے گرد کئی کلومیٹر کے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دیں تاکہ احتجاج کی خبریں تیزی سے پھیل کر عام نہ ہو جائیں۔ پولیس نے صحافیوں کو بھی حراست میں لیا حالاں کہ سپریم کورٹ نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔
حکومت اور دہلی پولیس کی ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اور دہلی پولیس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے احکامات کی بھی پروا نہیں کرتیں۔ یہ صورتِ حال نہایت خطرناک ہے۔
سیاسی کارکن اور تبصرہ نگار یوگیندر یادو نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے اس فیصلے پر تنقید کی کہ انہوں نے راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے کی قیادت میں آنے والے اپوزیشن رہنماؤں کے وفد سے ملاقات نہیں کی۔ یہ وفد پیر کے روز سپریم کورٹ پہنچا تھا تاکہ ملک کے چیف جسٹس کو اس بات سے واقف کرائے کہ حکومت نے عدالت کے احکامات کی کس طرح خلاف ورزی کی ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ سرکاری عہدیداروں یا اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرنا ان کا کام نہیں ہے۔ معمول کے حالات میں چیف جسٹس کا یہ موقف درست ہوسکتا ہے لیکن ملک اس وقت ایک غیر معمولی بحران سے گزر رہا ہے اور اسی وجہ سے اپوزیشن رہنما ان سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔
چیف جسٹس نے جواب دیا کہ وفد عرضی دائر کرے، عدالت اس کی سماعت کرے گی۔ اس پر یوگیندر یادو نے سوال اٹھایا:
”متعدد عرضیاں دائر کی جاچکی ہیں، لیکن آپ نے کیا کیا؟ حکومت نے چیف الیکشن کمشنر اور دو الیکشن کمشنروں کی تقرری سپریم کورٹ کی ہدایات کے خلاف کی۔ کیا سپریم کورٹ نے حکومت کو روکا؟ آپ کی معلومات میں رہتے ہوئے کروڑوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کردیے گئے۔ کیا آپ نے اس عمل کو روکا؟ بہار میں 27 لاکھ ووٹروں کے نام آپ کے حکم کی وجہ سے حذف کیے گئے۔ سپریم کورٹ نے کیا کیا؟ عدالت نے بس اتنا کہا کہ آپ اگلے انتخاب میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرسکتے ہیں۔
”ایک نوجوان چھ سال سے جیل میں سڑ رہا ہے۔ آپ نہ اس کے مقدمے کی سماعت کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضمانت کا حکم دیتے ہیں۔ انتظامیہ کھلے عام سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ آپ نے حکم دیا کہ ٹرینیں منسوخ نہ کی جائیں لیکن 250 ٹرینیں منسوخ کردی گئیں۔ دہلی پولیس کا ایک کانسٹیبل تک آپ کے احکامات کی پروا نہیں کرتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کن مجبوریوں کے تحت اس معاملے پر خاموش ہیں۔‘‘
”ممکن ہے میری باتیں آپ کو ناگوار گزریں، لیکن مجھے بھی یہ سب کہتے ہوئے تکلیف ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور دیگر رہنماؤں نے آپ سے ملاقات اس لیے چاہی تھی کہ وہ آپ کے ہاتھ مضبوط کر سکیں تاکہ آپ اس کتاب کو پڑھ سکیں جسے دستورِ ہند کہا جاتا ہے اور دستور کی بالادستی قائم کرسکیں۔ ہم آپ کی مجبوریوں کو آپ کی قوت میں تبدیل کرنے آئے تھے۔“
پُرامن احتجاج کے حق میں دستورِ ہند کیا کہتا ہے؟
اب اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں اور عوام مخالف اقدامات کے خلاف جمہوری اور پُرامن احتجاج کے بارے میں دستورِ ہند کیا کہتا ہے؟
دستورِ ہند کے آرٹیکل (a) (1) 19 کے تحت شہریوں کو آزادی اظہار و تقریر کا حق حاصل ہے، جب کہ آرٹیکل 19(1)(b) انہیں پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا حق فراہم کرتا ہے۔ یہ آزادیاں جمہوری زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہی کے ذریعے شہری عوامی اداروں سے سوال کرسکتے ہیں، حکومتی فیصلوں کو چیلنج کرسکتے ہیں، مبینہ بے ضابطگیوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں اور اقتدار کے حامل افراد سے جواب دہی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
چنانچہ 10 اکتوبر کو احتجاج کرنے کا کاکروچ جنتا پارٹی کے قائدین کا اعلان دستور کی مذکورہ دونوں دفعات کے عین مطابق تھا۔ لہٰذا پولیس کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ احتجاج میں شرکت کرنے پر لوگوں، بالخصوص مسلمانوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دے۔ احتجاج میں شرکت ان کا دستوری حق تھا۔ لیکن اگر احتجاجی اسلحہ لے کر آتے یا اس روز بدامنی پیدا کرتے تو پولیس انہیں روک سکتی تھی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پرانی دہلی کی مسجد میں پولیس کی کارروائی سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس نے برسرِ اقتدار سیاسی جماعت کے ایک حصے کے طور پر کام کیا جو سراسر دستور کے منافی ہے۔ جمہوریت میں پولیس کو یہ ذمہ داری نہیں سونپی گئی کہ وہ لوگوں کو احتجاج کرنے سے روکے کیونکہ احتجاج بنیادی جمہوری اور دستوری حق ہے۔
سپریم کورٹ نے متعدد مقدمات میں اس اصول کو واضح کیا ہے۔ ان میں 1973 کا مقدمہ ہمت لال کے شاہ بنام کمشنر آف پولیس شامل ہے جس میں عوامی اجتماعات کو منضبط کرنے کے ریاستی اختیار پر غور کیا گیا تھا۔ اسی طرح 2018 کے مقدمے مزدور کسان شکتی سنگٹھن بنام یونین آف انڈیا میں جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے عدالت نے واضح کیا کہ ریاست مظاہرے کرنے جیسے بنیادی حقوق پر من مانے انداز میں پابندیاں عائد نہیں کرسکتی۔
اسی طرح 2020 کے مقدمے انورادھا بھسین بنام یونین آف انڈیا میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ امنِ عامہ کے نام پر عائد پابندیوں کو جائز جمہوری اظہارِ رائے دبانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ احتیاطی اقدامات کے لیے حالات کے مطابق معقول جواز ہونا ضروری ہے اور ان کی نوعیت اس خطرے کے متناسب ہونی چاہیے جس سے نمٹنے کے لیے وہ اٹھائے گئے ہوں۔
ان عدالتی فیصلوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پولیس کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے، نہ کہ عوامی اجتماعات کو منضبط کرنے یا امنِ عامہ کے تحفظ کے نام پر لوگوں کو جمہوری اختلافِ رائے کے اظہار سے روکنا! یوگیندر یادو نے جس طرح اپنی بات بیان کی اس کے مطابق بعض مجبوریوں کے باعث سپریم کورٹ اپنے ہی احکامات پر عمل درآمد نہیں کراسکی، جب کہ انتظامیہ نے کھلے عام عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ ایسے حالات میں مسلمان جسمانی طور پر پولیس کو مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال سے روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
اس کے باوجود 10 اکتوبر کے احتجاج اور اس کے بعد ہونے والے مظاہروں میں مسلمانوں کی مسلسل شرکت اس بات کی غماز ہے کہ وہ دستور، جمہوریت، سیکولرازم، قانون کی حکم رانی، انسانیت، انصاف، ہم آہنگی اور باہمی اخوت کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے دیگر برادریوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔
(مضمون نگار نیوز پورٹل ’انڈیا ٹومارو ڈاٹ نیٹ‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں)