نئی دہلی ،31 اگست :۔
کوچی کی خصوصی این آئی اے عدالت نے چھ جائیدادوں اور ایک بینک اکاؤنٹ کی ضبطی کو رد کر دی ہے جن کے ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آٗی سے مبینہ طور پر تعلق ہونے کا الزام تھا۔ یہ کارروائی عدالت کے ذریعہ دس دیگر جائیدادوں کی ریلیز کرنے کے حکم کے دو ماہ بعد کی گئی ہے۔
یہ جائیدادیں ترویندرم ایجو کیشن ٹرسٹ،پونچیرا واقع ہریتھم فاؤنڈیشن،الوا واقع پیریار ویلی چیریٹیبل ٹرسٹ،پلکڑ واقع ولووناڈ ٹرسٹ ،کاسر گوڈ واقع چندر گیری چیریٹیبل ٹرسٹ اور نئی دہلی واقع سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعہ مبینہ طور پر ملک مخالف سر گرمیوں اور 2022 میں پلکڑ میں آر ایس ایس رہنما سرینیواسن کے قتل کے معاملے میں پی ایف آئی کے خلاف معاملہ درج کرنے کے بعد یہ جائیدادیں اور کھاتے ضبط کئے گئے تھے۔ این این آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ایف آئی نے پیریار گھاٹی کیمپس اور ولو وناڈ ہاؤس سمیت ان میں سے کچھ جائیدادوں کا ستعمال ہتھیاروں کی ٹرینی دینے اور اپنے کارکنان کو پناہ دینے کیلئے کیا تھا۔ حالانکہ عدالت نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ٹرسٹی ایسی کسی سر گرمیوں میں براہ راست شامل تھے اور اس نے ضبطی کو رد کرنے کا فیصلہ کیا۔
وکیل پی سی درخواست دہندوں کی نمائندگی کرنے والے نوشاد نے کہا کہ اب تک عدالت نے پی ایف آئی معاملے میں کی گئی 17 ضبطی کی کارروائی کو رد کر دی ہے۔ایس ڈی پی آئی کا بینک کھاتہ تب سیز کیا گیا جب این آئی اے نے کہا کہ ایک ملزم کو پیسے ٹرانسفر کئے گئے تھے ۔ لیکن ہم نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈرائیور کا کام کرتا تھا اور وہ پیسہ اس کی تنخواہ تھی۔ عدالت نے ہماری دلیل کو تسلیم کیا۔
جن ٹرسٹیوں اور افراد کی جائیدادیں ضبط کی گئی تھیں انہوں نے اب انہیں واپس لینے کی کارروائی مکمل کرنے کیلئے افسران سے رابطہ کیا ہے ۔دریں اثنا این آئی اے نے پی ایف آئی معاملے میں 63 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے ۔
تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔