لوک سبھا نے طویل بحث کے بعد کل رات شہریت ترمیمی بل 2019 کومنظوری دے دی ہے۔ اس بل کے حق میں 311 ارکان نے ووٹ دیپ جبکہ 80 ارکان نے اس کی مخالفت میں ووٹنگ کی۔
اس بل میں دیگر ضابطوں کے علاوہ 2014کے آخرتک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ملکوں سے ظلم واستبداد کی وجہ سے آنے والے ہندو، جین، پارسی، بودھ اور عیسائی مہاجرین کو شہریت دینے کی گنجائش ہے۔ البتہ اس بل میں چھٹے شیڈول میں شامل کچھ قبائلی علاقوں اور شمال مشرقی ریاستوں کے اندرونی لائن کے پرمٹ نظام کے تحت آنے والے علاقوں کو مستثنیٰ رکھاگیاہے۔ اس بل سے شہریت قانون 1955، پاسپورٹ قانون 1920 اور غیرملکیوں کے متعلق قانون 1946 کے ضابطوں میں ترمیم ہوگی۔
اس دوران حزب اختلاف اور شمال مشرق کی متعدد سیاسی اور سماجی تنظیموں اور ملک کی متعدد معروف ہستیوں نے اس پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ اور اسے ہندوستان کی دوسری تقسیم کے مترادف قرار دیا ہے۔





تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔