سمیع احمد
رپورٹرز کلیکٹیو کی تحقیق میں بی جے پی کے دعوے غلط ثابت ہوئے پٹنہ: جیسے جیسے بہار کی 2025 کی اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں، مبینہ غیر قانونی دراندازی کا مسئلہ اچانک سیاسی منظر نامے پر نمایاں کردیا گیا ہے، خصوصاً بی جے پی کے قائدین بشمول وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے اسے ایک سنگین مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم انتخابی فہرستوں کی خصوصی وسیع نظرثانی (Special Intensive Revision ۔ SIR) کے پہلے مرحلہ کے اختتام پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے تاحال ’’غیر قانونی غیر ملکی دراندازوں‘‘ کی کوئی تعداد ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ بی جے پی اور اس کی مادر تنظیم آر ایس ایس مسلسل سیمانچل کے خطے میں مبینہ بنگلہ دیشی دراندازوں کا شوشہ چھوڑتی رہتی ہیں، جہاں مسلم آبادی بہار کے اوسط تناسب (17.7 فیصد) سے زیادہ ہے اور اس کو ریاست کی آبادیاتی ساخت اور وسائل کی تقسیم کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں۔ لیکن قریب سے جائزہ لینے پر یہ دعویٰ نہایت مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ثابت ہوا ہے جو حکم رانی کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹاکر ووٹروں کو منقسم کرنے کا حربہ معلوم ہوتا ہے۔ بی جے پی کا بیانیہ اس مفروضے پر کھڑا ہے کہ غیر قانونی طور پر خصوصاً بنگلہ دیش سے آئے ہوئے افراد بہار میں بس رہے ہیں اور انتخابی و آبادیاتی نقشے کو بدل رہے ہیں۔ نریندر مودی نے حالیہ بودھ گیا کی تقریر میں ’’دراندازوں‘‘ کو نکال باہر کرنے پر زور دیا تاکہ بہار کی آبادیاتی شناخت محفوظ رکھی جاسکے۔ اسی طرح امیت شاہ نے ایس آئی آر کی تائید میں کہا کہ یہ ان دراندازوں کو نشانہ بناتا ہے جن کے پاس آئینی ووٹ کا حق نہیں۔ لیکن ان دعوؤں کے تائیدی شواہد نہایت کمزور ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس آئی آر کے تحت بہار کی انتخابی فہرست سے تقریباً 65 لاکھ نام حذف کیے گئے۔ اسے دراندازی کا ثبوت قرار دیا گیا مگر کمیشن نے خود واضح کیا کہ ان میں اکثریت یا تو وفات پاچکی تھی یا کہیں اور منتقل ہوچکی تھی یا دوہرا اندراج تھا، نہ کہ وہ غیر ملکی ثابت ہوئی؟ کتنے ووٹر درحقیقت روہنگیا، بنگلہ دیشی یا دیگر ممالک کے شہری نکلے، اس پر کوئی اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔ رپورٹرز کلیکٹیو کی تفتیش نے بی جے پی کے بیانیے کو مزید کمزور کیا ہے۔ جنوری 2025 تک بہار کی انتخابی فہرست کو مضبوط قرار دیا جارہا تھا اور جون تک معمول کی تجدید جاری تھی مگر اب اچانک کمیشن نے اسے خراب کہہ کر از سرِ نو تیاری کا حکم دیا۔ اس تغیر نے ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات کو جنم دیا اور راہل گاندھی سمیت اپوزیشن نے کہا کہ یہ دراصل جائز ووٹروں کو محروم کرنے کی کوشش ہے۔ مزید برآں، بہار کی جغرافیائی صورتِ حال اس دراندازی کے بیانیے کو مزید کمزور کرتی ہے۔ آسام کی طرح بہار کی براہِ راست بنگلہ دیش کے ساتھ کوئی وسیع سرحد نہیں اور تاریخی طور پر یہاں بڑے پیمانے پر غیر قانونی نقل مکانی کے شواہد بھی نہیں ملتے۔ 2023 میں بہار پولیس نے وضاحت کی تھی کہ مشہور (سیما حیدر کا) مقدمہ دراصل دیگر ریاستی سرحدوں کے ذریعہ ہوا، بہار سے نہیں۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت جو گزشتہ گیارہ برس سے برسرِ اقتدار ہے اور این ڈی اے کی ڈبل انجن حکومت جو تقریباً سترہ برس سے بہار پر قابض ہے خود سوالات کی زد میں ہے۔ اگر واقعی دراندازی اتنا بڑا مسئلہ ہے تو سرحدی سلامتی میں ان کی کوتاہی کیوں ہے اور نتیش کمار جو دو دہائیوں سے وزیراعلیٰ ہیں اس معاملے میں کیوں خاموش ہیں؟ وزارتِ داخلہ نے جو 2019 سے امیت شاہ کے زیرِ انتظام ہے، بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر باڑھ بندی اور نگرانی میں کوئی بڑی تیزی نہیں دکھائی۔ آسام اور تریپورہ جہاں بی جے پی برسوں سے حکومت میں ہے وہاں بھی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ جاری ہے۔ اپوزیشن خصوصاً آر جے ڈی نے کہا ہے کہ سرحدی انتظام مرکزی ذمہ داری ہے، اس میں ناکامی بی جے پی کی حکومت کا قصور ہے نہ کہ صرف ریاست کا؟ 2021 میں مرکزی حکومت نے بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کا دائرہ اختیار 50 کلومیٹر سے بڑھاکر 150 کلومیٹر کردیا ہے مگر اس کے نتائج پر کوئی شفاف اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں۔ اس کے بجائے دہلی اور این سی آر جیسے شہروں میں وقفے وقفے سے چھاپے مارے جاتے ہیں اور بنگلہ زبان بولنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بغیر کسی واضح ثبوت کے۔ یہ عمل ایک منظم پالیسی کے بجائے وقتی اور سیاسی محرکات کا پتہ دیتا ہے۔ انتخابات سے قبل دراندازی کے شور کو تیز کرنا سیاسی محرکات ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی کو اس بیانیے سے شکست کا سامنا ہوچکا ہے، باوجودیکہ آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو مہم میں شامل کیا گیا تھا۔ اب یہی حکمتِ عملی بہار، آسام اور مغربی بنگال میں اختیار کی جارہی ہے۔ ناقدین کے نزدیک یہ مسئلہ محض اصل بحرانوں سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔ بہار اس وقت جرائم میں اضافہ، غربت، بیروزگاری، زرعی بحران اور صحت و تعلیم کے زوال جیسے حقیقی مسائل سے دوچار ہے۔ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو کے مطابق این ڈی اے حکومت ان مسائل پر جواب دہی کے بجائے دراندازی جیسے تفریقی معاملات اٹھاکر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال رہی ہے۔ حالیہ واقعات مثلاً ایک آئی اے ایس افسر کے حوالے سے 11.64 کروڑ روپے کی نقد برآمدگی ریاستی نظام کی کرپشن کو عیاں کرتی ہے۔ دراندازی کا بیانیہ فرقہ وارانہ تقسیم کو بھی ہوا دیتا ہے کیونکہ یہ غیر قانونی نقل مکانی کو بالواسطہ مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ یہ وہی آزمودہ نسخہ ہے جسے بی جے پی نے رام مندر، دفعہ 370 اور یکساں سِول کوڈ جیسے معاملات میں استعمال کیا تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ایس آئی آر کا عمل دراصل حاشیہ بردار طبقات اور جائز ووٹروں کو نشانہ بناتا ہے تاکہ ان کی شرکت محدود کی جائے۔ مثال کے طور پر بودھ گیا میں ایک ہی مکان کے تحت 947 ووٹر درج پائے گئے جسے غلطی یا بد انتظامی تو کہا جا سکتا ہے دراندازی نہیں۔ الغرض، بہار میں دراندازی کا غلغلہ ایک سیاسی حربہ ہے جسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ نہ اس کے ٹھوس شواہد ہیں اور نہ ہی مرکزی حکومت کی کارکردگی اس کے تائید میں ہے۔ اصل مسائل—غربت، بیروزگاری، بدعنوانی اور امن و امان—ابھی بھی عوام کے سامنے جوں کے توں موجود ہیں۔ 2025 کے انتخابات میں ووٹروں کے لیے یہ لازم ہوگا کہ وہ دعوؤں کو پرکھیں اور اپنے لیڈروں سے حقیقی جواب دہی طلب کریں۔ (بشکریہ انڈیا ٹومارو ڈاٹ نیٹ)
***
ہفت روزہ دعوت - شمارہ 14 اگست تا 20 اگست 2025


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔