ریاستیںدہلی نے اپنی سرحدیں کھولیں، دہلی کے اسپتال صرف مقامی لوگوں کے لیے مختص
دہلی نے اپنی سرحدیں کھولیں، دہلی کے اسپتال صرف مقامی لوگوں کے لیے مختص
دعوت نیوز8 جون 2020
ریاستیںدہلی نے اپنی سرحدیں کھولیں، دہلی کے اسپتال صرف مقامی لوگوں کے لیے مختص
ریاستیںکوویڈ 19: دہلی میں جون کے آخر تک ایک لاکھ معاملات ہوں گے، صرف رہائشیوں کے لیے محفوظ رکھیں اسپتال کے بستر، حکومی کے ذریعے تشکیل کردہ پینل نے پیش کی تجویز
احوالِ وطنکورونا وائرس: ہندوستان نے ایک دن میں 10،000 کے قریب نئے معاملات کی اطلاع دی، اسپین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اب دنیا کا پانچواں بدترین متاثرہ ملک بن گیا
انسان اپنے اعمال وعبادات سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا، اعمال دخول جنت کی قیمت یا بدل نہیں بلکہ دخول جنت کے اسباب میں سے ہیں ورنہ ہم جنت میں صرف نیک اعمال کے ذریعے ہی داخل ہوسکتے ہیں۔رمضان المبارک میں ہم نے روزہ، تراویح، صدقہ وخیرات اور دعاء واستغفار کے ذریعے جو کمائی کی ہے اسے ضائع ہونے سے بچانے اور اس پر کاربند رہنے کے لیے کبائر سے اجتناب، اللہ ورسول کی نا فرمانی سے پرہیز، شرک وکفر اور ریاء ونمود سے دوری، قطع رحمی، والدین کی نافرمانی اور مسلمانوں کی ایذارسانی سے اپنے آپ کو بچ
عدالت کا میزان اگر کسی ایک جانب جھک جائے تو وہ اپنا وقار اور اعتبار دونوں کھو دیتی ہے اور ایسا ہی معاملہ فی الحال سپریم کورٹ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء نے اس مرض کو بے نقاب کرنے کا کام کیا ہے۔ اس کا علاج لا دینی جمہوریت کے اندر نہیں ہے بلکہ اس کے لیے الہامی ہدایت سے رجوع کرنا لازم ہے۔
اس یوم کے منانے کا مقصد ان تمام بچوں کے درد کا احساس کرنا ہے جو ساری دنیا میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی ظلم کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ دن یونایٹیڈ نیشن کے ذریعے بچوں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ہندوستان کا امیر اور متوسط طبقہ دنیا میں سب سے زیادہ لا پروا، کٹھور، ذات پات اور طبقاتی نظام کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ نا انصافی اور بد حالی کو دیکھ کر ہمیشہ اپنا منہ پھیر لیتا ہے۔ ہمارے شعور میں غریبوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی کیونکہ ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اس لاک ڈاؤن نے حقیقت میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہم واقعی کتنے بے رحم اور سنگ دل ہو چکے ہیں۔
اس لاک ڈاؤن سے وبا کو روکنے میں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ مگر دنیا کی اور ہماری دونوں معیشتیں تباہ ہوگئیں اور اب جب کہ بیماری شباب پر ہے تو معیشت کو بچانے کے لیے لاک ڈاؤن کو اٹھایا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن وبا کا علاج نہیں ہے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب حکومتیں وائرس سے نمٹنے کے لیے تیاری کرتی ہیں تاکہ طبی بحران سے ملک کو بچایا جاسکے۔
ایک طرف جہاں سرکار کی طرف سے ’’آروگیہ سیتو ایپ‘‘ کو موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے وہیں ’’فرضی آروگیہ سیتو ایپ‘‘ کا خطرہ بھی سامنے آیا ہے ۔ دراصل ’’سائبر ٹھگ‘‘ اِس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ایک ’’فرضی لنک‘‘ سوشل میڈیا پر پھیلا کر ’’ڈیجیٹل پلیٹ فارم‘‘ پر آئے نئے لوگوں کو اِس ’’لنک‘‘ کے ذریعے ٹھگنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
امریکی قصر صدارت وائٹ ہاوز کے باہر سیکڑوںافراد کا مظاہرہ۔ احتجاجیوںکے غیض وغصب کو دیکھ کر خفیہ سرویس کے ایجنٹس کے کہنے پر صدر ٹرمپ ایک انڈر گراونڈ بنکر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔
وہ معصوموں پر ظلم کرتے ہیں پھر الزام بھی انہی کے سر دھر دیا جاتا ہے۔ یہ ہے امریکہ کا انصاف، یہ ہے امریکہ کی ڈیموکریسی۔‘‘
جارج فلائیڈ کے قتل پر ملک گیر مظاہروں کے باوجود اس مسئلے کے حل کی کوئی امید نظر نہیں آتی کہ اب تک اس واقعے کے تمام ملزمان گرفتار نہیں ہوئے اور اصل ملزم پر جو مقدمہ بنایا گیا وہ تیسرے درجے کا قتل ہے یعنی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی بنا پر موت یا قتلِ خطا۔
یہاں دو مختلف دنیائیں آباد ہیں، ایک دنیا میں مظلوم اور مغلوب ومعتوب انسان بستے ہیں جو بے نوائی کی مار کھاتے ہیں، غربت کی ٹھوکریں برداشت کرتے ہیں، استحصال کے چابک سینوں پر کھاتے ہیں۔ دوسری دنیا منافرتوں کے نامی گرامی تاجروں کی ہے جو تخریب کاریوں کے سیاسی داتا ہیں، جو اپنے چہیتے امیروں کی پیالہ برداری کرتے ہیں اور غریبوں کو آپس میں دست وگریباں کیے رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خُو چھوڑی نہ وضع۔
میڈیا اور خاص طور پر آن لائن و پرنٹ میڈیا میں ان دنوں ہر روز ایسی خبریں و مضامین سامنے آرہے ہیں، جس میں مذہب کی راستے سے کورونا کا ہر ممکنہ علاج بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان خبروں و مضامین کے مطابق ہندوستان کے کچھ ’سوپر سائنسداں‘ ٹائپ یہ لوگ کرونا کا علاج نہ جانے کب کا نکال چکے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ہندوستان میں صرف اور صرف اسی سہارے کورونا کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
2008 میں اوباما کی پہلی صدارتی مہم کے دوران تقریباً 60 فیصد سیاہ فام امریکیوں نے نسلی تعلقات کی صورتحال کو ’’عمومی طور پر خراب‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کے انتخاب کے بعد یہ تعداد نصف ہو گئی تھی لیکن وہ ایک عارضی احساس تھا اس لیے کہ ۷ سال بعد 68 فیصد سیاہ فام امریکیوں کی رائے بدل گئی اور انہوں نے کہا کہ نسلی تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔(2015 کی سروے رپورٹ )
۔حکومت نے این آر سی اور سی اے اے کے نام سے جو شوشے چھوڑ رکھے تھے ان کے خلاف پورے ملک میں مسلمان اور صاف ذہن شہری احتجاج کر رہے تھے۔ سب سے بڑا احتجاج مسلم خواتین نے جنوبی دہلی کے شاہین باغ علاقے میں شروع کیا جس میں ۲۴ گھنٹے خواتین کا مجمع رہتا تھا۔ اس قسم کے چھوٹے بڑے پروگرام پورے ملک میں ہونے لگے۔ شرارتی میڈیا نے اس کے خلاف بھی محاذ کھول رکھا تھا۔
دوسری مثال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان کی ہے جسے ’’وشوگرو‘‘ بننے کی تمنا ہے۔ اور اس آرزو کی تکمیل کے لیے اس نے جمہوریت کے چاروں ستونوں کو جس طرح مسمار کر کے ملبے میں تبدیل کر دیا ہے اسے دیکھ کر پورے ملک ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ماتم بپا ہے
ترکی کی فوجی مشاورت سے ترکی کے سپلائی کیے گئے ڈرون سے کم سے کم نقصانات، بڑے فوجی نشانے اور متاثر کرنے والی حکمت عملی لیبیا کے حکم رانوں نے اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو مہینوں میں جنرل حفتر کو مغربی لیبیا کے تقریباً سارے علاقے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا، اب حفتر کے حمایتی مغربی اور خلیجی ممالک کے حوصلے پست ہو گئے ہیں۔
بھارت کی ترقی وتعمیر میں مسلمانوں کا کردار کسی بھی طرح دوسری قوموں سے کم نہیں رہا بلکہ کچھ زیادہ ہی رہا ہے۔ آج بھی مسلمان، چاہے وہ عوامی شہریت کا مسئلہ ہو یا کرونا وائرس کی وبا کا، ہر محاذ پر وہی ڈٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ کوششیں انشاء اللہ ضرور رنگ لائیں گی
ملک کو عالمی قیادت کے مقام تک لے جانے کا خواب دیکھنے والے کیا آج بھی دقیانوسی سوچ کے ساتھ اپنی آبادیوں کو اندھی عقیدت میں بد مست رکھیں گے؟ طرح طرح کے ڈر، افواہیں، توہم پرستی، سماجی ومعاشی اور فکری پس ماندگی نیز نفرت انگیزی کو روکنے کے لیے ایماندارانہ اقدامات کی ضرورت ہے جو کہ ایک دستوری فریضہ بھی ہے لیکن ہم سب اس میں بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
