اگر اب بھی نہ جاگے تو!
غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تبلیغی جماعت کے ذمہ داران خود آگے کیوں نہیں آئے؟\nتہذیب و ثقافت کا ثبوت دیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں، لاک ڈاؤن کا پاس و لحاظ رکھیں!
دعوت نیوز26 اپریل 2020
غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تبلیغی جماعت کے ذمہ داران خود آگے کیوں نہیں آئے؟\nتہذیب و ثقافت کا ثبوت دیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں، لاک ڈاؤن کا پاس و لحاظ رکھیں!
پونے شہر کے مومن پورہ علاقے کے رہائشی عثمان شیخ نے اپنا گھر پسماندہ طبقات کی لڑکیوں کے اسکول کے لیے جوتی با پھلے کے حوالے کر دیا تھا، آج اس جگہ کو پھلے واڑہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پھلے واڑہ میں عثمان شیخ اور فاطمہ شیخ کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں یادگار تعمیر کی جائے، جوتی با پھلے کے یوم وفات پر سماجی تنظیموں کا مطالبہ ہے۔
رویوں کی اصلاح کے سلسلہ میں پہلا قدم درست رویوں سے واقفیت کا ہے۔ اس کے لیے قرآن کریم سے بہتر کوئی کتاب اس زمین پر موجود نہیں ہے۔ لاک ڈاون نے بہت سے لوگوں کو کاروباری مشغولیات سے یکسو کر کے اس عظیم کتاب کی طرف متوجہ ہونے کا ایک موقعہ فراہم کیا ہے۔
ابوظہبی میں مقیم ایک ہندوستانی متیش اڈیسی کو سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے
رمضان المبارک دراصل مالک حقیقی سے اپنے ربط وتعلق کو مستحکم کرنے اور عہد بندگی کو تازہ کرنے کا مہینہ ہے۔ امت کے حالات یقیناً بدلیں گے اگر وہ اس ماہ انقلاب کے پیام پر عامل ہو جائے۔ اس ضمن میں افرادِ امت کو انفرادی طور پر اور امت کے اداروں، جماعتوں، تنظیموں اور مدارس و جامعات کو اجتماعی طور پر اپنا احتساب کرنے اور ایک لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ امت کی سرخ روئی کا کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں ہے بلکہ اسے الٰہی ہدایات کی روشنی میں داعی امت کی صفات اپنے اندر پی
زکوٰۃ کی اہمیت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہوگا کہ یہ اسلام کے اُن پانچ ستونوں میں سے ایک ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ قرآن کریم میں جس کثرت اور توارد کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ ذکر ہے کسی اور کا حکم اتنا نہیں ملتا۔ دل کو دہلا دینے والے عذاب کا ذکر بھی ہے۔
افواہوں کی بازگشت کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔نیزچند ایسے ناقدین کی ضرورت ہوتی ہے جو معاشرہ کے لیے نقصان دہ افواہوں کا نوٹس لیں کیونکہ بیشتر افواہیں خود ان گروہوں کے لیے مجروح کن ہوتی ہیں۔ جمہوریت پسند اور منتخب قائدین کو بھی اس سلسلے میں چوکس رہنا ہوگا اور ان افواہوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔
احوالِ وطنہیلتھ انسپکٹر جے ایس ٹرنر کے مطابق اس فلو کا وائرس دبے پاؤں کسی چور کی طرح داخل ہوا تھا اور تیزی سے پھیل گیا تھا۔ اس انفلوئنزا کی وجہ سے قریب پونے دو کروڑ ہندوستانیوں کی موت ہوئی، جو عالمی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اس وقت ہندوستان نے اپنی آبادی کا چھ فیصدی حصہ اس بیماری میں کھو دیا۔
دنیا کے ممالک اور ہندوستانی عوام پر خواہ کچھ بھی گزر رہی ہو لیکن ہماری حکومت اور اس کی حکمراں پارٹی نے اس صورت حال سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ حکومت تو نیم مردہ معیشت کے بارے میں اٹھنے والے سوالات سے بچ گئی۔ کسی پارٹی میں جرات نہیں کہ وہ معاشی مسائل کے بارے میں جو خود حکومت اور اس کی نظریاتی پالیسیوں کے پیدا کردہ ہیں کوئی سوال اٹھائے جبکہ حکمراں پارٹی اپنے دیرینہ ہندتو ایجنڈے کو بڑی بے شرمی کے ساتھ نافذ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اس مصیبت کی حالت میں اس نے ایک ایسا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے جس سے ہندتوا و
اس ماحول میں کسی پرائیویٹ گروپ کا اپنی عمارتیں پیش کرنا ملک وقوم کی سچی خدمت ہی ہوسکتی ہے۔ سیکر راجستھان کے عبدالواحد چوہان صاحب نے ایکسیلنز نالج سٹی کے وسیع و خوبصورت کیمپس کو کوارنٹئین سینٹر کے لیے پیش کیا۔ یہی نہیں بیدر کے شاہین گروپ اور دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنی عمارتوں کو اس کاز کے لیے پیش کیا۔ مہتمم دارالعلوم نے چیف منسٹر کو خط لکھ کر پیشکش کی۔ شاہین گروپ سی او توصیف میڈکری نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 139 لوگ ماسک، فوڈ اور تمام ضروری سہولتوں کے ساتھ یہاں رہائش پذیر ہیں۔
کورونا کی عالمی آفت سے لڑائی کے دوران جرمنی کے فسطائی ماڈل کی گونج
احوالِ وطنکرناٹک میں غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے 2 مسلم بھائیوں نے 25 لاکھ مالیت کی اپنی زمین بیچی
ریاستیںلاک ڈاؤن: یوگی آدتیہ ناتھ نے اترپردیش میں 30 جون تک عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی
دہلی پولیس نے مساجد میں اذان پر پابندی سے انکار کیا، کہا ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا
احوالِ وطنڈی اے میں کٹوتی پر منموہن سنگھ نے کہا کہ سرکاری ملازمین پر سختی لگانے کی ضرورت نہیں
احوالِ وطنکورونا وائرس: متاثرین کی تعداد 24,500 سے زیادہ، 775 اموات
ریاستیںدہلی نے دکانوں کو دوبارہ کھولنے کے وزارت داخلہ کے آرڈر پر وقتی روک لگائی، کہا کہ 27 اپریل کو فیصلہ کریں گے
احوالِ وطنمرکز نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے منتخب دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی
ریاستیںچھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپش بگھیل نے کہا کہ ریاست نے بھی ایسا ہی کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔
