بچوں کی تربیت صحیح انداز میں کی جائے

تفریح کے نام پر بیہودہ کارٹونوں سے احتراز کریں

شبنم مجید بٹ، بارہمولہ، کشمیر

بچوں کو کھیل کود میں ہی دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی ورزش کرائیں
موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہر انسان زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف ہے، وقت جیسے پر لگا کر اڑ رہا ہے جس کے مختلف قسم کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس تیز رفتاری کا اثر ہمارے بچوں کو نہایت تیزی سے متاثر کر رہا ہے۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب بدلتے ماحول کے تحت کبھی معیاری تعلیم دینے کے نام پر تو کبھی دوسروں سے مسابقت کے نام پر خود والدین کے ہاتھوں ان معصوموں کا بچپن برباد کیا جا رہا ہے۔
غور کریں صبح سویرے اسکول جانا وہاں سے آکر پھر ٹیوشن اور اس کے بعد پھر ہوم ورک پھر پروجیکٹ پھر کچھ اور۔۔ یقیناً اسی قسم کی سختیوں نے ہمارے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے۔ یاد کریں گزرے وقت میں چھوٹے بچوں کا نصف دن تو کھیل کود میں گزرجاتا تھا۔ جسمانی ورزش کے سبب ان کی نشو و نما بھی بہترین انداز سے ہوتی تھی۔کڑی دھوپ اور جاڑے کی سردی میں باہر کھیلتے رہنے کے باعث ان کی قوت مدافعت بھی بڑی مضبوط ہو جاتی تھی۔ لیکن آج کے دور میں والدین اپنے بچوں کی تفریح اور نام نہاد ورزش بھی گھروں میں برقی آلات کے ذریعے کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ آلات مختلف طرح کے ہوتے ہیں جیسے ویڈیو گیمز، موبائل فون اور لیاپ ٹاپ وغیرہ۔ ان چیزوں کے استعمال سے بچے کی صحت اور نفسیات بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں 80 فیصد والدین اپنے بچوں کو فارغ وقت میں مصروف رکھنے کے لیے اور ان کی شرارتوں سے بچنے کے لیے کوئی کارٹون فلم لگا کر خود مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ کارٹون فلمیں کس طرح سے ہمارے بچوں کے ذہن پر اثر انداز ہوتیں ہیں اس بات کو اکثر لوگ بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ والدین کا مقصد عمومی طور پر یہی رہتا ہے کہ بچہ اپنی شرارتوں سے ہمارے معمولات کو متاثر نہ کرے۔ گھر سے باہر بری صحبت سے بچانے کے لیے ہمارے پاس یہ ایک ذریعہ ہے کہ بچہ کارٹون فلم میں مگن ہوکر باہری دنیا سے دور رہے۔
اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ بچہ گيلی مٹی کی مانند ہوتا ہے۔اس کو جس سانچے میں ڈھالا جائے اسی میں ڈھل جائے گا۔ پھر اپنے بچے کی تربیت اور اس کی نشو و نما میں ہم اس قدر لا پروائی کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کارٹون پروگراموں کے بچوں کی نفسیات پر منفی کے ساتھ ساتھ کچھ مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں مگر وہ صرف اور صرف والدین پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچے کے ذہن و فکر پر کونسا اثر پڑنے دیں گے۔ چند مشہور کارٹون پروگرامز جو لگ بھگ ہمارے سبھی گھروں میں بچے بڑے شوق سے دیکھتے ہیں ان سارے کارٹون پروگراموں کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے ذریعے ہندومت کا پرچار، مورتی پتھر کی پوچا وغیرہ بتائے جاتے ہیں اور ہمارے بچوں کے ذہن کو جادو، اخلاقی گراوٹ اور دیگر آلائشوں سے آلودہ کرنا مقصود ہوتاہے۔ ان پروگراموں کے ذریعے ہندومت کے نظریات اور افکار ہمارے بچوں کے ذہن پر نقش ہورہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ ایسے پروگرامز بھی ٹی وی چینلوں پر چلتے ہیں جن کو دیکھ کر ہمارے بچے حقیقی دنیا سے دور خیالی دنیا (fantasy world) میں جینا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اکثر وبیشتر غائب دماغ رہتے ہیں جس کی وجہ سے پھر ان کے اساتذہ کو بھی اکثر ان سے شکایت رہتی ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچے کا حقیقی دنیا سے سامنا کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ پریکٹیکل دنیا کو اپنی خیالوں بھری دنیا کے بالکل برعکس پاتا ہے اور نتیجتاً ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پروگرامز ہمارے بچوں کی اخلاقیات اور ان کی زبان پر بھی بری طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچے اکثر اپنے پسندیدہ کارٹون کردار کی نقل شروع کرکے نہ صرف اس کی حرکات و سکنات کو دہرانے کی مشق کرتے ہیں جو اکثر نا شائستہ اور تہذیب کے عنصر سے عاری ہوتے ہیں بلکہ بچے اسی زبان میں بول چال بھی شروع کر دیتے ہیں۔
اس کے برعکس پہلے تو ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں ان سب چیزوں سے دور ہی رکھیں لیکن اگر دکھانا بھی ہو تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے کارٹون اور پروگرامز دیکھنے کی ترغیب دیں جن کے ذریعے تفریح ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اخلاقیات کا درس بھی ملے، ان کی زبان بھی معیاری بنے اور سوچ تعمیری بن جائے۔ اگر ہم موجودہ حالت کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سی ایسی کارٹون سیریز بھی آج کل چل رہی ہیں جو والدین کی اس معیاری کسوٹی پر پورا اُتر سکتی ہیں جیسے "عبدالباری کارٹون سیریز” ، "کنیز فاطمہ کارٹون پروگرام” ” dora the explorer” وغیرہ ۔یہ کچھ پروگرامز ہم اپنے بچے کی تفریح کی خاطر خود بھی ان کے ساتھ دیکھ کر ان کی مثبت اور تعمیری سوچ کو ابھارنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ قارئین اس پیغام کو سنجیدگی سے لے کر اپنے بچوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کریں گے۔

 

***

 اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ بچہ گيلی مٹی کی مانند ہوتا ہے۔اس کو جس سانچے میں ڈھالا جائے اسی میں ڈھل جائے گا۔ پھر اپنے بچے کی تربیت اور اس کی نشو و نما میں ہم اس قدر لا پروائی کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کارٹون پروگراموں کے بچوں کی نفسیات پر منفی کے ساتھ ساتھ کچھ مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں مگر وہ صرف اور صرف والدین پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچے کے ذہن و فکر پر کونسا اثر پڑنے دیں گے۔ چند مشہور کارٹون پروگرامز جو لگ بھگ ہمارے سبھی گھروں میں بچے بڑے شوق سے دیکھتے ہیں ان سارے کارٹون پروگراموں کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے ذریعے ہندومت کا پرچار، مورتی پتھر کی پوچا وغیرہ بتائے جاتے ہیں اور ہمارے بچوں کے ذہن کو جادو، اخلاقی گراوٹ اور دیگر آلائشوں سے آلودہ کرنا مقصود ہوتاہے۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 3 مارچ تا 9 مارچ 2024