تمام مضامین

تازہ ترین

!فرقہ پرستی کا عروج۔۔

یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے کہ فرقہ پرستوں اور نام نہاد سیکولر عناصر کو روکیں جو دونوں برادریوں میں برابر موجود ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اشتعال انگیز عناصر کی نگرانی کریں، اپنی قیادت کو جھنجھوڑیں اور اسے مخلص، حقیقت پسند اور مسئلہ حل کرنے والے لیڈروں سے بدلیں، جو جذباتی اور مذہبی بنیادوں پر بھڑکانے کے بجائے حقیقی مسائل کا حل نکالنے پر توجہ دیں۔ اسی طرح متوازن ہندوؤں کو بھی VHP اور RSS جیسے عناصر کو زیادہ موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ یہ تنظیمیں پورے ہندو سماج کی نمائندہ نہیں ہیں۔

دعوت نیوز10 اپریل 2025
تازہ ترین

شفاف جوہری توانائی کی سمت میں بڑھتے قدم

ملک میں اس وقت 22 جوہری ری ایکٹرز فعال ہیں جن کی مشترکہ پیداواری صلاحیت 220 گیگا واٹ ہے اور بھارت کو اپنی آبدوزوں کے لیے 85 گیگا واٹ کا جوہری ری ایکٹر بنانے کا تجربہ بھی حاصل ہے۔ یہ بھروسا دلانے کے بعد ہی بھارت اپنی جوہری صلاحیت میں بھرپور اضافہ کر سکے گا۔

دعوت نیوز10 اپریل 2025
تازہ ترین

نفرت پھیلانے والے ‘رہنما’ بھارتی سماج کے لئے ناسور سے کم نہیں

یہ خوش آئند پہلو ہے کہ دلی کی ایک عدالت نے اشتعال انگیزی کے عادی ایک شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا اور پولیس کے چند حکام کے کردار کی بھی جانچ کرنے کی ہدایت دی۔ اس فیصلے نے کچھ امید ضرور پیدا کی ہے اور یہ احساس جگایا ہے کہ ابھی بھی کچھ جج اور اہلکار ملک کے امن و قانون اور انصاف کے نظام کے لئے فکرمند ہیں اور وہ بھیڑچال کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے کاندھوں پر ملک کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور وہی اسے منجدھار سے نکال سکتے ہیں۔

دعوت نیوز10 اپریل 2025
تازہ ترین

جن پہ تکیہ تھا وہی پتّے ہوادینے لگے

تلگو دیشم پارٹی اور جنتا دل یونائیٹڈ ہمیشہ مسلمانوں کے ووٹ بٹورتی آئی ہیں جبکہ بہار اور آندھرا پردیش کے لاکھوں مسلمانوں نے ان پر بھروسا کیا ہے۔ بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ کے ووٹروں میں تقریباً 30 فیصد مسلمان ہیں جبکہ آندھرا پردیش میں 18 فیصد مسلم ووٹر تلگو دیشم پارٹی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ مگر جب مسلمانوں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہوا تو یہی جماعتیں بی جے پی کے ساتھ کھڑی ہو گئیں اور مسلمانوں کے اعتماد کو روند ڈالا۔

دعوت نیوز10 اپریل 2025
تازہ ترین

نئی وقف ترامیم ’’پنیہ بھارت‘‘ کے ہندتوا نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش

اس نئے وقف ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا چکا ہے۔ سپریم کورٹ اس پر کب سماعت کرے گی اور کیا جلد سماعت ہوگی—اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے سپریم کورٹ اور ملک کی دیگر عدالتوں کی روش کو دیکھتے ہوئے فی الحال امید کا کوئی چراغ روشن ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے صرف قانونی جدوجہد پر انحصار کرنے کے بجائے، رائے عامہ ہموار کرنے کی تحریک جاری رکھنا ضروری ہے۔

دعوت نیوز10 اپریل 2025