ضمیرا حمد خان، ناندیڑ

قندھار کے مقتولین کی کہانی، ببر محمد خان کی زبانی : ہفت روزہ دعوت اکسکلیوزیو سندر لال کمیٹی رپورٹ: وہ سچ جسے دہائیوں تک چھپایا گیا۔حصول انصاف آج بھی ممکن ستمبر کا مہینہ آتے ہی دکن اور مراٹھواڑہ کے مسلمانوں کے ذہنوں میں انضمامِ حیدرآباد کی وہ تلخ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں جب پولیس ایکشن کے نام پر مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ رضاکاروں کے خلاف فیصلہ آیا جن کے نام پر کی گئی فوجی کارروائی میں عام اور بے گناہ مسلمانوں کا بھی بے رحمی سے قتل عام کیا گیا۔ دکن اور مراٹھواڑہ کے تاریخی پولیس ایکشن (1948) کے دوران مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی یاد اب بھی تازہ ہے، جہاں ہزاروں افراد کو بلا جواز شہید کیا گیا۔ اس سنگین واقعے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں ضلع ناندیڑ کے تعلقہ قندھار کے رہائشی مرحوم ببر محمد خان کی داستان نمایاں ہے۔ ان کی فیملی، بشمول بڑے بھائی ایڈووکیٹ ابراہیم، چچا محمد خواجہ اور والد شیر محمد سمیت دیگر رشتہ داروں جیسے معین اللہ بیگ، احمد میاں اور یاسین خان کو پولیس کی بے رحمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح سیرا ڈھون کے مقام پر ببر محمد خان کے چچا کی سسرال کے رکن چھوٹو میاں سوداگر اور ان کے خاندان کے سات افراد کو بھی شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعات نہ صرف ایک خاندان کے درد کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ پورے مراٹھواڑہ کے مسلمانوں کے لیے ایک خوفناک دور کی یاد دلاتے ہیں۔ ببر محمد خان جن کی عمر اس وقت محض چار سال تھی بچپن میں ہی یتیم ہو گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں ان مظالم کا سامنا کیا جہاں پولیس نے مسلمانوں کو \"فیصلہ کن جنگ\" کے نام پر نشانہ بنایا گیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے ہفت روزہ دعوت کو بتایا کہ اس دور میں مراٹھواڑہ کے چھ اضلاع، کرناٹک کے پانچ اضلاع اور تلنگانہ کے چار اضلاع میں قیامت صغریٰ برپا ہوئی جس میں تقریباً تین لاکھ مسلمان شہید کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قتل عام کوئی اتفاق نہیں بلکہ فرقہ وارانہ طاقتوں کی طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ پولیس نے مسلمانوں کو پکڑ کر پولیس اسٹیشنوں میں قید کیا پھر قندھار کے سلیمان ٹیکڑی کے قریب کروڈا گاؤں میں لے جا کر رات کے اندھیرے میں بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ لاشیں جنگلوں میں پھینک دی گئیں جو مہینوں تک وہاں پڑی رہیں۔ببر محمد خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ پولیس ایکشن سے پہلے مراٹھواڑہ کے مسلمان کافی خوش حال تھے، ان کے پاس زمینیں، جائیداد، کاروبار اور زراعت تھی اور وہ اپنے علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ لیکن اس عمل کے بعد ان کی زمینیں چھین لی گئیں، کاروبار تباہ کر دیے گئے اور انہیں جینے کے بنیادی حق سے تک محروم کیا گیا۔ بہت سے مسلمانوں کو اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنا پڑا۔ متاثرین نے احتجاج کیا، انصاف کا مطالبہ کیا لیکن نہ تو اس وقت انصاف ملا اور نہ ہی آج تک۔ ان کے بقول قتل کرنے والوں پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا بلکہ انہیں \"مکتی سنگرام‘‘ کا ہیرو بنا کر انعام دیا گیا۔ جب ان سے مراٹھواڑہ کی آزادی کی جنگ اور لبریشن ڈے کے منانے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ پچاس سال تک کسی حکومت نے اس طرح کی تقریبات نہیں کیں لیکن فرقہ پرست طاقتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد اسے آزادی کی جنگ کہا جانے لگا، جو متاثرہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ انجینئر ایم اے عزیز کی کتاب \"پولیس ایکشن\" میں بھی اس دور کے دردناک واقعات کا ذکر ہے جن میں مسلمانوں کا قتل عام، ٹرینوں میں لاشیں اور زخمیوں کی آمد اور مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والی عصمت ریزی شامل ہے۔ بہت سی خواتین نے اپنی عصمت بچانے کے لیے کنوؤں میں کود کر اپنی جانیں دیں، جب کہ کئی لوگ جنگلوں میں چھپنے پر مجبور ہوئے۔ یہ سب کچھ فرقہ وارانہ منصوبوں کا نتیجہ تھا جس نے مسلمانوں کو خوف زدہ اور کمزور کر دیا۔ انضمامِ حیدرآباد اسباب اور اس کے جنوب ہند میں پڑنے والے وسیع اثرات پولیس ایکشن جو 1948 میں حیدرآباد کو بھارتی یونین میں ضم کرنے کے لیے کیا گیا ہندوستانی تاریخ کے تاریک ابواب میں سے ایک ہے۔ اس کارروائی کے بعد مہاراشٹر اور کرناٹک کے سرحدی اضلاع کے مسلمانوں پر بڑے پیمانے پر مظالم ہوئے۔ انہی واقعات کی تحقیق کے لیے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے پنڈت سندر لال کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے اور ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ میں کم از کم ستائیس تا سے چالیس ہزار ہلاکتوں کی نشان دہی کی گئی۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ تاہم یہ اہم دستاویز طویل عرصے تک غیر منشور رہی اور عوامی نظر سے اوجھل رکھی گئی۔یہ سوال اہم ہے کہ یہ رپورٹ دہائیوں تک کیوں چھپائی گئی؟ تاریخی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کی بنیادی وجہ سیاسی حساسیت تھی یعنی 1948 کے بعد ایک نئی آزاد ریاست کے طور پر ہندوستان اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا تھا۔ حکومت کو اندیشہ تھا کہ اگر رپورٹ منظر عام پر آتی تو اس میں درج قتل و غارت، لوٹ مار اور زیادتیوں کے بیانات سرکاری بیانیے کو مجروح کر سکتے تھے، جو ’آپریشن پولو‘ کو ایک کامیاب اقدام کے طور پر پیش کرتا تھا۔ اس وقت قومی یکجہتی کی فوری ضرورت تھی اس لیے حکومت نے سمجھا کہ ایسی دستاویزات سے سماجی انتشار پیدا ہو سکتا ہے جو نئی ریاست کی تعمیر کے لیے خطرہ بنے گا۔ اسی خوف کے تحت رپورٹ کو محدود رکھنے کو ترجیح دی گئی تاکہ عوامی غم و غصہ قابو میں رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اضافی فسادات کا خدشہ بھی بڑا عنصر تھا۔ رپورٹ کی اشاعت مسلمانوں میں مزید ناراضگی کو ہوا دے سکتی تھی اور نئے تنازعات جنم لے سکتے تھے۔ اس دور میں ہندو مسلم تعلقات پہلے ہی نازک تھے، حکومت کو خوف تھا کہ سرکاری اداروں کی ناکامیوں کا تذکرہ سامنے آنے سے احتجاج بڑھے گا اور سماجی امن متاثر ہوگا لہٰذا اس رپورٹ کو روکنا ایک احتیاطی تدبیر سمجھا گیا جس میں امن عامہ کو ترجیح دی گئی مزید برآں، سرکاری بیانیے کی بالادستی اور سفارتی خدشات بھی اثر انداز ہوئے۔ نئی حکومت بین الاقوامی سطح پر ایک متحد اور سیکولر ہندوستان کی شبیہ پیش کرنا چاہتی تھی۔ اگر یہ رپورٹ شائع ہو جاتی تو بیرونی دنیا میں تنقید کا دروازہ کھل سکتا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر مذہبی تنازعات پر توجہ بڑھ رہی تھی۔ زمینی سطح پر انتظامی مشکلات جیسے وسائل کی کمی، قانونی پیچیدگیاں اور ترجیحات کی کشمکش نے بھی معاملے کو پیچیدہ بنا دیا۔ حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر تحقیقات اور کارروائی کے لیے درکار وسائل موجود نہ تھے، جب کہ اقتصادی و سماجی تعمیر نو اس کی فوری ترجیح تھی چنانچہ ایسی حساس دستاویزات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔مختصراً، سندر لال کمیٹی کی رپورٹ تاریخی سچائی کا اہم ریکارڈ تھی، مگر اس کی اشاعت کو سیاسی حساسیت، سماجی امن کے تقاضوں، بین الاقوامی شبیہ کے خوف اور انتظامی مجبوریوں کے باعث طویل عرصے تک روکے رکھا گیا۔ یہ فیصلہ اُس وقت کے سیاسی و سماجی تناظر میں احتیاط پر مبنی تھا، مگر اس نے انسانی المیے کی مکمل تفہیم اور انصاف کی بحث کو دیر تک مؤخر کیے رکھا۔ایک طویل عرصے کے بعد ان دستاویز وں کو نہرو میموریل میوزیم میں منتقل کیا گیا۔ پنڈت سندر لال کمیٹی کی رپورٹ کو اگر حکومت نے اپنی ساکھ بچانے کی خاطر چھپائے رکھا تو یہ فیصلہ دراصل مسلمانوں کے دکھ نظر انداز کرنے کا بہانہ بن گیا اور انصاف کی راہ مسدود ہوگئی۔ یہ ایک دردناک تاریخی غلطی تھی جس نے متاثرین کو اپنی آواز مؤثر انداز میں اٹھانے سے محروم کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس وقت ایسے متبادل اقدامات کیوں نہیں کیے گئے جو فوری انصاف کی راہ ہموار کرتے اور ماضی کے زخموں کو بھرنے میں مدد دیتے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر حکومت نے قانونی، معاشی اور سماجی سطح پر بر وقت اور فعال قدم اٹھائے ہوتے تو شاید تاریخ کا یہ باب کچھ مختلف ہوتا۔ابتدا ہی سے قانونی راستے کو ترجیح دی جاتی؛ خصوصی عدالتیں یا فاسٹ ٹریک بنچ قائم کر کے متاثرین کی شکایات براہِ راست سنی جاتیں۔آئین کے آرٹیکل 14 (برابری) اور 21 (حقِ زندگی بمع عزت) کے تحت متاثرہ خاندانوں کو سرکاری خرچ پر وکلا کی ٹیمیں اور قانونی معاونت فراہم کی جاتی تاکہ وہ اپنے مقدمات مؤثر طور پر لڑ سکیں۔آزاد تفتیشی کمیشن کو قانونی اختیارات دے کر وقتِ مقررہ میں رپورٹ اور اس پر عمل درآمد کی پابندیاں مقرر ہوتیں، ساتھ ہی گواہان کے تحفظ کا واضح نظام بنایا جاتا جیسا کہ بعض بڑے سانحات کے بعد دیکھا گیا، فوری تحقیقات اور ذمہ داران کی جواب دہی سے متاثرین کو کم از کم یہ احساس ہوتا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہلاکتوں اور لوٹے گئے اموال کے لیے جامع معاوضاتی منصوبہ بنتا؛ متاثرہ ہر خاندان کے لیے مناسب مالی امداد، جائیداد کی بحالی یا متبادل فراہم کیے جاتے۔یتیم بچوں کے لیے تعلیمی وظائف، بیواؤں کے لیے باعزت روزگار کی تربیت اور نانِ شبینہ کے مستحکم انتظامات کیے جاتے۔چھوٹے کاروبار اور کھیتی باڑی کی بحالی کے لیے نرم شرائط پر قرض، سبسیڈی اور ٹیکس میں ریلیف جیسے اقدامات کیے جاتے تاکہ متاثرہ طبقہ دوبارہ معاشی طور پر کھڑا ہو سکے۔مصالحتی فورمز قائم کیے جاتے جہاں متاثرین کی گواہیاں سنی جاتیں، ریاست ان کے زخموں کو تسلیم کرتی اور اجتماعی اعترافِ حقیقت کے ذریعے اعتماد بحال کیا جاتا۔ ذہنی صحت کی خدمات،مشاورتی مراکز، ٹراما کیئر اور کمیونٹی سپورٹ کو مربوط کیا جاتا تاکہ نفسیاتی اثرات کم ہوں اور سماجی ہم آہنگی بڑھے۔اجتماعی یادداشت کی حفاظت کے لیے آرکائیوز تک رسائی، دستاویزات کی تدریجی اشاعت اور یادگاری اقدامات کیے جاتے تاکہ تاریخ چھپائی جانے کے بجائے سیکھنے کا ذریعہ بنے۔رپورٹ کو مناسب ادارتی احتیاط کے ساتھ شائع کر کے ایک وائٹ پیپر اور عملدرآمدی روڈمیپ جاری کیا جاتا۔پیش رفت کی نگرانی کے لیے آزاد مانیٹرنگ میکانزم بنتا اور متاثرین کے لیے شکایتی ازالہ کی بااختیار باڈی قائم کی جاتی۔نتیجتاً، سندر لال کمیٹی کی رپورٹ کو دبائے رکھنا ایک بڑا موقع گنوا دینا تھا۔ایسا موقع جس سے انصاف کے عمل کو تقویت مل سکتی تھی، ریاست کا اخلاقی وقار بڑھ سکتا تھا اور متاثرین کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہو سکتا تھا کہ ان کی تکلیف دیکھی اور سنی جا رہی ہے۔ اگر وہ متبادل اقدامات بروقت اختیار کیے جاتے تو شاید زخم اتنے گہرے نہ رہتے اور تاریخ کی گواہی زیادہ نازک مگر زیادہ سچی محسوس ہوتی۔ انضمامِ حیدرآباد اور 1984 کے سکھ مخالف فسادات: انصاف کے عدم توازن کا جامع تجزیہ ہندوستان کی آزادی (1947) کے فوراً بعد دکن کی سب سے بڑی مسلم ریاست، حیدرآباد نے بھارتی وفاق میں الحاق میں تاخیر کی۔ اس کے جواب میں ستمبر 1948 میں آپریشن پولو یا سرکاری اصطلاح میں “پولیس ایکشن” کیا گیا۔ یہ کارروائی محض چند دنوں (13 تا 17 ستمبر) میں ختم ہوئی مگر اس کے بعد ایک طویل عرصے تک کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری، لوٹ مار اور زیادتیوں کا سلسلہ شروع ہوا جس نے ہزاروں مسلمانوں کی جانیں لے لیں۔ اس کے برعکس 1984 کے سکھ مخالف فسادات نے بھی ہندوستان کو لرزا دیا، جب دلی اور دیگر شہروں میں ہزاروں سکھوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دونوں واقعات تاریخ کے تاریک ابواب ہیں، مگر انصاف کے حصول میں ایک واضح عدم توازن دکھائی دیتا ہے۔جہاں 1984 کے معاملے میں سرکاری اعترافات اور تلافی کے اقدامات نمایاں ہیں جبکہ 1948 کے سانحے پر طویل خاموشی رہی ۔ انضمامِ حیدرآباد ایک فراموش شدہ المیہ آپریشن پولو کے نتیجے میں حیدرآباد بھارتی یونین میں ضم ہوا لیکن کارروائی کے خاتمے کے بعد بھی تشدد جاری رہا۔ پنڈت سندر لال کی رپورٹ کے مطابق ستائیس تا چالیس ہزار ہلاکتوں کا اندازہ کیا گیا، جبکہ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق یہ تعداد دو سے ڈھائی لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں قتل و غارت کے ساتھ لوٹ مار اور اجتماعی زیادتیوں کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن اس کے منظرِ عام پر آنے میں دہائیاں لگنے کے باعث متاثرین کے لیے انصاف کا راستہ مسدود رہا۔ یہ خاموشی اجتماعی یادداشت پر بھی اثر انداز ہوئی، متاثرہ خاندانوں کی آواز دب گئی اور نہ بڑے پیمانے پر معاوضہ ملا، نہ خاطر خواہ قانونی کارروائیاں ہوئیں۔ وہیں دوسری طرف 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں جرائم کا اعتراف اور تلافی کی طرف پیش رفت ہوئی۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دلی اور دیگر شہروں میں پھوٹنے والے فسادات نے ہزاروں سکھوں کی جان لی۔ اس سانحے کے بعد حکومت نے فوری طور پر متعدد تفتیشی کمیشن قائم کیے جن میں جسٹس مشرا کمیشن اور جسٹس ناناوتی کمیشن شامل ہیں جنہوں نے حقائق سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2005 میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پارلیمنٹ میں باضابطہ معافی مانگی اور متاثرین کے لیے معاوضاتی اسکیمیں شروع ہوئیں 2014 تک ہر مقتول کے ورثا کو پانچ لاکھ روپے تک امداد دی گئی۔ قانونی سطح پر بھی پیش رفت جاری رہی مثلاً سجن کمار کو 2018 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی اور متعدد مقدمات تاحال زیرِ سماعت ہیں۔اس سلسلے میں میڈیا کی توجہ شہری حقوق گروہوں کی سرگرمی اور وکلا کے نیٹ ورکس نے انصاف کے عمل کو تقویت دی۔ عدم توازن کے اسباب: دونوں واقعات کو ساتھ رکھ کر دیکھیں تو واضح فرق سامنے آتا ہے: 1984 کے سانحے میں ریاستی و سماجی سطح پر اعتراف، تحقیق اور تلافی کے اقدامات ریکارڈ پر آئے جبکہ 1948 کے معاملے میں سندر لال رپورٹ کی غیر منشوریت نے سانحے کو ’فراموش شدہ باب‘ بنا دیا، جہاں نہ خاطر خواہ فوجداری کارروائیاں ہوئیں اور نہ وسیع معاوضاتی اسکیمیں بن سکیں۔ اس تفاوت کے کئی اسباب ہیں۔1984 میں میڈیا، انسانی حقوق تنظیموں اور شہری گروہوں کی فعال موجودگی نے عوامی دباؤ پیدا کیا جس سے حکومت کو قدم اٹھانے پڑے۔ 1948 میں بنیادی مصادر تک محدود رسائی اور سرکاری بیانیے کی بالادستی کے باعث بحث کمزور رہی۔ 1984 کے مقدمات میں دہائیوں بعد بھی عدالتی پیش رفت ممکن ہوئی جب کہ 1948 کے متاثرین کے لیے ایسی ’پالیسی ونڈو‘ کبھی پوری طرح نہیں کھلی۔ نتیجہ اور رہنمائی سے یہ تجزیہ سامنے آتا ہے کہ انصاف کا عمل کبھی یکساں نہیں ہوتا۔اس کی سمت اور رفتار سیاسی، سماجی اور قانونی عوامل سے متعین ہوتی ہے۔ 1984 کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ سرکاری اعتراف اور تلافی متاثرین کو ریلیف دیتے ہیں جبکہ 1948 میں ان کی کمی نے دیر پا نقصان پہنچایا۔ اگر حقیقی انصاف مطلوب ہے تو ضروری ہے کہ تاریخی زخموں کو تسلیم کیا جائے، تحقیقاتی رپورٹیں شائع کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے شفاف معاوضہ و بحالی کے پروگرام وضع کیے جائیں۔ آج بھی ہندوستان کو ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو ماضی کی تاریکیوں کو کم کریں اور مستقبل کی یکجہتی کو یقینی بنائیں تاکہ ہمارا سماج تقسیم کے بجائے انصاف اور مفاہمت کی طرف بڑھ سکے۔ انضمامِ حیدرآباد: لبریشن ڈے کی جیت یا ایک فراموش شدہ المیہ؟ پولیس ایکشن یعنی 17؍ ستمبر کا دن مراٹھواڑہ میں ’مکتی سنگرام دن‘ اور تلنگانہ میں ’لبریشن ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اکثریتی بیانیے میں یہ نظامی حکم رانی سے نجات اور آزادی کی علامت ہے مگر متعدد مسلمانوں کے لیے یہ بڑے پیمانے پر قتلِ عام، لوٹ مار اور ناانصافیوں کی کریہہ یاد ہے۔ سندر لال کمیٹی کی شہادتیں بتاتی ہیں کہ الحاق کے فوراً بعد ہزاروں مسلمان نشانہ بنے۔ یوں یہ تاریخ “متضاد یادداشت” بن گئی اکثریت کے لیے فتح کی علامت، اقلیت کے لیے جبر کی داستان۔ اسی تضاد سے مسلمانوں پر یہ دباؤ بھی پڑتا ہے کہ وہ جشن میں شریک ہو کر حب الوطنی ثابت کریں، جبکہ ان کے اپنے زخم نظر انداز ہو جائیں۔اصل سوال یہ ہے کہ اس یاد کو یک رُخی جشن کے بجائے جامع اور منصفانہ سمجھ کے ساتھ کیسے یاد رکھا جائے؟ حب الوطنی کے مفہوم کو صرف نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے آئین کی پاسداری، شہری ذمہ داری اور تعمیرِ وطن کے عملی کردار سے جوڑنا ہوگا۔ تقریبات میں صرف جشن نہیں بلکہ متاثرین کے دکھ اور نا انصافیوں کا ذکر بھی شامل کیا جائے، ایک متوازن یادداشت تشکیل دی جائے اور متعلقہ دستاویزات اور کمیٹی رپورٹس تک رسائی اور نصاب میں متوازن تاریخی تناظر شامل کیا جائے۔متاثرہ خاندانوں کے لیے اسکالرشپس، یادگاری مراکز، نفسیاتی معاونت، ہنر مندی و روزگار کی اسکیموں میں ترجیح دی جائے۔مقامی مصالحتی فورمز اور بین المذاہب/بین الجماعتی مکالمے کے ذریعے اعتماد کی بحالی ہو ۔ نتیجہ یہ کہ سقوطِ حیدرآباد کو نہ صرف فتح کے طور پر یاد کیا جائے اور نہ ہی صرف المیہ سمجھ کر ترک کر دیا جائے بلکہ اسے ایک ایسی مشترکہ یاد میں ڈھالا جائے جو انصاف، اعترافِ حقیقت اور سماجی مفاہمت کی راہ ہموار کرے۔ یہی راستہ قومی یکجہتی کو مضبوط اور ہر طبقے کی شمولیت کو یقینی بنا سکتا ہے۔ بی جے پی کا ’خفیہ ایجنڈا‘ انضمامِ حیدرآباد کی تقریبات اور مسلم مخالف بیانیہ 17 ستمبر 1948 کے آپریشن پولو کو بی جے پی نے 2014 کے بعد ’حیدرآباد لبریشن ڈے/مکتی سنگرام‘ کے طور پر سرکاری سطح پر نمایاں کیا۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام تاریخ کو سیاسی ہتھیار بنانے اور مسلمانوں کے خلاف منفی تاثر گہرا کرنے کی حکمتِ عملی ہے۔ پارٹی بیانیے میں سردار پٹیل کا کردار ابھارا جاتا ہے اور رضاکار فورس کو یک رخی انداز میں ’مسلمان گروہ‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ اس جدوجہد میں عوامی، سوشلسٹ اور کمیونسٹ تحریکوں کا حصہ اکثر نظر انداز ہوتا ہے۔یہ تعبیر ’نظامی جبر سے آزادی‘ کو مذہبی تقسیم کی کہانی میں ڈھال دیتی ہے جس سے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر مجرم ٹھیرانے کا تاثر بنتا ہے اور جنوبی ہند میں سیاسی مفادات کو تقویت ملتی ہے۔اس کے برعکس تلنگانہ حکومت نے ’نیشنل انٹیگریشن ڈے‘ کے طور پر ایک متوازن بیانیہ اختیار کیا ہے، جس کا مقصد تقسیم کے بجائے اتحاد اور ہم آہنگی کو نمایاں کرنا ہے۔ماہرین کے مطابق تاریخ کی یک طرفہ پیشکش سماجی پولرائزیشن، نفرت انگیزی اور اقلیتوں کے حاشیہ برداری کو بڑھاتی ہے۔سیاسی فائدے کے لیے تاریخ کی مذہبی تعبیر سے گریز کیا جائے۔حب الوطنی کو آئینی اصولوں، شہری ذمہ داری اور عملی خدمتِ عامہ سے جوڑا جائے۔نتیجہ سقوطِ حیدرآباد کو سیاسی پولرائزیشن کے آلے کے بجائے ایک جامع اور انصاف پر مبنی یاد کے طور پر زندہ کرنا ہی سماجی یکجہتی اور جمہوری اقدار کے لیے موزوں راستہ ہے۔

 

***

 

ہفت روزہ دعوت - شمارہ 14 اگست تا 20 اگست 2025