عرفان وحید

ہندو سماج پارٹی کے صدر کملیش تیواری کے قتل معاملے پر روز بروز نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ کملیش تیواری نے پیغمبر اسلامؐ کی شان میں 2015 میں نازیبا کلمات کہے تھے۔ اس کے رد عمل میں کچھ نادان مسلم نوجوانوں نے اس کو جان سے ماردینے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ کملیش کو اپنی اس دریدہ دہنی کی پاداش میں کچھ مہینے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔ پولیس کا کہنا یہ ہے کہ جن ملزمین کو اس کیس میں ماخوذ کیا گیا ہے وہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اسے دھمکی دی تھی۔ تاہم معاملہ گہری سیاسی سازش کا لگتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کملیش کی ایک ویڈیو پر یقین کریں تو قتل سے چند دن پہلے اس نے اپنی جان کو درپیش خطرے کا ذکر کیا تھا۔ ملحوظ رہے کہ یوپی حکومت نے اس کو فراہم کردہ سیکیورٹی ہٹالی تھی جس پر اس نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اپنی سیکیورٹی ہٹائے جانے کی وجہ پوچھی تھی۔ اس کے الفاظ ہیں کہ ’کیا یوگی سرکار چاہتی ہے کہ میرا قتل ہوجائے؟‘ یہ ویڈیو اپنے آپ میں اس کیس کے سیاسی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اس قتل میں جہاں ایک جانب تین مسلم نوجوانوں کو ماخوذ کیا گیا ہے وہیں اس کی ماں نے اپنے بیٹے کے قتل کے لیے خود بی جے پی کے لیڈروں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

ادھر کملیش قتل کے بعد سوشل میڈیا پر ہندتوا برگیڈ کو مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا ایک موقع ہاتھ آگیا۔ گذشتہ کچھ دنوں سے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کا بہشکار (سماجی مقاطعہ)، #MuslimBan اور #BoycottAllah، جیسے اشتعال انگیز ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں، وہیں کملیش کے قتل کے بعد پیغمبر اسلامؐ کی ذاتِ مبارکہ پر بھی ہندتوا برگیڈ کی جناب سے توہین آمیز ٹویٹر ٹرینڈ چلائے گئے۔ یہ ہیش ٹیگ جس مخصوص موقعے پر ٹرینڈ کرائے جارہے ہیں وہ بھی قابل غور ہے۔ مبصر ین کے بقول عین انتخاب کے موقعوں پر ہندتو برگیڈ ایک مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے ملک میں مذہبی منافرت اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاتا ہے۔ یہ ہش ٹیگ بھی ہریانہ اور مہاراشٹر جیسی اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے عین پہلے چلائے گئے۔ تاہم خوشی اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پر مسلم نوجوانوں اور دانش وروں نے بڑے تحمل اور بردباری کا ثبوت پیش کیا اور اس مذموم مہم کا مقابلہ جوابی ہیش ٹیگ #ProphetofCompassion اور #MuhammadforAll چلاکر کیا۔

یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ یہ ہیش ٹیگ اشتعال انگیز ہونے کے باوجود ایک شان دار دعوتی موقع ثابت ہوا۔ سوشل میڈیا پر برادران وطن کی اکثریت نے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا اور ان میں سے بہت سے سرکردہ و سرگرم افراد نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے تعلق سے بڑی حوصلہ افزا باتیں بھی کہیں۔ گویا ؏ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔

آرین سری واستو نے ٹویٹر پر لکھا: شکریہ بی جے پی آئی ٹی سیل، اگر تم لوگ مجھے نہ اکساتے تو ایک غیر مسلم ہونے کی وجہ سے شاید میں پیغمبر محمدؐ کے اتنے سارے عظیم پیغامات کبھی نہ جان پاتا۔ اس میں تم لوگوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ \"خدا انھیں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔\"

پربھا نے ٹویٹ کیا: بحیثیت ہندو میں ایک تماشائی کی طرح #ProphetofCompassion کو ٹرینڈ ہوتے دیکھتی رہی۔ ہرچند کہ مجھے یہ موقع حاصل ہے کہ میں کسی بھی مسلم دوست سے براہ راست رابطہ کرکے اسلام کے بارے میں پوچھ سکتی ہوں، البتہ اس ٹرینڈ نے واقعتاً ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کی تعلیمات جاننے میں مدد کی ہے۔

عمر خالد نے لکھا: ہندتوا برگیڈ لوگوں میں پھوٹ ڈالنے کے درپے ہے۔ مسلمانوں اور اسلام کی نفرت میں اب وہ کھلے طور پر پیغمبراسلامؐ کی توہین کرنے پر اتر آیا۔ ہم اس کا جواب کیسے دیں گے؟ سیرت نبویﷺ سے ہمیں درس ملتا ہے کہ نفرت پر مبنی رویے کا بہترین جواب محبت اور رحم دلی ہے۔

جیوتی یادو نے ٹویٹ کیا: پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں خراب باتیں ٹرینڈ کرانے کے باوجود مسلمانوں کی جانب سے ہندو دیوی دیوتاؤں کے بارے میں کوئی بھی خراب بات ٹرینڈ نہیں کرائی گئی۔ اس کے جواب میں مسلم سماج پیغمبرؐ کی تعلیمات کو ہی ٹویٹ کرتا رہا۔ اشتعال دلانے کے باوجود ان کی یہ بردباری و تحمل قابل تعریف ہے۔

جیوتی صاحبہ، اسلام ہمیں دوسروں کے معبودوں کو گالی دینے اور برا بھلا کہنے سے روکتا ہے۔ اسلام انسانوں کو تمام انسانوں اور خداؤں کی غلامی سے آزاد کرکے ایک معبود کی بندگی کی طرف بلاتا ہے، لیکن وہ رواداری اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا احترام بھی سکھاتا ہے۔ یہی تو اسلام کا حسن ہے۔