مسعود ابدالی

’’ہم باقی رہیں گے، جیسے زعتر اور زیتون باقی ہیں‘‘۔ زعتر مزاحمت کی خوشبو ہے اور زیتون فلسطین کی پہچان پانچ ستمبر کی صبح امریکی ساختہ جدید لیزر گائیڈڈ میزائلوں سے غزہ شہر کے مغربی حصے میں واقع پندرہ منزلہ برج ’’مشتھی السکنی‘‘ (رہائشی ٹاور) کو سینکڑوں مکینوں سمیت زمین بوس کر دیا گیا۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حملے کے بعد اعلان کیا کہ ’’ہم نے غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں۔‘‘ اس درندگی کی ویڈیو اسرائیلی وزارتِ دفاع نے خود جاری کی۔ عمارت کے ساتھ ایک مسجد بھی مسمار ہوئی اور اس کے دامن میں بسی خیمہ بستی کا بڑا حصہ ملبے تلے دب گیا۔ جلتے ہوئے خیموں کی ویڈیوز اسرائیلی میڈیا پر براہِ راست نشر کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا پر عبرت کے طور پر پھیلائی گئیں، ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کہ ’’جہنم سے جلد نکل جاؤ‘‘۔ یہ ’وعدہ‘ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ ریپبلکن پارٹی کے قومی کنونشن میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ دوسری بار امریکی صدر منتخب ہوگئے اور ان کے حلف اٹھانے سے پہلے اسرائیلی قیدی رہا نہ ہوئے تو غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ: اکیس ہزار بچے معذور، انتیس ہزار مزید خطرے میں دنیا غزہ میں انیس ہزار سے زائد بچوں کے قتل کا ماتم کر رہی ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ادارے UN Committee on the Rights of Persons with Disabilities نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق اکیس ہزار بچے مستقل طور پر معذور ہو چکے ہیں اور مزید انتیس ہزار نونہال زخمی ہیں جن کا اگر بروقت علاج نہ ہوا تو ان کی بڑی تعداد بھی معذور ہو سکتی ہے۔یہ اعداد و شمار صرف جسمانی نہیں اخلاقی زلزلے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ امریکی سینیٹروں کی چشم دید گواہی ریاست میری لینڈ کے سینیٹر کرس وین ہالن (Chris Van Hollen) اور ریاست اوریگن کے سینیٹر جیف مرکلے (Jeff Merkley) نے فلسطین کا تفصیلی دورہ کیا اور واپسی پر 4؍ ستمبر کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ نیتن یاہو کی حکومت غزہ میں کھلی اور مغربی کنارے میں سست روی کے ساتھ نسلی تطہیر کر رہی ہے۔ فلسطینیوں کے گھروں، اسکولوں اور دواخانوں کو تباہ کر کے انہیں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کے ان سینیٹروں کے مطابق، امریکہ و اسرائیل کا مبینہ منصوبہ ہے کہ بیس لاکھ فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کرنے کے بعد غزہ کو دس سال کے لیے امریکی کنٹرول میں دے کر اسے سیاحتی مرکز میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس منصوبے کو سرمایہ کاری کا لبادہ اُڑھا کر فلسطینیوں کی جبری ہجرت کو \"رضاکارانہ\" ظاہر کیا جا رہا ہے جو کہ ایک سنگین دھوکہ ہے۔ انہوں نے یورپی اور عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر نیتن یاہو کو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے روکیں اور دو ریاستی حل کو زندہ رکھیں۔ غرب اردن میں قبضہ گردوں کی دہشت مشرقی بیت المقدس کے قریب متنازعہ E1 سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی منظوری کے بعد فوجی سرپرستی میں فلسطینی بستیوں پر قبضہ گردوں (Settlers) کے حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔چار ستمبر کی رات کو جنوبی غرب اردن کے شہر الخلیل کے قصبے خلة الضبع پر مسلح قبضہ گردوں نے دھاوا بول دیا۔ ڈنڈوں اور آہنی مکوں سے خواتین، ضعیفوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ چھ ماہ کی بچی سمیت چودہ افراد زخمی ہوئے۔ ایک ضعیف العمر شخص علی اور ان کی اہلیہ امینہ کی ہڈیاں توڑ دی گئیں۔ غنڈوں کے جانے کے بعد فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران ایک سو کے قریب فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ شمال میں جنین سے لے کر جنوبی کونے پر حطہ تک ہر شہر پر قصبہ قبضہ گرد حملہ آور ہیں۔ جنگ بندی کا سراب جہاں تک جنگ بندی کا تعلق ہے تو غزہ پر بھر پور حملے کے بعد امن کی امید معدوم ہو چکی ہے۔ تین ستمبر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جنگ بندی کی ایک دھمکی آمیز پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ’’مزاحمتی گروہ کو کہو کہ وہ تمام بیس یرغمالیوں کو فوراً رہا کردے، دو یا پانچ یا سات نہیں، ایسا ہوا تو حالات فوراً بدل جائیں گے اور جنگ ختم ہو جائے گی“۔ ابھی اس بیان کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے متکبرانہ لہجے میں کہہ دیا کہ مزاحمت کاروں کے اسلحہ ڈالنے سے پہلے جنگ بند نہیں ہوگی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے سینہ پھلا کر بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مزاحمت کاروں کے ترجمان کا خاتمہ کردیا ہے۔ عالمی برادری بھی حد درجہ احتیاط اور مصلحت کا شکار ہے۔ چنانچہ گزشتہ ہفتے اعلان ہوا کہ فرانسیسی صدر اور سعودی ولی عہد 22 ستمبر کو نیویارک میں فلسطین و غزہ کی صورتحال پر بات کریں گے۔ روزانہ دو سو اموات کے بیچ تین ہفتے کی تاخیر ’’خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک‘‘ کے مصداق ہے۔ اسرائیلی فوج میں تھکن اور مراعات کا لالچ نیتن یاہو کی خون آشامی اور تکبر اپنی جگہ لیکن اسرائیلی فوج میں تھکن خوف اور بیزاری بہت نمایاں ہے۔ غزہ پر یلغار کے لیے پچاس ہزار ریزرو سپاہیوں کو طلب کیا گیا ہے مگر بڑی تعداد میں چھٹی کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ انہیں لبھانے کے لیے ’’مجاہد (Fighter) کارڈ‘‘ متعارف کرایا گیاہے، جس میں ہر سپاہی کو سالانہ پانچ ہزار شیکل (ایک ہزار ڈالر) تک شاپنگ اور تفریح کے کریڈٹ دیے جائیں گے۔ وزیرِ دفاع کے مطابق یہ ’’اعتراف اور قدر دانی‘‘ ہے جبکہ وزیرِ خزانہ کے خیال میں یہ محافظوں کے لیے قوم کا ’’تحفہ‘‘ ہے۔ مراعاتی رشوت ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلی فوج دفاع کا قومی ادارہ نہیں بلکہ مراعات یافتہ وحشی مافیا بن چکی ہے۔ اسرائیلی سیاست کا داخلی بحران عسکری پہلو کے ساتھ سیاسی محاذ پر بھی بے چینی بہت واضح ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف یائر لاپیڈ (Yair Lapid) نے تل ابیب میں اپنی جماعت یش عتید (Yesh Atid) کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر یہ اتحاد دوبارہ اقتدار میں آ گیا، تو یہ صہیونیت کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔‘‘ قیدیوں کی مائیں، زنجیروں میں احتجاج جیسے جیسے غزہ شہر پر اسرائیلی حملے میں شدت آرہی ہے، قیدیوں کے لواحقین کا اضطراب بھی بڑھتا جارہا ہے۔ یروشلم میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاجی مظاہرے میں اسیر نوجوانوں کی مائیں انات انگرسٹ (Anat Angrest) اور وکی کوہن (Vicky Cohen) غم و غصے سے بے قابو ہو گئیں۔وکی کوہن نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’وزیر اعظم صاحب! آپ کی تاخیر سے میرا بچہ سسک سسک کر مر رہا ہے۔ یرغمالی آپ کی تقریروں، وضاحتوں اور بہانوں کے انتظار میں نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ کو واقعی پروا ہوتی تو میرا بچہ آج میرے ساتھ گھر پر ہوتا‘۔ مظاہرین نے قیدیوں کی اذیت کے علامتی اظہار کے لیے زنجیریں پہن رکھی تھیں۔ دانشوروں کی بغاوت ممتاز اسرائیلی دانشور و مورخ ڈاکٹر Fania Oz Slazbeerger نے ٹویٹر (X) پر اسرائیلی فوجیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ غزہ جانے سے انکار کر دیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ مسیحائی (Messianic) دائیں بازو کی جنونیت نے اسرائیل کو تنہا کر دیا ہے لہذا اب لڑائی سے انکار کے علاوہ اس بحران سے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔ قافلۂ صمود غزہ کی طرف محو سفر صمود کا ہراول دستہ تیونس کے قریب ہے جبکہ کچھ کشتیاں بارسلونا میں مزید مسافروں کا انتظار کر رہی ہیں۔ سفر کے آغاز پر سالارِ قافلہ بائیس سالہ گریٹا تھنبرگ نے کہا ’’اسرائیلی دھمکیوں سے ہمیں ڈرایا یا روکا نہیں جا سکتا، ہمارا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور دنیا کی توجہ فلسطین پر مرکوز رکھنا ہے۔‘‘جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی اس قافلے میں شامل ہیں۔ عالمی عوامی رد عمل حکومتوں کی بے حسی کے باجود عوامی سطح پر یورپ میں رد عمل شدید ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتِ سنگھار (Cosmetics) سے وابستہ برطانوی کمپنی Lush نے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر 3؍ ستمبر کو ایک دن کے لیے اپنی تمام دکانیں، ویب سائٹ اور فیکٹریاں بند رکھیں۔ ادارے نے اپنے اعلامیے میں کہا ’’اگرچہ Lush ایک دن کی آمدنی کھو رہی ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ برطانوی حکومت اور عوامی خزانے کو بھی اس دن ٹیکس کی آمدنی نہیں ملے گی‘‘۔ لش کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومتیں خاموش ہوں، تو ضمیر رکھنے والے ادارے بولتے ہیں۔ ہارورڈ بمقابلہ ٹرمپ: عدالت نے ’’یہود دشمنی‘‘ کو پردہ قرار دیا ۔ نسل کشی کے خلاف مظاہروں کو سام دشمنی یا Antisemitism قرار دینے کی ٹرمپ منطق کو امریکی عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے یہ الزام لگا کر جامعہ ہاروڈ کی دو ارب ڈالر سے زائد کی وفاقی گرانٹ روک دی تھی۔ جامعہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی اور 3؍ ستمبر کو وفاقی جج ایلیسن بوروگز (Allison Burroughs) نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ٹرمپ انتظامیہ نے ’’یہود دشمنی‘‘ کو محض ایک بہانے اور پردے کے طور پر استعمال کیا ہے یہ دراصل ملک کی نمایاں جامعات پر ایک نظریاتی اور سیاسی حملہ تھا۔ فیصلے کے بعد ہارورڈ کی منجمد شدہ گرانٹ بحال کر دی گئی۔ یہ معاملہ آزادیِ اظہارِ رائے اور سیاسی انتقام کے درمیان کشمکش کی تازہ مثال ہے۔ ڈاکٹر عمر حرب کی بھوک سے موت: علم کی شمع بجھ گئی غزہ میں سیکڑوں بچے بھوک سے جاں بحق ہو چکے ہیں اور 4؍ ستمبر کو بھوک نے ایک استاد کو بھی چاٹ لیا ہے۔ ممتاز دانشور و معلم ڈاکٹر عمر حرب بھوک سے دم توڑ گئے۔ ان کے بیوی بچے دسمبر میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے تھے۔ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم۔۔ تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے نوشتۂ دیوار: زعتر اور زیتون کی گواہی ملبے کی ایک سل پر کسی حوصلہ مند نے لکھ دیا: ’’باقون کالزعتر والزیتون‘‘ یعنی ہم باقی رہیں گے، جیسے زعتر اور زیتون باقی ہیں۔ زعتر مزاحمت کی خوشبو ہے اور زیتون فلسطین کی پہچان۔ یہ اس عزم کا اعلان ہے کہ گھر تباہ ہوں یا شہر اجڑ جائیں، ہم اپنی زمین اور شناخت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ (مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے) masood_abdali@hotmail.com

 

***

 

ہفت روزہ دعوت - شمارہ 14 اگست تا 20 اگست 2025