جاوید علی

ملک میں شاید اتنے غدار نہیں ہوں گے جتنے غداری کے مقدمے عام لوگوں پر تھوپے جا رہے ہیں۔ نفرت انگیزی اور اشتعال انگیزی کرنے والے، سماج میں آپسی بھائی چارے کی فضا کو سبوتاژ کرنے والے شاید حکومت کی نگاہ میں غدار نہیں ہیں۔ یہ تشویش خود بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانبدارانہ کارکردگی سے پختہ ہوتی جا رہی ہے۔ مثلاً آج ایسے ہی لوگوں کو ’دیش بھکت‘ کہا جا رہا ہے اور اس کی لَے میں لَے ملا کر ’گودی میڈیا‘ بھی ایسے لوگوں کے خلاف خبریں دکھانے میں صحافتی اصولوں کا مسلسل خون کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں شاہین باغ میں فائرنگ کے واقعات اور فرضی ویڈیو کے ذریعہ شاہین باغ تحریک کو بدنام کرنے کے لیے ساری توانائی صرف کی جا رہی ہے۔ مگر اطمینان بخش بات یہ ہے کہ لگ بھگ 55 دنوں سے وہاں جاری احتجاج کو کمزور اور بدنام کرنے کی کئی سازشیں کامیاب ہونے کے بجائے خود ہی ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ابھی حال کے ایک واقعہ نے تو سبھی کو حیرت زدہ کر دیا جب پی ایم مودی کے ذریعہ ٹویٹر پر فالو کی جانے والی گنجا کپور کی ’سازش‘ کو شاہین باغ کی خواتین نے بے نقاب کر دیا۔ گنجا کپور برقعے کی آڑ میں خواتین کے بیچ چھپ چھپ کر موبائل سے تصویریں لے رہی تھی۔ خدا جانے وہ کیا سازش رچ رہی تھی۔ مبینہ طور پر اس نے وہاں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے تھے۔ ہوسکتا ہے گنجا نہایت خطرناک منصوبے کے ساتھ وہاں آئی ہو اور دہلی انتخابات سے قبل کوئی بہت بڑا ’کھیل‘ کرنا چاہتی ہو، لیکن خدا نے اس کھیل کو ناکام بنا دیا۔ یہاں قابل غور ہے کہ 6 فروری تک کی پی ایم مودی کے ٹویٹر ہینڈل کی تفصیلات کے مطابق مودی صرف 2380 لوگوں کو ہی ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں جبکہ 52.9 ملین لوگ پی ایم کو فالو کرتے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گُنجا کپور کو پی ایم مودی ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’گُنجا کپور‘ کوئی معمولی عورت نہیں ہے۔

بہرحال شاہین باغ میں تقریباً دو ماہ سے جاری مظاہرہ ملک کے لیے اب تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے، ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے لوگوں کو یہاں سے انقلاب کے لیے خوراک مل رہی ہے اور کئی علا قوں کو تو ’شاہین باغ‘ کے نام سے ہی موسوم کیا جانے لگا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے پورا ملک اور عوام تحریک لے رہے ہیں، یہ فطری بات ہے کہ اس تحریک کے زور پکڑنے پر حکومت کی نیند تو اُڑنی ہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی بی جے پی آئی ٹی سیل تو کبھی ’گودی میڈیا‘ اور اب تو کھلے عام ہندتوا وادی طاقتیں شاہین باغ کے پُرامن احتجاج کو نیست و نابود کرنے کے فراق میں لگی ہوئی ہیں۔ کبھی بریانی تو کبھی احتجاج کے لیے پانچ سو روپے بانٹے جانے جیسی خبروں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرواکے یہاں کی احتجاجی خواتین کو بدنام کرنے کی لگا تار کوششیں کی جارہی ہیں۔ 

15 جنوری کو بی جے پی آئی ٹی سیل کے ہیڈ اَمِت مالویہ نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر چند لوگوں کی بات چیت کا ایک ویڈیو شیئر کیا تھا جس میں شاہین باغ کے احتجاج میں شامل خواتین کے تعلق سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پیسے لے کر احتجاج کر رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں ایک شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ان سب کے پیچھے کانگریس پارٹی کا ہاتھ ہے۔ اس جھوٹی اور بے بنیاد ویڈیو کلپ کو کئی ٹی وی چینلوں سمیت ’’آپ انڈیا‘‘ نامی ایک پورٹل نے بھی شیئر کیا اور اس پر ایک تفصیلی رپورٹ بھی شائع کی۔ 

لیکن ’آلٹ نیوز‘ کی تفتیش نے اس ویڈیو کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ آلٹ نیوز اور نیوز لانڈری کی ایک مشترکہ تفتیش میں پانچ سو روپے لے کر احتجاج کرنے والے ویڈیو کو فرضی بتایا گیا ہے۔ ریسرچ میں پایا گیا کہ یہ ویڈیو شاہین باغ کا نہیں ہے بلکہ اسے یہاں سے آٹھ کلو میٹر دور جنوبی دہلی کے پرہلاد پورپُل علاقے میں ’’کُسمی ٹیلی کام‘‘ نامی ایک دکان میں شوٹ کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو کو اس طرح سے شوٹ کیا گیا تھا کہ ناظرین کو ایسا معلوم ہو کہ گویا یہ کوئی ’اسٹنگ آپریشن‘ ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس ویڈیو کو بی جے پی آئی ٹی سیل کے ہیڈ کے ذریعہ سب سے پہلے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، بعد میں کئی ٹی وی چینلوں نے اسے دکھایا اور اس پر پرائم ٹائم ڈبیٹ بھی ہوئے، لیکن اس جعلی ویڈیو کی سچائی کو کسی نے بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کیونکہ اس سے کسی ’خاص‘ طبقے کا نام بدنام ہو رہا تھا۔ آخر وہ ’خاص‘ طبقہ ہی تو شاہین باغ کے احتجاج کی رہنمائی کر رہا ہے۔ لیکن یہاں ایک بات کی وضاحت مزید ضروری معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ کچھ لوگ اسے صرف مسلمانوں کا احتجاج بتانے کی کوشش رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاہین باغ اور اس جیسے سینکڑوں علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد جو سچائی سامنے آتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ شاہین باغ اور اس طرز پر ملک بھر میں چل رہے احتجاج اور مظاہروں میں بڑی تعداد میں غیر مسلم برادران وطن اور بہنیں بھی پیش پیش ہیں، جس سے اس جھوٹ کی پول کھلتی نظر آتی ہے۔ مگر مسلمانوں کا نام لے کر کسی بھی احتجاج کو بدنام کرنا بہت ہی آسان ہے، شاید اسی وجہ سے بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور ’گودی میڈیا‘ کو شاہین باغ مرکز میں نظر آتا ہے۔ 

اس کے برخلاف یہ بات ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ یرقانی حکومت اور پولیس انتظامیہ کے ذریعہ بی جے پی لیڈروں کی اشتعال انگیزی پر کوئی قدغن نہیں لگا ئی جا رہی ہے جس کہ وجہ سے انہیں غیر آئینی اور اشتعال انگیز بیان دینے اور عوام کو ہندو۔مسلم کے نام پر بھڑکانے کا خوب موقع مل رہا ہے۔ دنیا آج کی حکومت کے سیاہ کارناموں کو ضرور یاد رکھے گی کہ ہندستان میں آزادی کے بعد کبھی اتنی فرقہ واریت نہیں پائی گئی جتنی بی جے پی کے دورِ حکومت میں پائی گئی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے نفرت و دشمنی کی ہوا کو اس وقت تک چلایا جائے گا جب تک کہ ملک میں قائم امن و امان و بھائی چارے کی فضا پوری طرح تہ وبالا نہ ہو جائے۔ بی جے پی کے ایک اور لیڈر تیجسوی سوریہ نے جو بنگلورو جنوب سے رکن پارلیمان ہیں یہ کہہ کر ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ ’’اگر اکثریت ’محتاط‘ نہیں رہے گی تو ملک میں ’مغل راج‘ واپس آجائے گا۔ تیجسوی کا یہ بیان ’ہندتوا وادی‘ لیڈروں کے اس ذہن کی عکاسی کرتا ہے جو ملک میں ’ہندوراشٹر‘ اور صرف ہندوؤں کے حقوق کی بات کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی بیان بازیوں سے اگر ملک کی اقلیتوں کو نقصان پہنچے گا تو اکثریت بھی نقصان سے محفوظ نہیں رہے گی۔ راحت اندوری نے کیا خوب کہا ہے کہ

’’لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں 

یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے ،،