نئی دہلی ،05 ستمبر :۔ اتر پردیش کے بریلی میں گزشتہ روز 27 اگست کو تبدیلی مذہب کے ایک بڑے ریکیٹ کا انکشاف کا دعویٰ کرتے ہوئے پولیس نے سات مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔ میڈیا میں کئی دنوں تک اس سلسلے میں خبریں چھائی رہیں اور نئے نئے انکشافات کا دعویٰ کیا جاتا رہا ۔اب اس معاملے میں نیا موڑ آ گیا ہے ۔بریلی پولیس افسران پر متاثرین کے اہل خانہ نے الزا م عائد کیا ہے کہ  ان سات مسلم نوجوانوں کو  غیر قانونی حراست میں رکھا گیا  اور ان پر تشدد اور جبری تبدیلی مذہب  کے جر م کا اعتراف کرایا گیا ہے ۔اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے  ۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے بریلی پولیس کے اے ڈی جی، آئی جی اور ایس ایس پی کو 8 ستمبر کو ذاتی طور پر حاضر ہو کر جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثنا اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے میں اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کے سپاہی سادہ کپڑوں میں آئے اور نوجوانوں کو مختلف مقامات سے اٹھا کر لے گئے۔متاثرہ ملزم عبداللہ کی اہلیہ تبسم نے کہا کہ \"کئی دنوں سے مجھے اپنے شوہر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ جب میں تھانے گئی تو گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں  کی گئی، بلکہ پولیس نے مجھ سے جھوٹے کاغذ پر دستخط کرائے کہ میرا شوہر گھر واپس آگیا ہے۔ جب میں عدالت میں اس سے ملی تو اس نے کہا کہ اسے حراست میں بری طرح مارا جا رہا ہے اور کاغذات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ وہیں دوسرے متاثر سلمان کے بھائی اطہر کا الزام ہےکہ\"کچھ لوگ رات کو گھر آئے اور سلمان کو بتائے بغیر لے گئے۔ گھر والوں نے پوچھا تو کہنے لگے - 'تم بھی ہندو سے مسلمان ہو گئے ہو۔' اب یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے عبداللہ کو مسلمان کیا، جب کہ دونوں کئی دہائیوں سے ملے بھی نہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں متاثرین کا مقدمہ لڑنے والے ایڈوکیٹ محمد حمیر خان نے کہا - گرفتاری میمو، ایف آئی آر یا وارنٹ کے بغیر لوگوں کو اٹھانا آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے۔ نوجوانوں کو پولیس حراست میں اقرار نامہ لکھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر قانونی حراست اور تشدد کا سیدھا معاملہ ہے۔ اس پورے معاملے پر ایس پی بریلی انشیکا ورما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، \"تبدیلی مذہب  کے ریکٹ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس سلسلے میں کارروائی کی گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے عبداللہ اور دوسروں کو اسلام قبول کرانے کا کام کیا۔یہ کیس اتر پردیش پرہیبیشن آف ایلیگل کنورژن ایکٹ 2021 اور دیگر سیکشنز کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ ہائی کورٹ بنچ نے کہا کہ اگر غیر قانونی حراست اور حراست میں تشدد کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوگی اور احتساب کو فوری طور پر طے کرنا ہوگا۔آئندہ سماعت 8 ستمبر کو ہوگی جہاں تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔