دعوت نیوز نیٹ ورک
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قریب دو مہینے سے دہلی کے جامعہ نگر کے شاہین باغ میں چلنے والی تحریک میں کشش کا ایک مرکز یہاں کے بس اسٹینڈ پر موجود لائبریری بھی ہے۔ لوگ دن رات یہاں پڑھتے ہوئے مل جائیں گے۔
17 جنوری کو روہت ویمولا کی چوتھی برسی سے شروع کی جانے والی اس لائبریری کا نام فاطمہ شیخ اور ساوتری پھولے کے نام پر ہے۔ لائبریری کی شروعات کرنے والے نوجوانوں کے مطابق چونکہ شاہین باغ کی اس تحریک کی خاص پہچان یہاں کی عورتیں ہیں،اس لیے ہمیں مناسب محسوس ہوا کہ لائبریری کا نام بھی کسی خاتون کے نام پر ہی ہونا چاہیئے اور اس کے لئے ہمیں فاطمہ شیخ و ساوتری بائی پھولے سے بہتر کوئی نام نہیں لگا۔ ان دونوں ہی خواتین نے تعلیم نسواں کے میدان میں بہت اہم رول ادا کیا ہے۔
فاطمہ شیخ -ساوتری بائی پھولے لائبریری چلانے والے منتظمین میں سے ایک محمد عاصف بتاتے ہیں کہ اس لائبریری کی شروعات اپنے چند دوستوں کے ساتھ محض 25-30 خود کی کتابوں سے کی تھی۔ اس کے بعد لوگ خود ہی اپنے اپنے گھروں سے کتابیں لاکر دینے لگے۔ آج کتابوں کی تعداد ہزاروں میں پہونچنے والی ہے۔
عاصف اس لائبریری کے مقصد کے بارے بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارا ہمیشہ سے نعرہ رہا ہے — لڑو پڑھائی کرنے کو، پڑھو سماج بدلنے کو۔ یہاں مظاہرہ میں آنے والے لوگوں کو کتابوں کی طرف متوجہ کرنے کے مقصد سے اس لائبریری کی شروعات ہم چند دوستوں نے کی۔ یہ لڑائی ابھی لمبی چلے گی، ایسے میں ضرورت ہے کہ اس کی دھار کو مظبوط کیا جائے اور اس کے لئے کتابوں کا بہر حال سہارا چاہئے۔ ہمیں موجودہ حالات کو بھی جاننا ہے تو تایخ سے سیکھنا ہی ہوگا۔ اور یہ سب کچھ کتابوں سے سیکھا جا ئے گا۔ اس لائبریری میں ہر طرح کی کتابیں ہیں۔ بچوں کے لئے بھیاور بڑوں کے لئے بھی۔ یہاں لو گ سب سے زیادہ آئین کو پڑھ رہے ہیں۔ اسکی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ وہیں نوجوان بھگت سنگھ، رویندر ناتھ ٹیگور سے لے کر عصمت چغتائی اور منشی پریم چند، ٹالسٹائے اور مہاتما گاندھی سے جڑی کتابیں خوب پڑھ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں روز بیٹھ کر کئی کئی کتابیں پڑھ ڈالی ہیں۔ کئی خواتین یہاں بھیڑ کی وجہ سے اپنے ساتھ کتابیں لے کر جانا چاہتی ہیں تو ہم ایسی خواتین کو 24 گھنٹے کے لئے کتابیں جاری کر دیتے ہیں۔
اس سوال پر کہ آیا جب یہ مظاہرہ ختم ہو جائے گا تب ان کتابوں کا کیا ہوگا؟ اس سوال پر عاصف بتاتے ہیں کہ شاہین باغ میں کوئی لائبریری نہیں ہےاسی لیے ہماری خواہش ہے کہ احتجاج کے بعد بھی شاہین باغ میں یہ لائبریری اسی نام سے قائم رہے۔
کون تھیں فاطمہ شیخ و ساوتری بائی پھولے؟
ایک زمانہ تھا کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ خاص طور پر اگر یہ لڑکیاں دلت و پچھڑے سماج سے ہیں تو کسی بھی قیمت پر نہیں۔ ایک وقت انہیں پڑھنے کی ایک طے شدہ آزادی ملی بھی تو لکھنے کی آزادی انہیں نہیں دی گئی۔ ایسے وقت جن دو خواتین نے اس سماج کے خلاف بغاوت کا بگل بجایا ان دو خاتون کا نام فاطمہ شیخ اور ساوتری بائی پھولے تھا۔ جب ساوتری بائی پھولے اور جیوتیبا پھولے کو لڑکیوں کو پڑھانے کی وجہ سے سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تب فاطمہ شیخ اور ان کے بھائی عثمان شیخ نے ان کا ساتھ دیا۔ فاطمہ شیخ 1856 تک ان تمام اسکولوں میں پڑھاتی رہیں جو انہوں نے اپنی دوست ساوتری بائی پھولے کے ساتھ مل کر کھولے تھے۔ پونے میں رہائش پذیر فاطمہ شیخ کے بھائی عثمان شیخ کے گھر میں ہی ساوتری بائی پھولے اور فاطمہ شیخ نے ان کی مدد سے 1848 میں لڑکیوں کے لئے پہلا اسکول کھولا تھا۔ اس اسکول میں دونوں نے پسماندہ ذاتوں کے بچوں کی تعلیم جاری رکھی۔ یہ وہ دور تھا جب خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا تھا۔ پسماندہ ذاتوں پر تعلیم کے دروازے بند تھے۔
اس وقت تمام اعلی ذات کے افراد ان دونوں خاتون کے خلاف تھے۔ انہوں نے ان کےاس کام کو روکنے کی پوری کوشش کی۔ فاطمہ شیخ اور ساوتری پھولے پر پتھراؤ کیا گیا اور گائے کا گوبر بھی پھینکا گیا۔ لیکن فاطمہ شیخ ثابت قدمی سے کھڑے ہوکر ہر ممکن طریقے سے ساوتری بائی پھولے کی حمایت کی۔ اس طرح سے وہ دونوں خواتین اس وقت کے اعلی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ ساتھ آرتھوڈوکس مسلمانوں کے خلاف بھی کام کر رہی تھیں۔ ان لوگوں نے مل کر پانچ اسکول کھولے۔
یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تقریباً 172 سال پہلے فاطمہ شیخ ایک ہندوستانی خاتون ٹیچر تھیں جنھوں نے اپنی دوست ساوتری بائی پھولے کے ساتھ مل کر لڑکیوں کی تعلیم کی بنیاد رکھی۔ ان دو عظیم خواتین کے ذریعہ ہمیشہ دلتوں اور مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیا گیا ہے ، جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے دروازے کھولے ہیں۔

