احوالِ وطننیپال حکومت نے ملک کا نقشہ تبدیل کرنے کے لیے بل پیش کیا، ہندوستان کے علاقے بھی نئے نقشے میں شامل
نیپال حکومت نے ملک کا نقشہ تبدیل کرنے کے لیے بل پیش کیا، ہندوستان کے علاقے بھی نئے نقشے میں شامل
دعوت نیوز31 مئی 2020
احوالِ وطننیپال حکومت نے ملک کا نقشہ تبدیل کرنے کے لیے بل پیش کیا، ہندوستان کے علاقے بھی نئے نقشے میں شامل
ریاستیںتمل ناڈو میں 30 جون تک لاک ڈاؤن میں توسیع، ہوٹل اور مال وغیرہ بدستور بند رہیں گے
تازہ ترینمختصر مختصر: گذشتہ ایک دن میں سامنے آئے کورونا وائرس کے 8000 سے زیادہ معاملات، اب تک کا سب سے بڑا یومیہ اضافہ، دیگر اہم خبریں
تازہ ترینحکومت نے کنٹینمنٹ زونز میں ملک گیر لاک ڈاؤن کو 30 جون تک بڑھایا
احوالِ وطنحکومت کا کہنا ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ ’’عوامی اتھارٹی‘‘ نہیں، آر ٹی آئی کی درخواست کا جواب دینے سے انکار کیا
شمارہ 31 مئی تا 6 جون 2020 – ہفت روزہ دعوت
احوالِ وطنریلوے پروٹیکشن فورس کے اعداد و شمار کے مطابق 9 مئی سے 27 مئی کے درمیان خصوصی ٹرینوں میں 80 تارکین وطن مزدور ہوئے ہیں ہلاک
یہ تو واضح ہے کہ اس سہ طرفہ سرحدی تنازعے کا لنک ایک دوسرے سے کہیں نہ کہیں ملتا ضرور ہے اور یہ بھی غور طلب ہے کہ بھارت کے اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اور چین کے ساتھ ایک عرصے سے جاری سرحدی تنازعات کی فہرست میں نیپال کے شامل ہو جانے سے مودی حکومت کی سر دردی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور چین کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی کا جیو پولیٹیکل فائدہ اٹھانے کا ہندوستان کے پاس سنہری موقع ہے بشرطیکہ ہمارے ملک کی قیادت چیلنجوں سے پیدا ہونے والے امکانات کو اپنے حق میں کرنے کے لیے درست ترجیحات کے ساتھ بر وقت فیصلے کرے
ملک کے تقریباً ۸۰ فیصد مالی مراکز، بنگلور، کولکتہ، دلی، حیدرآباد، ممبئی، پونے، لکھنو، کانپور، جے پور، گورگاوں، نوئیڈا، احمد آباد ، سورت اور چینئی کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون میں ہیں۔ ملک میں ہوٹل، ریسٹورنٹس، نائٹ کلب، بار، ایرلائنس، بی پی او، سیاحت، انٹرٹینمنٹ اور بالی ووڈ ، آٹو موبائل، ابھیشن، کنزیومر آلات، الکٹرانکس، پولٹری اور آبی غذائیں، تعمیرات، ریلوے، ٹرانسپورٹ اور اس سے ملحقہ دیگر شعبہ جات پر بھی بہت شدید اثرات پڑے ہیں۔
اس بار سیٹنگ جج جسٹس طیب جی کے چیمبر میں درخواست پیش ہوا۔ جسٹس طیب جی نے یہ کہتے ہوئے تلک کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا کہ اگر ضمانت منظور نہیں ہوئی تو تلک ایک ماہ تک جیل میں رہیں گے۔ اگر اس معاملے کے اختتام پر وہ بے قصور ثابت ہوئے تو یہ بڑی نا انصافی ہوگی۔ اس لیے، ضمانت منظور کرلی ہے۔
اس عزم اور قصد کے ساتھ قرآن کا مطالعہ اور اس کی تفسیر کرنا چاہیے کہ خود بھی اپنی فکر ونظر اپنے اخلاق وکردار اور اپنے انفرادی واجتماعی رویے کو اس کے مطابق ڈھالیں گے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف متوجہ کریں گے
’’جی میل ڈرائیو‘‘ کی اسپیس پندرہ جی بی 15GB سے لیکر پچیس جی بی 25GB تک کی اسپیس فراہم کررہی ہے اور ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ اِس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ 2007ء میں ’’جی میل‘‘ کی اسپیس 0.4 میگا بائٹ MB فی دن اور 145MB میگا بائٹ فی سال کے حساب سے بڑھ رہی تھی اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ یہ رفتار اور بڑھتی جارہی ہے ۔
جن مسلم نوجوانوں کو محض شہریت کے کالے قوانین کے خلاف آواز اٹھانے اور مسلمان ہونے کی سزا میں فسطائی حکومت اور اس کے زر خرید کارندوں کے ذریعہ بڑی بے دردی سے اس ماہ مبارک کے دوران یا اس سے پہلے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا وہ نہ کبھی ڈرے اور نہ جھکے بلکہ اپنے صوم و صلواۃ اور ذکر وعبادت سے ہر جگہ یہ شہادت دیتے رہے کہ وہ تو بس اپنے رب کے بندے ہیں اور ان پر حکم بھی بس اسی رب کا چلتا ہے
یہ بات دیگر ہے کہ سپریم کورٹ اچانک نہیں جاگا ہے بلکہ اس کو جگانے کے لیے ملک کے سرکردہ وکیلوں کو عدالت کے نام ایک مکتوب لکھنا پڑا جس میں اس کی ’دستوری ذمہ داری‘ کو یاد دلاتے ہوئے اب تک کی عدالت کی معنی خیز خاموشی پر جھنجھوڑنا بھی پڑا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق خط لکھنے والوں میں ممبئی اور دلی کے کم از کم بیس سنیئر ترین وُکلا کے نام شامل ہیں اور اس خط پر پرشانت بھوشن، اندرا جئے سنگھ، کپل سبل، پی چدمبرم، وکاس سنگھ، اقبال چاؤلہ، نوروز سیروئی سمیت مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک اہم رکن یوسف مُچھالا کے بھی د
امریکہ کی نگرانی میں اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان اوسلو میں جو معاہدہ ہوا تھا جسے اب بھی اوسلو پیس پیکٹ کہا جاتا ہے اس کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اتھارٹی اور فلسطینی عوام بالعموم اس کا احترام کرتے ہیں، اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو مغربی کنارے پر تسلط بھی حاصل ہوا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے ایک مکمل آزاد فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بھی ہموار ہوتا ہے لیکن اسرائیل کی غاصب حکومت اور شدت پسند پارٹیاں اوسلو معاہدے کی جا بجا خلاف ورزی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور مغربی کنار
آصف کی عمر 24 سال ہے اور وہ جامعہ میں بی اے فارسی کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں، جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن اور ساتھ ساتھ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا ( طلباء تنظیم ) کے سرگرم رکن بھی ہیں ۔ سی اے اے تحریک کی بنیاد اور پھر اسکی قیادت میں آصف اقبال کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر احتجاجی مظاہروں میں آصف بے حد سرگرم رہتے ہیں اور ظلم کے خلاف بے خوف اپنی آواز کرتے ہیں ۔
ایسے حالات میں یہ فرامین انٹرنیشنل لیبر آگنائزیشن کی قرارداد ۲۰۱۷ کی بھی خلاف ورزی ہے کیوں کہ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ کسی آفت کے موقع پر ریاستوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ کمزور اور حاشیے پر کھڑے لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق روزگار چننے کی آزادی ہو۔ مگر ہماری حکومتیں بین الاقوامی عہد وپیماں کی خلاف ورزی کرنے پر تلی ہوتی ہیں ۔
سابق وزیر مالیات ارون جیٹلی کا گھسا پٹا جملہ۔\nکو اپریٹیو وفاق نہ تو کو اپریٹیو ہے اور نہ ہی اس بحران کے موقع پر وفاقیت ہے۔
