’سماجی دوری‘ کی حکمت کے بانی رسول اللہ ﷺتھے
وبا سے نمٹنے کے لیے سماجی دوری کا استعمال دور جدید کی تحقیق نہیں بلکہ اس کی سب سے پہلی نصیحت پیغمبر محمد ﷺ نے دی تھی۔
دعوت نیوز3 اپریل 2020
وبا سے نمٹنے کے لیے سماجی دوری کا استعمال دور جدید کی تحقیق نہیں بلکہ اس کی سب سے پہلی نصیحت پیغمبر محمد ﷺ نے دی تھی۔
موصوف نے فرمایا’ آپ درس گاہ میں خدمت خلق کا جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کریں۔ بچوں سے کسی محلہ کا سروے کرائیں۔ اس محلے میں کتنے لوگ بیمار ہیں، ان کی خدمت کے لیے پیش کش کریں۔ کتنے بچے اسکول نہیں جاتے، سر پرستوں کو آمادہ کریں کہ ان کے بچے اسکول جائیں۔‘
ان فرصت کے لمحات کو طلبا تجزیہ و تحقیق کے کاموں میں صرف کرتے ہوئے بے زارگی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ آج ان ہی اوقات کو کام میں لاتے ہوئے اسکول اور کالج کے طلبا ریاضی میں کافی مہارت حاصل کرسکتے ہیں۔ ریاضی کا بنیادی اصول پریکٹس ہے، یعنی پریکٹس، پریکٹس اور پریکٹس۔
میکس ویبر نے بیوروکریسی (افسرشاہی) کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیوروکریٹس (افسر) کی شخصیت پیچھے رہتی ہے اور اس کا کام آگے رہتا ہے۔ لیکن اب شخصیت پیچھے نہیں رہ سکتی کیوں کہ سوشیل میڈیا نے پرسنل اور پروفیشنل چیزوں کو تقریباً ایک مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔
اس بیماری کے خطرات، اس سے روک تھام کی عملی تدابیر سے عام لوگوں کو بیدار کرنے کی مہم، اس کی زد میں آنے والوں کی مدد، لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے مزدوروں اور پریشان حال غریبوں کا تعاون جیسے بے شمار کام ہیں جن میں یہ عام لوگوں کی مدد ورہنمائی کرکے اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جہاں ہر کس وناکس اپنے وجود کی علاحدہ شناخت کے لیے مر رہا ہو وہاں ہمارے بیشتر نمایاں یا سماج کی رہنمائی کرنے والے لوگوں کو ان رفاہی امور میں زیادہ دلچسپی کیسے ہو سکتی ہے؟
یہ حقائق آج نہیں تو کل ضرور سامنے آئیں گے اور دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ یہ بڑی طاقتیں کس طرح آفات وبلیات کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ بہر حال عوام کو، جن میں مسلمان بھی شامل ہیں سرکاری تدابیر پر عمل درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر بھی احتیاط ضرور کرنا چاہیے البتہ حکومت نے 25 کلو اناج اور دس ہزار روپے کی جو اسکیم بنائی ہے اس کے مقاصد کو سمجھنا ہوگا۔ ہر شہری کا پورا ڈاٹا گورنمنٹ کے پاس بتائیں پھر بھی اس موقع پر وہ دستاویزات مانگنا چاہتی ہے۔
جدید دنیا میں معاشیات پر پڑنے والے اثرات کے مطابق کسی کام یا رواج کی ترویج کی جاتی ہے لیکن اسلام میں صحت کے اثرات کے مطابق اچھی چیزوں کو فروغ دیا جاتا ہے اور جو بری چیزیں ہیں ان سے یا تو واضح طور پر منع کیا جاتا ہے یا حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
حکومت اب بھی صرف انہیں لوگوں کی جانچ کر رہی ہے جن کے اندر کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور بخار، تینوں ہی علامات ایک ساتھ پائی جا رہی ہیں۔ اگر مریض کے اندر ان میں سے کوئی ایک علامت پائی جاتی ہے تو اس کی جانچ نہیں ہوتی۔ اس طریقہ کار کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔
اقبال کا یہ منشا نہیں تھا کہ صرف ذہین اور دانشور افراد ہی ان کی شاعری کو سمجھیں بلکہ سڑک پر ریڑھی لگانے والے کو بھی اشعار سمجھ میں آئیں۔ لیکن آج علامہ کے کلام کی گہرائی و گیرائی کو سمجھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے
اپنے گھر میں باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں اور نمازِ فجر کے بعد اذکار اور درسِ قرآن کا اہتمام کریں۔
گاندھی کی شخصیت ہندوستان اور مغرب میں ایک تاریخی حیثیت کی حامل شخصیت ہے۔ دنیا انہیں مہاتما کے نام سے جانتی ہے لیکن اگر کتاب کے دلائل کو درست مانا جائے (اور انھیں غلط ماننے کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی) تو گاندھی کو مہاتما کے بجائے امیت شاہ کے الفاظ میں ’’چتُر بنیا‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
کہا جا رہا ہے کہ مارچ کے أواخر تک کورونا وائرس سے جتنی اموات ہوئی ہیں ان سے زیادہ اموات حکومتوں کی بد انتظامی و بے ہنگم لاک ڈاؤن کے سبب ہوئی ہیں۔ دلی اور اتر پردیش میں اسی ہفتے کورونا سے متاثرہ تین افراد نے خود کشی کی ہے۔ ایک سرکاری افسر نے تو سہارنپور کے سرکاری دفتر میں ہی خود کو لٹکا لیا ہے۔ اس سے قبل کورونا خود کشی کی واردات تلگو خطے میں بھی پیش آچکی ہے۔ مظفر نگر میں پولیس پر حملہ اور حیدرآباد میں نرسوں وڈاکٹروں پر حملوں کی وارداتیں درج ہوئی ہیں۔ راشن کی تقسیم سے لے کر بسوں، اسپتالوں اورط
اس وقت یونیورسٹیوں کی طالبات نے بھی جس بہادری اور جانبازی کا ثبوت دیا ہے اور اپنی رائے کا جس انداز میں اظہار کیا ہے اس کا تصور بھی ظالم حکمرانوں کو نہ ہوا ہوگا۔
پولیس اور انتظامیہ کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ خود مسلمانوں کی ملی اور مذہبی تنظیمیں لوگوں کو مسجد کے بجائے گھر سے نماز پڑھنے کی اپیل کر رہی ہیں۔ اگر کچھ لوگ ان باتوں سے نا واقف تھے تو ان کو سمجھانے کی ضرورت تھی نہ کہ ان کی جانوروں کی طرح پٹائی کرنے کی؟
جماعت اسلامی ہند کے امیر جناب سید سعادت اللہ حسینی نے تو باضابطہ سوشل میڈیا، یو ٹیوب اور اخبارات میں بیان جاری کرکے عوام کو بھرپور حمایت کرنے کی دعوت دی اور گھروں میں بند ہوجانے کی ترغیب دی۔ لاک ڈاون کے دوران جماعت نے ایک اہم کام یہ کیا کہ ایک خصوصی راحت ٹیم کو یومیہ مزدوری پر گزارہ کرنے والوں کے گھروں پر بھیج کر انہیں راشن فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ یہ کام جماعت کی طرف سے ملک کے مختلف شہروں میں انجام دیا جارہا ہے۔جماعت نے کچھ ہیلپ لائن بھی جاری کیے ہیں۔حالانکہ ایسی ٹیموں کی ضرورت بڑے پیمانے
اب انسان صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو جائز سمجھتا ہے۔ اسی طرزِ فکر نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر مریضوں کی خدمت کرنے والے فرشتہ صفت معالجین کو بھی اس کا دشمن بنا دیا ہے۔ یہ دراصل خود غرضی کے وائرس کے ہمارے معاشرے کو پوری طرح زیر کرلینے کی ایک زندہ علامت ہے۔
مذاکرات کے لیے مشترکہ بنیادوں کی ضرورت ہوتی ہے ،اور کوئی قوم بالخصوص امت مسلمہ کسی حال میں اپنی مذہبی بنیادوں پر صلح نہیں کرسکتی ،چنانچہ عہد نبوت کے ابتدائی مکی دور میں رسول اللہﷺ کو مذہبی بنیادوں پر مصالحت کی پیش کش کی گئی تھی لیکن اللہ پاک کے حکم پر آپ ﷺنے اس کو مسترد کردیا
ہر کوئی ہندوستان میں سی اے اے مخالف تحریکوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ ہندوستان میں اپنے پیارے اور قریبی لوگوں کے لیے ان کی تشویش ان کے مباحث میں واضح تھی۔ برطانیہ میں بھی مختلف تنظیموں کے ذریعہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں اور برطانیہ کے حکام نے ان کی بھر پور حمایت کی
جس طرح کسی شخص کو اچھے القابات سے ملقب کرنا اس کے لیے عزت افزائی کا باعث ہوتا ہے اسی طرح کسی پر برے القاب کا چسپاں کرنا اس کی انتہائی توہین وتذلیل بھی ہے۔ کیونکہ یہ القاب عام طور پر لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ شخص بری طرح اس لقب کے مفہوم کا آئینہ دار بن جاتا ہے اور کوشش کے باوجود اس کے اثرات اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
بدنصیبی اور سخت محرومی یہ ہے کہ بندہ کو دعا کی توفیق نہ ہو یا ہو تو وہ دوسرے آستانوں پر سر پھوڑتا پھرے یا پھر وہ مانگے تو صرف فانی دنیا مانگے۔بندہ کے خمیر میں فقر واحتیاج رکھنے کا راز اور حکمت ہی یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق اور مولا سے جڑا رہے اور اسی کے آستانے سے اپنے مقصدِ وجود کی تکمیل کے اسباب حاصل کرتا رہے۔
