محمد کلیم محی الدین
ہمارے ملک میں ہر سال بارش مقررہ مہینوں میں ہوتی ہے۔بارش کا انتظار سب ہی کرتے ہیں لیکن ماحولیاتی عدم توازن کی وجہ سے اب یہ بارش سیلاب کی شکل اختیار کررہی ہے۔ سالانہ بارش کو سمونے کے لیے ہمارے شہر تہی دامن ثابت ہورہے ہیں ۔ ہندوستان کے بڑے شہروں میں پانی کی نکاسی کا انتظام ناقص ہے۔ جس کی ہمیں آئے دن مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بہار کے نائب وزیراعلیٰ سشیل کمارمودی کو پٹنہ میں سیلاب زدہ علاقے سے کشتی کے ذریعہ30 ستمبرکومحفوظ مقام پرمنتقلی کی تصاویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئیں۔ موسم کی جانکاری ہمیں پہلے ہی مل جاتی ہے اور میونسپل عملے کو تیار کرنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں اس کے باوجود سڑکیں کیوں جھیل میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور کیوں کسی اعلیٰ عہدیدار کی سڑک اور اس کا گھر بھی سیلاب کی لپیٹ میں آجاتا ہے؟ یہ بات قابل غور ہے۔
بارش اگر تھوڑی سے کچھ زیادہ ہوجائے تو ہمارے شہر کے نالے ابلنے لگتے ہیں لیکن اگرریکارڈ بارش ہوجائے تو کیا ہوگا۔ ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال ستمبر کے مہینے میں جو بارش ہوئی ہے وہ پہلے102 سالوں کی اعظم ترین بارش ہے۔1901 کے ستمبر کے مہینے میں 247.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جو اس مرتبہ ملک میں ستمبر کے پہلے 29 دنوں کے اندر ریکارڈ کی گئی ہے۔
بارش کی وجہ سے مختلف شہروں کے ہائی ویز بھی متاثرہورہے ہیں جو کہ ریاستوں کو ایک دوسرے سےجوڑنے کے لئے شہ رگ کا کام کرتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ پنچ گنگا ندی پر پیش آیا جہاں 4 اگست کی شام پونے۔بنگلور قومی شاہراہ پر سیلاب کا پانی پہنچا۔ اس کے دوسرے دن سے 13 اگست تک مسلسل8 دن تک ہائی وے بند رہی۔ یہ ملک کی چوتھے نمبر کی مصروف شاہراہ ہے۔ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی سخت ضرورت ہے۔
سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی آتی ہے۔ حمل ونقل کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ لوگ بیمارہوجاتے ہیں۔ یہ سب انسانوں کے ہاتھوں لائی ہوئی آفت کے سبب ہوتا ہے۔ انسان اگرچہ اسے آفات سماوی کہتا ہے لیکن بارش اوسط ہو پھر بھی لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔ شہروں میں دوگھنٹوں کی بارش سے پانی گھروں میں گھس جاتا ہے۔ سڑکیں جام ہوجاتی ہیں۔ راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔ یہ سب کیوں ہوتا ہے- اس کے مختلف اسباب ہیں۔ ایک اہم سبب غیرمجاز تعمیرات ہیں۔چھوٹے بڑے نالوں پر مکانات تعمیر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے پانی کابہائو متاثر ہو رہا ہے۔ غیرمجازتعمیرات کو روکناچاہئے۔غیرمجاز قبضے بارش کی تباہ کاریوں کا اہم سبب ہیں۔
نیشنل بلک ہینڈلنگ کارپوریشن (این بی ایچ سی) نے سال 2018-19کے لیے ربی کی فصل کا ایک تخمینہ جاری کیا تھا جس کے بموجب ناکافی بارش سے فصلوں کو نقصان ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گجرات، مہاراشٹرا، مغربی بنگال، راجستھان، کرناٹک، آندھراپردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو میں معمول سے کم بارش درج ہوئی ۔ رواں سال اپریل میں جاری اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ توقع کی جارہی تھی کہ 0.64فیصد پیداوار میں اضافہ ہوگا لیکن اندازہ سے کم یعنی 4.39 فیصد ہی اضافہ ہوسکا۔
بارش کی وجہ سے ملک بھر میں صرف جولائی تاستمبر2019 تک تقریباً 200 افراد کی اموات کی اطلاع ہے۔ ملک کے مختلف مقامات پر حالات نہایت خراب ہیں۔ بارش کی وجہ سے صرف پوناشہر میں گذشتہ ماہ574 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔ اس کے علاوہ تقریباً3000افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر رشتے داروں کے پاس سہارا لینے پر مجبور ہوگئے۔ تمام مہاراشٹرا کی اگر بات کی جائے تو یہاں پر4 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ کیرالا میں 101 افراد کے فوت ہونے کی خبر ہے جب کہ7 دیگر غائب بتائے جاتے ہیں۔ ممبئی اور پونے جیسے شہروں میں 28 جون اور 03 جولائی کے درمیان بارش کی تباہ کاریوں کی وجہ سے 51 افراد کی موت واقع ہوئی۔ کیرالا میں ہی تقریباً1111 کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں سیلاب سے متاثرین کی مدد کی جارہی ہے۔ کرناٹک میں بھی بارش اپنا اثر دکھارہی ہے۔ کرناٹک میں تقریباً 2 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیاہے۔ تقریباً 2200 بچائو اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
وزارت امکنہ و شہری امور اورریاستی میونسپل کارپوریشنس کو ایسی تیاری کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہم ہر سال ہونے والے سیلاب سے نمٹنے تیار رہیں۔ ممبئی جیسے شہروں میں بارش کے پانی کو پمپنگ کے ذریعے سمندر میں چھوڑنے کے انتظامات کرناچاہئے۔
شدید بارش کے باوجود پانی کی قلت کا مسئلہ حل نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ زیرزمین پانی کی قلت ہے۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیےبارش کے پانی کی حفاظت کے نظام (Rain Harvesting )کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ شہروں میں عام طور پر بارش کا سارا پانی سڑکوں اور آر سی سی کے چھتوں سے بہتا ہوا نالوں میں چلاجاتا ہےجس کی وجہ سے اسے زمین میں جذب ہونے کاموقع نہیں ملتا۔ زیر زمین پانی اب شہروں میں بہت نیچے چلاجارہا ہے۔ جس کی وجہ سے گرما میں پانی کی قلت اور بارش میں سیلاب کی صورت، اب تقریباً تمام بڑے شہر میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہر گھر اور کالونی میں پانی کو جذب کرنے کے لئے ہارویسٹنگ سسٹم تیار کرنا ہوگا۔
مہاراشٹرا میں سیلاب کا ایک سبب مغربی گھاٹ کو سمجھا جارہا ہے۔ مغربی گھاٹ جو گجرات سے کرناٹک تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں گذشتہ 100تا 150 سال سے لوگ آباد ہیں۔ لاکھوں ایکر جنگل کو صاف کرکے یہاں کافی اور ربر کی کاشت کی گئی۔ ندیوں کو روک کراس پر باندھ تعمیرکیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کا ماحول متاثر ہوا۔ مغربی گھاٹ کو متاثر کرنے والے عوامل کے تعلق سے ماحولیاتی تحقیق کار مسٹرفاروق نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اس سال آئے سیلاب کے سبب شہروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن کیا اس کے لیے الماٹی ڈیم ذمہ دار ہے۔ الماٹی کی اونچائی سطح سمندر سے 519.60 میٹر بلند ہے۔ سڑکوں کی اونچائی میں اضافہ کی باتیں کی جارہی ہیں اور سرکاری سطح پر بھی ایسی اطلاعات گشت کررہی ہیں۔ درختوں کی کٹائی اور غیرمجازتعمیرات کو روکنا ضروری ہے۔ تب ہی اس طرح کی آفات سے بچاجاسکتا ہے۔
21 ویں صدی کے اس ترقی یافتہ دورمیں بارش کی وجہ سے اموات شرمناک ہیں۔ سارا الزام ماحولیات پر رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ درختوں کی کٹائی بھی سیلاب کے اہم اسباب میں سےہیں۔ بارش کے پانی کو درخت روکتے ہیں۔ درختوں کی وجہ سے بارش تناسب سے ہوتی ہے۔ زمین کھسکنے کے واقعات کو درختوں کی وجہ سے روکا جاسکتا ہے۔ ماحولیاتی عدم توازن کی ایک وجہ درختوں کی کٹائی بھی ہے۔ مختلف بہانوں کے ذریعہ درختوں کی کٹائی عمل میں آرہی ہے۔ گذشتہ دنوں ممبئی کے ہرےبھرے علاقے آرے کالونی میں سینکڑوں درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کئے گئے جس کے بعد وہاں پر میٹرو کا پارکنگ شیڈ تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا۔ اگر وقت رہتے ماحول دوست افراد آواز نہ اٹھاتے تو یہ منصوبہ روبہ عمل آجاتا۔ ہائی کورٹ سے یہ معاملہ رجوع کیا گیا۔ شہروں کو اس تعلق سے مستعد ہونا ہوگا تاکہ کوئی بھی شخص ماحول کو بگاڑ نہ سکے۔ ماحول کے بنائو کی فکر کرنا چاہئے۔ ایسی بھی خبریں آرہی ہیں کہ درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور تیزی سے اس پر عمل بھی ہورہا ہے۔
بہار میں بارش کی وجہ سے حالات نہایت خراب ہیں۔ ہم اپنے عمل سے ماحولیاتی عدم توازن قائم کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد اسے آفات سماوی کا نام دے دیتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے آفات کو دعوت دینے کا کام انسان ہی کرتا ہے۔ نثاراحمد نے ایک اخبار میں اپنے مضمون میں اس جانب توجہ دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ اس قدرتی آفت کو اپنے اوپر مسلط کرنے میں ہمارا رول بھی کم نہیں ہے، جتنی چھوٹی چھوٹی ندیاں تھیں سب پاٹ دی گئیں،لوگوں نے ان پر قبضہ کر کےکھیتی باڑی شروع کردی، بالو اور ریت مافیاؤں کی غیر قانونی کھدائی سے ندیوں کا وجود سمٹتا چلا گیا، ندیاں کٹتے کٹتے میدان میں تبدیل ہوگئیں، اب پانی کا کوئی رُخ نہیں ہے، دھار جس طرف کی ہوتی ہے بہہ نکلتی ہے اور تباہی مچا دیتی ہے، اب صرف چیل گاڑی اور اُڑن کھٹولے کے آسمانی معائنے سے بات نہیں بننے والی ہے، اس تباہی سے بچنے کے لیے مضبوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے، دنیا نے پہاڑوں کو مسخر کرلیا، ہواؤں پر قابو پا لیا، سمندروں پر قبضہ جما لیا، چاند پر کمندیں ڈال دیں آسمان پر ڈیرہ جما دیا اور ہم ابھی تک نیپال کے بہکے ہوئے پانی سے جوجھ رہے ہیں، مرکزی اور ریاستی حکومت کو اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور مناسب حل تلاش کرنا چاہئے تاکہ آئندہ ان آفات پر قابو پایا جا سکے، اگر کوئی ٹھوس قدم جلد ہی نہیں اٹھایا گیا تو یوں ہی تباہی و بربادی ان علاقوں کا مقدر رہے گی، لوگ چلاتے اور مرتے رہیں گے، سیلاب سے متاثر لوگ اپنی محرومی قسمت کو روتے رہیں گے ، ایسے میں بہار میں بہار کیسے آئے گی ؟؟
بارش کے نقصانات کے لیے ایک الزام محکمہ موسمیات کے سر یہ ڈالتے ہیں کہ وہ صحیح جانکاری نہیں دیتے۔ اگرچہ 1200کروڑ روپے کے تخمینہ سے ماڈل تیار کیا گیاہے۔ رواں سال مون سون کی بارش 25 سال میں اعظم ترین رہی ہے۔ لیکن ہندوستان کا محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) یہ پیش گوئی کرنے میں ناکام رہا کہ اس سال مون سون اتنا مضبوط ہوگا۔ بہار اور کرناٹک کے کچھ حصوں میں اب بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بہار کا آدھا حصہ اب بھی سیلاب کے پانی کی زد میں ہے اور باقی آدھا اس شدید خشک سالی سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔محکمہ موسمیات موسم کی صحیح پیش قیاسی کرنے میں ناکام رہے تب بھی متعلقہ شعبوں کو ہمیشہ طوفانی بارش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے بعد ہی جنگی پیمانے پر تیاری کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
نشیبی علاقوں کی سڑکوں کی اونچائی بڑھاکر اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکتا ہے ساتھ ہی اس بات کی ضرورت ہے کہ پانی کو جمع ہونے نہ دیا جائے اور اس کی نکاسی کا انتظام کیاجائے گا۔ نشیبی علاقوں کی سڑکوں کے بارش کے دنوں میں زیرآب آنے کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔ وہاں ان سڑکوں کی اونچائی بلند کرکے انھیں محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔
آفات سماوی کو ٹالنے کے لئے ماحولیات دوست بننا ازحد ضروری ہے۔ نیز کوشش کرنی ہوگی کہ مخالف ماحول اقدامات سیلاب کا سبب نہ بنیں لیکن اگر قدرتی طورپر سیلاب آہی جائے تو پھر سیلاب سے متاثرین کی مدد کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنے ہم وطنوں کی دل کھول کر مدد کرنا چاہئے۔ یہ انسانیت کا تقاضہ ہے اور اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہم بے سہاروں کی مدد کریں۔ جو لوگ ہماری مدد کے محتاج ہیں ان کی مدد کے لیے ہمیں آگے بڑھنا چاہئے۔ جب ہر کوئی تعمیری سوچ کے ساتھ آگے بڑھے گا تو خود بہ خود تخریبی سوچ ختم ہوگی۔ ملک و قوم کی ترقی بھی اسی سے ممکن ہے۔
ماحولیاتی عدم توازن کے سبب سیلاب آتے ہیں۔ ان کے لیے ذمہ دار چاہے جو بھی ہوں اس کے تدارک کے لئے سب کو آگے آنا چاہئے۔ ہر فرد یہ سوچے کے یہ اس کی ذمہ داری ہے۔ حکومت بھی اپنی ذمہ داری ادا کرے اور ہر شہری اس معاملہ میں اپنی ذمہ داری ادا کرے تو یہ صورت حال بہت حد تک قابو میں آسکتی ہے۔ درختوں کی کٹائی، ناجائز قبضہ جات، تالابوں کی پلاٹنگ، سمندروں میں پانی پہنچانے کے انتظامات کی کمی وغیرہ مسائل تو ہیں لیکن اس سے مقابلہ کرنے کے لیے کوئی دوسرا آنے والا نہیں ہے۔ ہم اپنے بعد آنے والوں کوکیسی دنیا دینا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ ہمی کوکرنا ہوگا۔ تعمیری اورمثبت انداز میں قدم اٹھانا چاہئے جو یقینا ہمیں ایک ماحول دوست انسان بنائے گا جس کی وجہ سے دنیا قدرتی آفات سے بھی محفوظ رہے گی۔


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔