ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم مودی کو لکھا خط!
\" آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے\"
دعوت نیوز28 مارچ 2020
\" آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے\"
ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں 20 کروڑلوگ خالی پیٹ سوتے ہیں، اگر اللہ نے آپ کو ایک ٹھیک ٹھاک نوکری ، رہنے کے لیے گھر اور ایک عدد بائک عطا ء فرمائی ہے تو یہ بھی خوش رہنے اور شکر ادا کرنے کے لیے کافی ہے\nHL2\nآپ جس چیز پر توجہ زیادہ دیں گے وہ بڑھ جاتی ہیں آپ اپنی محرومیوں پر زیادہ توجہ دیں گے تو محرومیاں بڑھیںگی اسکے برعکس اگر آپ نعمتوں پر توجہ دیں گے تو نعمتیں بڑھیں گی۔
• اجتماعی عبادت کا م نظر متاثر کن تھا ۔۔ کلاسیکرن \n• ہر ایک کا مقدر صرف چھ گز کی قبر ہے۔۔ \nطالب علم راکیش\n• مسلمانوں میں اتحاد بہت پسند آیا۔۔۔ جیا سوریہ \n• مسجد کے سامنے گزرتا تو دیکھنے کی خواہش ہوتی تھی۔۔آکاش \n• اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں \nدور ہوئیں ۔۔ ٹیچر روزیری\nHL 2\nنماز کی صف بندی کے دوران امیر و غریب کاایک ہی قطار میں کندھوں سے کندھا لگائے کھڑے ہونا بہت پسند آیا۔ مسلمانوں کی قبروںکا کچھ اور تصور تھا مثلاً ہر ایک شخص اور خاندان والوں کی مخصوص قبر یں ہوںگی اور ہر ای
خالد سیفی کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے!!
تنہا جسٹس گوگوئی نے عدلیہ جیسے اہم ادارے کو جو نقصان پہنچایا ہے اس سے پہلے شاید ہی کسی ایک فرد نے یہ کام کیا ہوگا۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی سربراہی کرتے ہوئے، گوگوئی نے ایودھیا، رافیل بدعنوانی اسکینڈل، آسام این آر سی جیسے انتہائی اہم اور فیصلہ کن مقدمات کا فیصلہ سنایا ہے۔ انہی کے فیصلوں نے سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خوفناک مثلث کا راستہ ہموار کیا۔ جموں وکشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ اور وہاں کے رہنماوں اور عوام کی قید بھی انہی کے فیصلے کا نتیجہ ہے۔
کرناٹک میں تعزیتی نشست ۔ رفقاء کا اظہارِ تعزیت
کوروناسے بھارت کے پہلے جاں بحق محمدحسین صدیقی کی افسوسناک داستان
کوروناوائرس کامردم شماری اور این پی آر پر بھی اثر
دین اسلام جو کہ انسانیت کے لیے رحمت اور انسانی مصالح کا محافظ ہے،اس وبائی فضا میں لوگوں کے لیے کیا رہ نمائی فراہم کرتا ہے اور کیا ہدایات دیتا ہے اس سے عوام کو روشناس کریں۔ اس موقع پراگر ہم نے شریعتِ اسلامیہ کی زمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت کو دلائل سے ثابت نہیں کیا اور اپنی تنگ نظری پر اصرار کرتے رہے تو نعوذ بااللہ ہماری کم علمی اور تنگ نظری کوشریعت اسلامیہ کی ضیق وتنگی پر محمول کیا جائے گا۔
کورونا وائرس کے باعث اخلاقی اقدار کی واپسی نے عوام کو ان کے خالق سے ملا دیا ہے۔ اس نے نائٹ کلبوں، کوٹھوں اور جوئے خانوں کو بند کرادیا ہے۔ عرب ممالک نے شیشہ (تمباکو) پر پابندی عائد کر دی اور لوگوں کو مردہ اور حرام جانور کھانے سے روک دیا۔ یہ شرح سود میں کمی کا سبب بنا نیز فوجی اخراجات کا ایک تہائی حصہ صحت کی عامہ پر منتقل کر دیا (یہ بات مصر کے حوالے سے ہے)۔ اس سے آمروں کے اختیارات مجروح ہوئے۔ یہ حکام کی توجہ جیلوں اور قیدیوں کی جانب مبذول کر رہا ہے۔ اس نے انسانوں کو چھینک اور کھانسی کا نبوی ﷺطریق
شہریت قانون کے خلاف صرف قراردادیں کافی نہیں
ملک کی تقسیم نے فرقہ پرستوں کا کام بڑا اسان بنا دیا۔ ملک کی تقسیم کے لیے بھارت میں مسلم لیگ (مسلمان) کو قصور وار قرار دے دیا گیا۔ اس پروپگنڈے کو پھیلانے میں سیکولر جماعت کانگریس آگے تھی کیونکہ اس سے اس کی کمیاں ڈھکی جا سکتی تھیں۔ یہ وہی گوشہ تھا جہاں سیکولر اور کمیونل کا فرق مٹ جاتا تھا۔ بعد کے دنوں میں سرکاری پروپگنڈے سے ان باتوں کو درسی نصابوں سے لے کر عوام کے ذہنوں تک پھیلا دیا گیا۔ مگر اس کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ رائے عامہ میں مسلمانوں کی شبیہ مسخ کر دی گئی اور آج تک ان کی ملک کے تئیں وفا
خواتین معاشرے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: رحمت النساء
مسجد بالکل بند نہ کی جائے تاہم مسجد کے انتظامیہ مسجد میں رکھے تولیوں اور ٹوپیوں کو ہٹالیں، وضو خانے، استنجاء خانے کی خوب صفائی ہو، مسجد کے فرش کو خوب اچھی دھوکر نماز پڑھیں، جمعہ کے دن ازدحام سے بچنے کا معقول انتظام کریں، اپنے گھر اور محلے کی خوب صفائی کا اہتمام کریں، ہر نماز میں کورونا وائرس جیسی وبا سے حفاظت کی دعا کریں اور کثرت سے توبہ و استغفار کریں کہ یہی شریعت مطہرہ کی تعلیمات و ہدایات ہیں۔
اس وائرس کے تباہ کن اثر نے سرمایہ کاروں میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا سرمایہ واپس نکالنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ سرمایہ نکالنے کا یہ عمل ملک کے معاشی بحران کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس لیے حکومت اس وائرس سے نمٹنے کے لیے مناسب حکمت عملی اپنائے اور درآمد کے نئے قوانین وضع کرکے چین پر انحصار کم سے کم کرے۔
