کانگریس کی’بھارت جوڑو یاترا‘ دیرآید درست آید

بحران سے دوچار قدیم پارٹی کیا ہندوتوا کانظریاتی جواب دے پائے گی؟

نوراللہ جاوید

بھارت جیسے ملک میں سیاسی جماعتوں کے احتجاج، یاترائیں اور ریلیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں، جہاں ہر چند مہینے بعد کسی نہ کسی ریاست میں انتخابات ہوتے رہتے ہیں اور اس کے مد نظر عوامی رابطہ پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں، ان پروگراموں کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر 7 ستمبر کو کنیا کماری سے نکلنے والی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کو جو کشمیر تک 3500 کلو میٹر کی مسافت پیدل طے کرے گی اسے عوامی رابطے کی مہم کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے ملک کے وسیع مفادات اور وقت کی اہم ضرورت کے تناظر میں کیوں دیکھا جارہا ہے؟ اس پدیاترا میں آخر ایسا کیا ہے کہ اس کا موازنہ مہاتما گاندھی کے 1942ء کے ڈانڈی مارچ سے کیا جا رہا ہے اور بھارت جوڑو یاترا سے وہی امیدیں اور توقعات باندھی جارہی ہیں جو گاندھی جی کے ڈانڈی مارچ سے ملک کو تھیں؟ یاتراوں کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ گاندھی جی کی قیادت میں حصول آزادی کے لیے کئی یاترائیں نکالی گئیں اور ہر یاترا ملک کے عوام کو مشترکہ مقاصد کے لیے متحد کرنے میں کامیاب رہی۔ 90ء کی دہائی کے بعد 1991ء میں بی جے پی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی کی قیادت میں کنیا کماری سے کشمیر تک ایکتا یاترا نکالی گئی اور اس سے قبل ستمبر 1990ء میں سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی کی قیادت میں سومناتھ سے اجودھیا تک نکلنے والے رتھ یاترا نے ملک کے عوام کو مذہب کی بنیاد پر جس طرح تقسیم کیا تھا ملک آج تک اس کی قیمت چکا رہا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ نفرتی اور عوام کو تقسیم کر دینے والی یاتراوں کے جواب میں کانگریس یا دیگر جماعتوں نے امن و محبت کی یاترائیں کیوں نہیں نکالیں؟
آزادی کی سات دہائیوں کے بعد جغرافیائی اعتبار سے تو نہیں مگر عوامی طور پر ملک شدید تقسیم کا شکار ہے۔ تقسیم کر دینے والی ہر بیماری یعنی مذہبی منافرت، ذات پات کی تفریق، تشدد، پدرانہ ثقافت، محرومی اور بے روزگاری، محنت کشوں کا استحصال، طبقاتی کشمش اور آزادی اظہار خیال پر پابندی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ’’آئیڈیا آف انڈیا‘‘ جو تنوع میں اتحاد، گنگا و جمنی تہذیب، ہم آہنگی، رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، احترام مذاہب اور احترام انسایت پر مبنی تھا وہ پاش پاش ہو رہا ہے۔ ’آئیڈیا آف انڈیا‘ کی نئی تشریح میں تنوع، رواداری، ہم آہنگی اور اظہار خیال کی آزادی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایک خاص تہذیب و ثقافت اور مذہب کی بالا دستی کے لیے ملک کے آئین کی روح کو پامال کیا جا رہا ہے’’ آئیڈیا آف انڈیا‘‘ کی اس تشریح نے ملک کو بحران اور مصیبت کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ چوبیس گھنٹے چلنے والے نیوز چینلز، اس کے نیوز اینکرز، تجزیہ نگار اور ماہرین ہمیں ہر دن یہ مژدہ جانفزا سناتے رہتے ہیں کہ ملک مضبوط ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر اس کی طاقت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ مگر ان دعوؤں کو جھٹلانے والے سماجی توڑ پھوڑ، مذہبی منافرت اور سماجی تقسیم کے واقعات ہر دن رونما ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بحران ملک میں پیدا ہونے والے ہر بحران سے زیادہ سنگین ہے۔ سیاسی منظر نامے پر سیاسی جماعتیں ابھرتی اور ڈوبتی رہی ہیں مگر دنیا کے نقشے پر وہی ملک اپنی اہمیت باقی رکھ پاتا ہے جو اپنے اقدار اور روایات کا امین ہوتا ہے۔ بنیادی جڑوں کو کھوکھلا کر کے کوئی ملک متحد نہیں ہو سکتا۔ بھارت ایک متنوع تہذیب وتمدن، مختلف مذاہب اور سیکڑوں زبانوں والا ملک ہے۔ اس کے باوجود ’’ایک آئین، ایک زبان اور ایک مذہب‘‘ کے غیر عملی اور غیر منطقی نعرے کی گونج میں اتنی شدت آ گئی ہے کہ سیکیولر اقدار کی حامل سیاسی جماعتیں، جنہیں ان کے خلاف کھڑا ہونا تھا وہ بھی اپنی پالیسیوں اور نظریات سے دستبردار ہو کر انہی خطوط اور نعرے پر چلنے لگی ہیں۔ سیکیولر سیاسی جماعتوں کے اس نظریاتی بحران نے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی جماعتیں انصاف و حق کی آوازیں بلند کرنے سے کترا رہی ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ اگر وہ انصاف، آئین کی بالادستی اور ملک کے ہر طبقے کو مساوی مواقع دینے کی بات کریں گی تو اکثریت ناراض ہو جائے گی۔
کانگریس نے ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے ذریعہ جس طرح سے اپنے مقاصد و عزائم کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے اس سے اندھیرے میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔ چنانچہ دو سو سے زائد سول سوسائٹی کی تنظیموں نے جن میں دلتوں کے حقوق، ذات پات کی تفریق کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے گروپس، حقوق انسانی کی تنظیمیں، ماحولیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے جہدکار شامل ہیں، اس یاترا کی حمایت کی ہے۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو کبھی کانگریس کے سخت ناقد رہے ہیں، جنہوں نے 2019ء کے پارلیمانی انتخابات کے بعد کہا تھا کہ کانگریس کو مر ہی جانا چاہیے، وہ لوگ بھی شامل ہیں جو 2011-12ء میں یو پی اے کے دور حکومت میں کانگریس مخالف تحریکوں کا حصہ رہے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو کانگریس کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کو دیگر سیاسی جماعتوں کی تحریکوں، جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور یاتراوں سے الگ کرتی ہے۔ ابھی یہ سوال کہ اس یاترا سے کانگریس کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیا کانگریس اپنی کھویا ہوا وقار واپس حاصل کر پائے گی، کیا راہل گاندھی اس یاترا کے ذریعہ اپنے غیر مستقل مزاج ہونے کے الزامات کا خاتمہ کرسکیں گے؟ اس کا جواب اتنا جلدی ملنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ابھی یاترا کی شروعات ہوئی ہے۔محض دس دنوں کی ہی مسافت طے ہوئی ہے، چار مہینے بیس دنوں کی مسافت ابھی باقی ہے، ملک کے دیگر حصوں میں اس یاترا کی پزیرائی اور عوام کی حصہ داری کی بنیاد پر ہی کچھ حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جن بنیادوں پر ملک کی سول سوسائٹی اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس یاترا کی حمایت کی ہے اور اس میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیا یہ یاترا ان توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہو گی اور ملک سے منافرت، سماجی و طبقاتی کشمکش اور آئینی بحران کے خاتمے کے لیے موثر ثابت ہو گی؟
’’بھارت جوڑ و یاترا‘‘ کے آغاز پر کنیا کماری میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پراعتماد و بلند آہنگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کا یہ پرچم کسی خاص طبقے اور جماعت کا نہیں ہے بلکہ ہر ایک طبقے اور عوام کا پرچم ہے اور ہم ملک کے تمام طبقوں، برادریوں اور علاقے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مل کر مذہب، برادری، زبان اور علاقائیت کے نام پر منافرت پیدا کرنے والوں کو ناکام بنا کر پیار ومحبت کی فضا قائم کریں گے۔ مشہور صحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں ’’کانگریس کا یہی وہ نعرہ ہے جو بی جے پی کو پریشان کر سکتا ہے۔اتحاد و سالمیت، مساوات اور انصاف کے نعرے کے سامنے بی جے پی اپنے دیرینہ تقسیم اور نفرت کی سیاست کے ذریعہ مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسی کے ساتھ تلوین سنگھ کہتی ہے کہ اس کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر راہل گاندھی اور کانگریس کے رویے پر ہے۔ راہل گاندھی کو غیر مستقل مزاج اور اچانک غائب ہو جانے والے اور سیاست کو پارٹ ٹائم جاب کے طور کرنے والے سیاستداں کی شبیہ کو ختم کرنا ہو گا، وہیں کانگریسی لیڈروں کو نظریاتی کشمکش اور کنفیوزن سے نکل کر مساوات اور سماجی انصاف کے واضح نظریہ پر قائم رہ کر یہ جدو جہد کرنی ہو گی۔
2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی کراری شکست کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی کی قیادت والی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ’ کانگریس سے متعلق یہ بیانہ بنا دیا گیا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے اور ہندوؤں کے خلاف ہے‘ اس شبیہ نے کانگریس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کمیٹی کی اس رپورٹ کے بعد کانگریس نرم ہندوتوا کی راہ پر گامزن ہو گئی اور وہ آئین پر حملہ، اقلیتوں کے خلاف مظالم اور بھارت کی روح پر جاری حملے کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کرتی رہی۔ چنانچہ گزشتہ گجرات انتخابات میں راہل گاندھی کو مندر مندر گھمایا گیا۔ جینوا دھاری ہندو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔اس کی وجہ سے کانگریس شدید بحران کا شکار ہو گئی۔ کانگریس کے نظریاتی بحران کی ابتدا سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں ہی ہو گئی تھی۔ ایمرجنسی کے بعد کراری شکست کے بعد اندرا گاندھی نے نرم ہندوتوا کو اپنا لیا تھا لیکن گانگریس کی جو تنزلی کی شروعات ہو چکی تھی وہ آج تک جاری ہے۔ مشہور صحافی سعید نقوی نے اپنی ایک حالیہ کتاب میں لکھا ہے کہ جواہر لال نہرو کے انتقال اور لال بہادر شاستری کے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی سرکاری دفاتر اور گانگریس کی سوچ میں واضح تبدیلی ہو گئی تھی۔ مشہور مصنف خشونت سنگھ نے بھی اپنی کتاب ’’دی اینڈ آف انڈیا میں لکھا ہے کہ ’پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد سے ہی کانگریس نظریاتی بحران کا شکار ہوتی ہی چلی گئی‘۔ ملک کی دیگر سیکیولر جماعتیں چاہے وہ سماجوادی پارٹی ہو، بنگال کی ترنمول کانگریس ہو یا پھر ملک کے نقشے پر تیزی سے ابھرنے والی عام آدمی پارٹی ہو، کسی نے بھی ملک کے نظریات اور اس کی بنیاد کے تحفظ کی فکر نہیں کی۔ عام آدمی پارٹی مودی کا متبادل پیش کرنے کی کوشش تو کر رہی ہے مگر وہ سیکیولر نظریات کے تحفظ کے سوال کا سامنا کرنے سے مسلسل کترا رہی ہے۔ مسلمانوں کے بھرپور ووٹ حاصل کرنے والی یہ پارٹی دہلی فسادات، جہانگیر پوری میں مسلمانوں کے مکانات کو مسمار کیے جانے اور گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری کا شکار ہونے والی بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی پر واضح موقف اختیار کرنے سے عاجز رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کو چھوڑ کر سبھی سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی فائدوں کے لیے فرقہ پرست قوتوں اور آر ایس ایس سے قربت حاصل کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ہندوتوا کا نظریاتی جواب فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چنانچہ بی جے پی سے لے کر عام آدمی پارٹی تک سب کے سب اس یاترا سے توجہ ہٹانے کے مکر وفریب میں شامل ہو گئے ہیں۔ کیجریوال کی ’’میک انڈیا مہم‘‘ بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں راہل گاندھی ایک ایسے لیڈر کے طور سامنے آئے ہیں جو انتخابی فائدوں اور نقصانات سے بے پروا ہو کر ملک کی جڑوں اور بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے والوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی آر ایس ایس کی ثقافتی بالادستی، تعلیم کے بھگوا کرن اور ہندو فاشزم کے خلاف کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ عام سماجی اور سیاسی حالات ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں۔ زمینی حالات اس وقت تک نہیں بدل سکتے ہیں جب تک قیادت نہ بدلی جائے اور قیادت خود تبدیل نہیں ہوتی جب تک کہ زمین پر رویے تبدیل نہ ہوں۔ ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ کیا ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ان دونوں خدشات کو دور کر پائے گی؟ آر ایس ایس اور بی جے پی ایسی تنظیمیں نہیں ہیں جنہیں صرف بیالٹ باکس کے ذریعے شکست دے کر مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہوں۔ ملک کے تمام شعبوں میں ہندوتوا کی ثقافتی بالا دستی اور عدم رواداری سرایت کر چکی ہے۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور برازیل میں انتخابات اس کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ انتخابی جیت کا مطلب فاشسٹ رجحانات کا خاتمہ نہیں ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی اب تک امریکہ میں ٹرمپ ازم کو شکست نہیں دے پائی ہے۔ دائیں بازو کی پاپولزم کو ختم کرنے کے لیے ہر سطح پر تبدیلی اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف انتخابی مشق اور مقدس جمہوریت کے احترام کا راگ الاپنے سے دائیں بازو کی قوتوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ موقع پرست اور نیم دل اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ بھی ہندو فاشزم کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ذریعہ ریاستی اداروں اور ملک کے آئینی ڈھانچے کو نقصانات پہنچانے والوں کے خلاف صرف زبانی حملہ کافی نہیں ہے بلکہ سماج کی ہر سطح پر اتحاد کے ساتھ ایک ایسی تحریک چلانے کی ضرورت ہے جو ملک کے عوام کو واضح مقاصد کے لیے متحد کر سکے۔ ملک کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے جدو جہد کرنے والوں کو حقیقی راہ دکھا سکے۔ یوگیندر یادو جیسے پرعزم سماجی کارکنوں کی موجودگی یہ یقین دلاتی ہے کہ کانگریس نئی صف بندی اور عوامی تحریکوں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، آب و ہوا کا بحران، جوہری توانائی، ماحولیات کا تحفظ، ذات پات کی مردم شماری، سرکاری اور پرائیوٹ اداروں میں ریزرویشن، تعلیمی پالیسی، عوامی شعبوں میں خواتین کی حصہ داری، اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول اور عدم برداشت یہ وہ سوالات ہیں جو آج دم توڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں سیاسی جماعتوں نے اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کی جو پالیسی اپنائی ہے وہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران بھی نظر آرہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ یاترا کانگریس کی ہے اور کانگریس کا مکمل انحصار گاندھی خاندان پر ہے اس لیے فطری طور پر اس یاترا کا چہرہ راہل گاندھی ہیں مگر اس یاترا میں راہل گاندھی کے آس پاس جو چہرے ہیں ان میں کوئی معروف مسلم چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ کیا مسلمانوں کے معروف چہروں کو نظر انداز کرنا بھی کسی خاص حکمت عملی کا نتیجہ ہے؟ اس یاترا کی شروعات سے قبل سول سائٹی کے جن لیڈروں سے راہل گاندھی اور کانگریسی لیڈروں نے ملاقات کی تھی ان میں کئی معروف مسلم چہرے بھی تھے جن میں مشہور سماجی کارکن اور پلاننگ کمیشن کی سابق ممبر سیدہ حمیدن اور سابق ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب اور دیگر شخصیات بھی شامل تھیں۔ سیدہ حمیدن اگرچہ ریلی میں شامل نہیں ہیں مگر انہوں نے حمایت دے رکھی ہے اور ممکن ہے کہ کسی موقع پر وہ شریک ہوں گی۔
22 اگست کو راہل گاندھی کے ساتھ سول سوسائٹی کے لیڈروں کی ملاقات کا حصہ بننے والے سابق راجیہ سبھا ممبر محمد ادیب نے ہفت روزہ دعوت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب اس یاترا سے متعلق خبریں آنی شروع ہوئیں تو میں اس کو کانگریس کی شعبدہ بازی سے زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھا مگر جب ملک بھر سے آنے والے سول سائٹی اور مختلف سماجی تنظیموں کے لیڈروں نے راہل گاندھی کے ساتھ ملاقات کی اور انہوں نے جس طرح ان کے خدشات اور اعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیے اور سیکیولر نظریات پر لوٹنے کا جو عزم ظاہر کیا اس سے امید بندھی ہے۔ یہ یاترا ملک میں تبدیلی کی پہلی آہٹ ہے مگر سفر ابھی کافی طویل ہے اور ذہن میں یہ خدشہ بھی ہے کہ کانگریس میں ہندوتوا عزائم کے حامل لیڈر کہیں راہل گاندھی کی اس ریلی کو سبوتاژ نہ کر دیں۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر اور افکار ملی کے ایڈیٹر ڈاکٹر محمد قاسم رسول الیاس نے ہفت روزہ دعوت سے بات چیت میں بتایا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دو مقاصد واضح ہیں، ایک کانگریس کو عوام سے جوڑنے کی کوشش، اس لیے اس یاترا میں عوام سے جڑے مسائل اور ایشوز پر زیادہ باتیں کی جا رہی ہیں اور یہ خوش آئند بھی ہے کیوں کہ ملک میں اس وقت جس قسم کی سیاست کی جا رہی ہے اس سے عوامی مسائل اور ایشوز غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسرا مقصد راہل گاندھی کی شبیہ کو بہتر کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے ملک کے سیکیولر کردار کے تحفظ، نفرت کے خاتمے اور عوام کو مذہب اور لسانیات کے سوال پر منقسم کرنے والوں کے خلاف جو جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے وہ نہ صرف کانگریس کو نہرو کی راہ پر گامزن کرنے والا ہے بلکہ ملک کے پسماندہ، اقلیتی طبقات اور حقوق سے محروم کر دیے جانے والے افراد کے لیے خوش آئند بھی ہے۔ اس یاترا میں مسلم چہرے کیوں نہیں نظر آ رہے ہیں یہ ایک الگ سوال ہے۔ مگر میرا ماننا ہے کہ یہ یاترا عوامی ایشوز اور ملک کے بنیادی آئینی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے بھی کی جا رہی ہے اس لیے مسلمانوں کو بھی اس میں بڑی تعداد میں شریک ہونا چاہیے۔ عمومی طور پر مسلمانوں سے متعلق یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ خول میں بند ہیں اور صرف اپنے ایشوز پر ہی متحد ہوتے ہیں، اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، نفرت، ملک کے آئینی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات بھی مسلمانوں کا مسئلہ ہیں۔ مسلمانوں کو بھی برادران وطن کے ساتھ مل کر متحدہ کوششوں کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق ریسرچ اسکالر اور جادو پور یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر عبدالمتین ملک کے مشترکہ مسائل کے حل اور آئینی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے برپا کی جانے والی تحریکوں میں مسلم لیڈرشپ کی عدم موجودگی کو کسی اور نظریے کے تحت دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اعلیٰ طبقہ اقتدار سے فائدہ ضرور حاصل کرتا ہے مگر متوسط طبقے کے بنیادی مسائل سے ہمیشہ پہلو تہی کی جاتی ہے۔ کیرالا میں مسلمانوں نے اپنی سیاسی، سماجی اور معاشرتی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔ چنانچہ وہی کانگریس جس پر ہم مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا رہے ہیں کیرالا میں مسلم لیگ کے لیڈروں کے ساتھ اسٹیج شیئر بھی کیا جاتا ہے اور انہیں پدیاترا میں شامل بھی کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں پان انڈیا کی مسلم قیادت کھڑی کرنے کے بجائے علاقی سطح پر مسلم لیڈر شپ کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔یاترا کے آغاز پر کنیا کماری میں سمندر کے ساحل پر کھڑے ہو کر سماجی کارکن یوگیندر یادو نے دکھنیشوئیں کا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کو ملک کے جنوب کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔جنوب ہمیں علاقائیت، عقلیت پسند اور سماجی انصاف کا نظریہ دیتا ہے۔ اس راہ پر چل کر ہم ملک کو متحد کر سکتے ہیں۔1942ء میں گاندھی جی کے ڈانڈی مارچ پر بھی سوالات کھڑے کیے گئے تھے۔ آج بھی بھارت جوڑو یاترا پر وہی سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ یقینا راہل گاندھی نہ مہاتما گاندھی ہیں اور نہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں مگر جو سوالات 1942ء میں ملک کے سامنے تھے وہی آج ہمارے سامنے بھی ہیں۔ ملک تقسیم در تقسیم اور نفرت کی شدید لپیٹ میں ہے ہمیں اسی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ کانگریس کو اپنے آپ کو نئے سرے سے زندہ کرنے اور جوان کرنے کے لیے دوغلے پن کا خاتمہ کرنا ہو گا جس کا وہ کئی دہائیوں سے شکار ہے۔
***

 

***

 کانگریس نے ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے ذریعہ جس طرح سے اپنے مقاصد و عزائم کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے اس سے اندھیرے میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔ چنانچہ دو سو سے زائد سول سوسائٹی کی تنظیموں نے جن میں دلتوں کے حقوق، ذات پات کی تفریق کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے گروپس، حقوق انسانی کی تنظیمیں، ماحولیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے جہدکار شامل ہیں، اس یاترا کی حمایت کی ہے۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  25 ستمبر تا 1 اکتوبر 2022