ریاستیںڈی ڈی اے نے بٹلا ہاؤس دھوبی گھاٹ کے پیچھے موجود جھگیوں کو مسمار کر دیا، سیکڑوں افراد ہوئے بےگھر
ڈی ڈی اے نے بٹلا ہاؤس دھوبی گھاٹ کے پیچھے موجود جھگیوں کو مسمار کر دیا، سیکڑوں افراد ہوئے بےگھر
دعوت نیوز26 ستمبر 2020
ریاستیںڈی ڈی اے نے بٹلا ہاؤس دھوبی گھاٹ کے پیچھے موجود جھگیوں کو مسمار کر دیا، سیکڑوں افراد ہوئے بےگھر
سیاستکسی بھی شخص کے لیے بھی یو پی ایس سی میں دراندازی ناممکن ہے: سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری
احوالِ وطنکورونا وائرس: متاثرین کی تعداد 59 لاکھ کے پار
تین محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ مسلمان اپنے اخلاق وسیرت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی طرف توجہ دیں۔ دوسرے یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کریں اور تیسرے میڈیا جس کو دنیا انسانیت کی تخریب کے لیے استعمال کر رہی ہے ہم اس کو انسانوں کے اخلاق وسیرت کی بلندی تک لے جانے کے لیے استعمال کریں
ہفت روزہ دعوتماہرین کے مطابق جب کوئی شے باقاعدہ نشہ بن جائے تو دماغ پر اس کے اثرات منشّیات ہی کے مانند مرتّب ہوتے ہیں اور انسان بے خودی کے عالم میں خود کو کسی اور ہی دُنیا کا باسی محسوس کرتا ہے۔ تاہم، یہ رجحان اس وقت زیادہ خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے کہ جب کوئی انٹرنیٹ صارف ہر چند لمحوں بعد فیس بک پر اپنے فرینڈز کی نئی پوسٹس اور اپنی پوسٹس کو ملنے والی پزیرائی کا جائزہ لینے لگے اور اپنی ہر سرگرمی، تصویر کی شکل میں فیس بک پر شیئر کرنا ضروری سمجھے۔
اگر خدا نخواستہ آپ نے اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی برتی اور اپنی اولاد کی اس ’’خودرو‘‘ طریقے پر پرورش کی جو آج کل بہت عام ہے تو یقین رکھیے کہ آپ کے اس سرمایہ کو شیطان کے ایجنٹ لوٹ لے جائیں گے جو ہر وقت اسی گھات میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر آپ کی اولاد خدا کی باغی بن کر اٹھے گی۔ اللہ کی زمین میں ظلم اور فساد کا علم بلند کرے گی اور ایسی صورت میں اس کے دم سے جتنی برائیاں پھیلیں گی ان سب میں آپ بھی حصہ دار ہوں گی اور خدا محفوظ رکھے پھر یہی اولاد آپ کے لیے دائمی عذاب کا موجب ہوگی۔ آپ کی اولاد آپ کے
سائنس اور کامرس کے علاوہ بھی کئی شعبے ایسے ہیں جن میں آپ اپنی دلچسپی اور تعلیمی رجحان کے ذریعے ایک کامیاب کیرئیر بنا سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک شعبہ علومِ انسانی (Humanities) ہے۔ اس شعبے میں بھی کئی مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آپ مختلف کیرئیرز کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
ان کا دل قوم ملت سے محبت، باہمی یگانگت، اسلام کی نشر و اشاعت، تعلیم و تعلم کی انسیت سے لبریز تھا۔ جب تک زندہ رہے اسلام کی روشن تعلیمات، بزرگان دین کے روشن افکار کے راستے پر مسلمانوں اور اسلام کی فلاح وبہبود کے لیے علمی و ادبی میدان میں چراغ سے چراغ جلاتے رہے۔
ان کی تصانیف میں’ عہد نبوی میں تنظیم ریاست و حکومت ،غزوات نبوی کی اقتصادی جہات ،عہد نبوی کا نظام حکومت ، عہد نبوی کا تمدن ،عہد نبوی کی ابتدائی مہمیں، رسول اکرم ؐ اور خواتین۔ ایک سماجی مطالعہ ، معاش نبوی ،مکی اسوۂ نبوی ۔ مسلم اقلیتوں کے لیے رول ماڈل اور رسول اکرم ؐکی رضاعی مائیں و دیگر شامل ہیں
تازہ ترینوقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے جاگنے کا وقت
مذاکرات کے آغاز کی تاریخ بھی بڑی تاریخی نوعیت کی ہے کہ 12 ستمبر 2001 کو امریکی صدر بش نے افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور اس کے ٹھیک 19 سال بعد 12 ستمبر 2020 کو امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے (سابق دہشت گرد) ملا عبدالغنی برادر کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکی عزم کا اظہار کیا ہے۔
\r\nآج سے 20 سال پہلے کون سوچ سکتا تھا جن افغانیوں کو آپس میں لڑاکر فرنگیوں نے غلام بنانے کی سازش رچی تھی وہ بالآخر حاشیے پر پہنچا دیے جائیں گے اور ایمانی بھائی پھر سے اسلام کی سربلندی کے لیے آپس میں شیر و شکر ہو جائیں گے۔ فی الحال عالم اسلام اور افغانستان کے حالات پر نظر رکھنے والے بڑے بڑے دانشوروں کی آنکھیں خیرہ ہیں۔\r\n
ملکی معیشت کی بڑی تباہی کے درمیان ملک کی تجارتی تنظیم، کنفڈریشن آف آل انڈیا(CAIT)نے پریشان کن رپورٹ پیش کی ہے۔ کیٹ کا کہنا ہے کہ کووڈ 19قہر کی وجہ سے چھوٹی دکان اور کاروبار بہت بری حالت میں ہے۔ اس میں سے تقریباً 25فیصد 1.75کروڑ چھوٹے کاروبار بند ہونے کی حالت میں ہیں۔ کیٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا قہر کی وجہ سے ملک کا گھریلو کاروبار اس دہائی میں سب سے خراب دنوں کا سامنا کررہا ہے۔ مستقبل قریب میں ان آفتوں سے راحت ملنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ کیٹ نے کہا کہ 7کروڑ س
مسلمانوں یا محروم طبقات کو مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حق وانصاف کے لیے جو آواز اٹھا رہے ہیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ظلم کی اندھیری رات ہمیشہ نہیں رہتی صبح ضرور ہوتی ہے۔ عمر خالد کی مظلوم ماں کا آواز اٹھا نا کہ ہم خالد کے ساتھ ہیں، مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں بہت معنی رکھتا ہے۔
تاریخ دان اس امر پر متفق ہیں کہ قادیانیوں کے زیر اثر ’’کشمیر کمیٹی‘‘ محض ایک چھلاوا تھا، جب کہ اس کے پسِ پردہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اُنہیں مسلم اکثریتی کشمیر میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملے۔ اصل میں قادیانیوں کی اوپری قیادت ملک میں نئی سیاسی کروٹوں کے بیچ اپنے لیے ایک سیاسی پناہ گاہ کی متلاشی تھی۔ اُن کی نظریں کشمیر پر پڑیں تو منہ میں یہ سوچ کر رال ٹپکی کہ ہو نہ ہو کشمیر میں وہ اپنی ایک جداگانہ ریاست قائم کر سکیں گے۔
ہفت روزہ دعوتسی اے اے کی مخالفت ایک عوامی تحریک تھی اسے ملک کے نوجوانوں اور خواتین نے چلایا تھا۔ اگر حکومت دوبارہ این پی آر یا این آر سی کے بارے میں کچھ کرنے کی سوچ رکھتی ہے تو امید ہے کہ یہ عوامی تحریک خود بخود دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
