احوالِ وطنصرف ایک ’’بے دل‘‘ حکومت ہی غریبوں کے لیے کچھ نہیں کرے گی: چدمبرم
صرف ایک ’’بے دل‘‘ حکومت ہی غریبوں کے لیے کچھ نہیں کرے گی: چدمبرم
دعوت نیوز19 اپریل 2020
احوالِ وطنصرف ایک ’’بے دل‘‘ حکومت ہی غریبوں کے لیے کچھ نہیں کرے گی: چدمبرم
تازہ تریناداکار اعجاز خان فیس بک پوسٹ کی وجہ سے گرفتار
احوالِ وطنپولیس نے کہا کہ یہ ضمنی چارج شیٹ پہلے فروری میں دائر کی گئی ایک چارج شیٹ کے سلسلے میں ہے۔
احوالِ وطنحکومت کا یہ حکم کے ان خدشات کے پیدا ہونے کے بعد آیا ہے کہ تبلیغی جماعت کے پروگرام میں اس کمیونٹی کے کچھ ممبروں کو انفیکشن ہوا ہو۔
ریاستیںنتیش کمار نے کہا کہ یہ ایک ناانصافی ہے اور لاک ڈاؤن اور معاشرتی فاصلے کے مقصد کے خلاف ہے۔
ملک بھر میں جماعت اسلامی ہند کی راحت سرگرمی
لاک ڈاون کے شب وروز\n’فرصت غنیمت ہے مصروفیت سے پہلے ‘
دنیا کا سب سے طویل ژوہائی ۔ میکاؤ ۔ ہانگ کانگ پُل
عالمی قیادت کا خواب صرف اسلحہ کی دہشت سے شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتا۔ قوت و حشمت سے لوگ دبک کر بیٹھ تو سکتے ہیں لیکن کوئی پیروی نہیں کرتا۔ علم و فن، عزم وحوصلہ ، یقین وایمان ، صبرو استقامت، دلیری و شجاعت، عدل و انصاف ، حسن اخلاق اور آزمائش کی گھڑی میں بے لوث خدمت خلق جیسی صفاتِ عالیہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اقوام عالم کو امامت کے درجہ پر فائز ہونے کا مستحق بناتی رہی ہیں۔
\"حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں اور آر ایس ایس کا یہ ہندوتو برانڈ پہلے سے کہیں زیادہ برہنہ ہو چکا ہے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ مستقبل میں مزید خطرناک صورت اختیار کرےگا۔\"\n(پروفیسرسواتی دیاہدرائے )
گیری ملر کی بھلے ہی قرآن کا مطالعہ اس لیے شروع کیا ہو کہ اس میں خامیاں نکال سکے لیکن جب انہیں لگا کہ حق ان کے سامنے ہے تو انہوں نے ایک دم اسے قبول کر لیا۔
ممکن ہے کہ غالب نے یہ اشعار آج سے سو سال قبل کسی ایسے ہی بحران کے زمانے میں کہے ہوں جس وبا سے فی زمانہ ہم لوگ گزر رہے ہیں۔ شاید اس وقت کی وبائیں اتنی بھیانک اتنی خوفناک اتنی سنگدل اور اتنی ہراساں کر دینے والی رہی ہوں گی جتنی موجودہ وبا ہے۔ اس وبا کو پوری طرح سے بیان کرنے کے لیے تو الفاظ بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ کیا رشتے ناطے، کیا سماج اور خاندان، کیا پڑوسی و دوست اور کیسے احباب؟ کوئی کسی کا نہیں حشر سے پہلے حشر کا سماں ہے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر ہے۔ دنیا بھر کی جتنی طاقتیں ہیں وہ ساری کی ساری اس
ہم بھی امریکہ کے مانند کورونا کی آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ ہم نے بھی فروری ۲۰۲۰ء کا مہینہ اور نصف مارچ (جو بہت قیمتی تھا) انتظار میں کھودیا، اس لیے نہیں کہ ہمیں ماہرین پر اعتماد نہیں بلکہ اس لیے کہ ہماری سیاست پر کورونا سے زیادہ طاقت ور دو عدد اور وائرس چھائے ہوئے تھے۔ نفرت اور عدم برداشت کے وائرس
