ریاستیںطلبا پر کرایہ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے پر دہلی کے مکان مالکان کے خلاف 9 مقدمات درج
طلبا پر کرایہ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے پر دہلی کے مکان مالکان کے خلاف 9 مقدمات درج
دعوت نیوز16 مئی 2020
ریاستیںطلبا پر کرایہ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے پر دہلی کے مکان مالکان کے خلاف 9 مقدمات درج
رسول اللہ ﷺ نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے ليے يہ طريقہ اختيار کيا کہ حجر اسود کو ايک چادر ميں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائيں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھايا اور جب چادر اس مقام پر پہنچي جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو ديوار کعبہ ميں نصب کر ديا۔\r\n
ام المومنین صفات حسنہ کا مجسمہ تھیں۔ اولوالعزمی، بلند ہمتی، سیر چشمی، فہم وفراست، صبر وشکر، خلوص وایثار اور تقویٰ وپرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھیں۔\r\n
رحمت عالم ﷺ کا اخلاقِ کريمانہ اور شان عفوودرگزر
ہم جس قدر اس کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں اسی قدر ہمیں چاہیے کہ اس کے معنی ومفہوم پر غور وتدبر سے کام لیں اور قرآن کریم جو کتابِ ہدایت ہے اس کے سمجھنے پر زور دیں\r\n
قرآنِ مجید نے جنہیں اہلِ کتاب کہا، جنہیں دنیا کی بادشاہت عطا کی گئی تھی، جنہیں ایک مکمل نظامِ زندگی عطا کیا گیا تھا۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے اسے چند ایک عبادات، اور رسومات تک محدود کر دیا اور اسے نہ صرف اپنی اجتماعی زندگی سے دور کر دیا بلکہ اپنی انفرادی زندگی میں بھی مذہب کو صرف نکاح اور موت کے معاملات تک محدود کر دیا۔\r\n
زیر تبصرہ کتاب مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے اِس متفقہ نقطہ نظر کی قرآن وسنت پر مبنی تمام شرعی تفصیلات پر مشتمل ہے کہ ’مساجد مسلمانوں کی ملکیت نہیں بلکہ براہ راست اللہ سبحانہ تعالی کی ملکیت ہیں لہٰذا اُن سے کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر دست بردار نہیں ہوا جا سکتا‘ ۔
میری عمر پانچ چھ سال ہوگی جب میں نے اپنے گھر والوں سے یہ خبر سنی کہ مولانا مودودیؒ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ سزائے موت کی خبر میرے ارد گرد بہت سے چہروں کو مرجھا گئی۔ اس خبر نے میرے بے خبر بچپنے کو بھی اتنا ہی مضطرب کیا جتنا کئی با خبر جوانیوں کو۔ پھر معلوم ہوا کہ ملکی اور بین الاقوامی دباؤ اور احتجاج نے سزائے موت کو عمر قید اور عمر قید کو رہائی میں بدل دیا ہے۔ یہ گویا مولانا مودودیؒ سے میرا پہلا غائبانہ تعارف تھا۔\r\n
امريکہ کي عسکري خفيہ ايجنسيوں کو نومبر کے دوسرے ہفتے ميں ووہان (چين) سے وبا کے آغاز کا اندازہ ہوچکا تھا۔ بيماري پھوٹ پڑنے کي خبر اس وقت تک عام نہيں ہوئي تھي ليکن چين کو اس کے بارے ميں علم تھا۔ امريکي ايجنسيوں نے مبينہ طور پر اس کے بارے ميں صدر ٹرمپ کو بتا ديا تھا ليکن امريکي صدر نے اس خبر کوئي دلچسپي نہيں لي۔ (اسرائيلي ميڈيا)\r\n\r\n کوششوں کی ضرورت ہے اور اس موقع پر انگشت نمائی اور الزام تراشی سے وبا کے خلاف کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔ لیکن امریکی حکومت یہ مشورہ ماننے کو تیار نہیں اور صدر ٹرمپ
مسلم دنيا کي ۵۷ فيصد ممالک پر مشتمل آرگنائزيشن آف اسلامک کوآپريشن نے بھارت ميں بڑھتي ہوئي اسلام ومسلم دشمني پر سخت تنقيد کي ہے اور بھارتي حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ ملک ميں مسلم اقليت کے خلاف تشدد اور بھيد بھاو کو روکے اور عالمي حقوقِ انساني کي پاسداري کرتے ہوئے ان کي جان مال، عزت وآبرو کے تحفظ کو يقيني بنائے۔\r\n\r\nخلیجی ریاستوں کو کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے ۱۴۰ ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے بھارتی ہنر مند محنت کش اور نیم ہنر مند محنت کشوں کی تعداد میں کافی کمی کرنی پ
یہ اَمرربّی ہے آیا اور اسی وقت جائے گا جب اللہ اسے ٹالے گا۔ کورونا وائرس ہم سب کے لیے خُدائی اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ، اپنے گناہوں کی اللہ سے بخشش مانگو اور آئندہ کے لیے سچے دل سے توبہ کرو
موبائل فون اب صرف کان لگا کر سننے اور کہنے کے لئے نہیں رہ گیا ہے بلکہ اب ایک مکمل کمپیوٹر کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ اِس میں کیمرہ بھی نصب ہوتا ہے اور ریڈیو بھی ، اِس میں میوزیک پلئیر بھی ہوتا ہے اور ویڈیو پلیئر بھی ۔ اِس میں ٹی وی بھی ہوتا ہے اور اِس پر انٹرنیٹ استعمال کرنا اب ایسا ہوگیا ہے جیسے عام کمپیوٹر پر انٹر نیٹ استعمال کرنا ۔ یہ سب سہولیات صرف ’’موبائل فون ہارڈ وئیر‘‘ میں ترقی کا ثمر نہیں ہے بلکہ اِس میں ’’سافٹ وئیر‘‘ یعنی ’’موبائل آپریٹنگ سسٹم‘‘ کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔
خدارا ٹی وی کی خبروں سے زیادہ زمینی حقائق اور گرد وپیش کے حالات وواقعات اور حادثات سے باخبر رہیے اور اللہ کے بندوں تک پہنچ کر ان تک ضروریات زندگی پہنچا کر ایک مشکل ترین وقت میں ان کا سہارا بن جائیے۔\r\n
