نئی دہلی ،17 اگست :۔
اترا کھنڈ کی دھامی حکومت پچھلے کئی برسوں سے مدارس اور اردو کے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی ہے ۔ اس سلسلے میں اتر پردیش کی یوگی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے متعدد علاقوں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے کے علاوہ مدارس کو بند کرنے کی بھی کارروائی کی جا رہی ہے ۔حالیہ دنوں میں دھامی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے سلسلے میں ایک نیا قانون بنانے جا رہی ہے ۔ دریں اثنا ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت نے اتوار کو ریاست کی موجودہ حکومت کو سوچ بدلنے کی نصیحت دیتے ہوئے بی جے پی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے نہیں معلوم کہ بی جے پی کب تک نام بدل کر اپنی حکومت چلائے گی، انہیں اپنی سوچ بدلنی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’مدرسہ‘ اردو کا لفظ ہے، اردو گنگا-جمنی تہذیب کی پیدائش ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہریش روات نے کہا کہ ’’مدارس کی اپنی تاریخ ہے، جو ملک کی آزادی کی جد و جہد سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک طبقہ ریاستی قانون کے تحت اپنی تعلیم کو آگے بڑھانے میں تعاون دینا چاہ رہا ہے تو آپ اس سے پرہیز کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت کا ارادہ مدرسوں کو ختم کرنے کا ہے، لیکن وہ کر نہیں پائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ حکومت اقلیتی اداروں کے حوالے سے ایک نیا قانون لانے والی ہے۔ پشکر سنگھ دھامی کابینہ نے فیصلہ لیا ہے کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں ’اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ادارے ایکٹ 2025‘ لایا جائے گا۔ اب تک اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ صرف مسلم طبقہ کو ہی ملتا تھا۔ مجوزہ بل کے تحت اب دیگر اقلیتی طبقوں جیسے سکھ، جین، عیسائی، بودھ اور پارسی کو بھی یہ سہولت ملے گی۔
اترا کھنڈ : بی جے پی حکومت کی مدرسہ اور اردو مخالف مہم کی سخت تنقید





تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔