محی الدین غازی، دلی
جب اسکولوں میں تعلیم اتنی مخلوط نہیں ہوتی تھی اور سماج میں بے پردگی اس قدر عام نہیں تھی، تب بھی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان عاشقی کے واقعات پیش آتے تھے، البتہ اس زمانے میں عاشقی کرنے کے لیے بڑے جوکھم اٹھانے پڑتے تھے، اور شادی آسانی سے ہو جایا کرتی تھی۔ اب تو عشق لڑانا بہت آسان ہوگیا ہے اور شادی رچانا مشکل۔ پہلے عشق و محبت کے واقعات کبھی کبھار پیش آتے تھے، مگر اب تو خاص طور سے تعلیمی اداروں کا پورا ماحول ہی اسی رنگ میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہو جاتا ہے کہ نئے زمانے کے نوجوانوں سے اس موضوع پر کھل کر سنجیدہ گفتگو کی جائے۔
اس میں شک نہیں کہ اسلام کی نظر میں مثالی اور قابل رشک نوجوان تو وہی ہے جس کی جوانی بے داغ ہو، جس کی شخصیت کی عمارت کی کرسی اتنی اونچی ہو کہ گندگی کا سیلاب کتنا ہی طلاطم خیز ہو، اس کی چوکھٹ تک نہ پہنچ سکے، اس کی دیواروں میں ایمان کی ایسی مضبوطی ہو کہ شیطان اس میں کسی طور رخنہ اندازی نہ کر سکے۔ جس کی نگاہ نیچی رہے لیکن ذوقِ نگاہ بہت بلند ہو، جو اپنی جوانی اس طرح گزارے کہ گویا قیامت کے دن عرش کے سائے میں جگہ ڈھونڈ رہا ہو، اور جس کی سیرت اتنی پاکیزہ ہو کہ جنت کی حوریں اس کا بیتابی سے انتظار کر رہی ہوں۔تاہم اگر کوئی نوجوان غفلت کے نتیجے میں کسی معاشقہ میں پھنس جائے، تو اس کے سامنے تین راستے ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ یا تو وہ اسی راستے پر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، ایسی صورت میں اس کا ہر قدم اللہ کو ناراض کرنے والا ہوگا، یہاں تک کہ وہ گناہوں کی گہری کھائی میں جا گرے گا اور گناہوں کی لذت اسے اللہ کے غضب سے قریب کرتی رہے گی۔ اور کبھی تو وہ اس دنیا ہی میں بڑے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتا ہے۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھال لے، کسی کی محبت نے اگر دل میں گھر کرلیا ہے تو اس احساس کو دل ہی میں رہنے دے، اس راہ میں کوئی عملی قدم نہ اٹھائے، اور اللہ سے دعا کرے کہ اس کے دل میں جو محبت آ بسی ہے وہ ایک پاکیزہ رشتے میں بدل جائے۔ دراصل محبت کا ایک تو دل میں بس جانا ہے، اس پر تو انسان کا زیادہ اختیار نہیں ہوتا ہے، اور ایک محبت کے اعمال وافعال کا ظاہر ہونا ہے، یہ انسان کے بس میں ہوتا ہے، اور انسان جب چاہے اپنے آپ کو اس سے روک سکتا ہے۔ یہ کام ذرا مشکل تو ہوتا ہے، لیکن اللہ کی ناراضگی سے بچنا مقصد ہو تو کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔
تیسرا راستہ یہ ہے کہ معاشقہ کو فوراً نکاح کے پاکیزہ رشتے میں تبدیل کردیا جائے، یہ توبہ کرنے اور گناہوں سے بچنے کا ایک مناسب ترین طریقہ ہے۔ لیکن یہ مشورہ بہت سے لوگوں کو عجیب سا لگتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایسے لڑکے کی شادی کیسے ہوسکتی ہے جو ابھی پڑھ رہا ہے، اور کمانے کی عمر سے برسوں کی دوری پر ہے، جو خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا وہ خاندان کا سربراہ کیسے بنے گا؟ لیکن یہ سارے خدشات اس بڑے نقصان کے مقابلے میں ہیچ ہو جاتے ہیں جو گناہوں کے راستے پر چلنے میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ بڑے لوگ شادی کرنے کے لیے ہزار شرطوں اور معیاروں کا خیال کرتے ہیں، جبکہ بچے معاشقہ کرتے وقت کسی بات کا خیال نہیں کرتے۔
سرپرستوں کو اس مرحلے میں آگے بڑھ کر اپنی اولاد کی مدد کرنا چاہیے۔ یہ سوچنے کے بجائے کہ اولاد نے کس کو پسند کیا ہے، ان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کی اولاد تباہی کے کنارے جا کھڑی ہوئی ہے، اور ذرا سی دیر ہونے کی صورت میں وہ اپنی اولاد سمیت ذلّت کے گڑھے میں گرنے والے ہیں۔ والدین کی پسند اور ناپسند کی اہمیت اس وقت تک ہے جب تک اولاد نے خود کچھ نہ پسند کیا ہو، لیکن جب اولاد پسند کے مرحلے سے آگے بڑھ جائے تو والدین کی ذمہ داری ہے کہ ان کے افسانہ محبت کو جلد از جلد شادی کے خوب صورت انجام تک پہونچا دیں، اس سے پہلے کہ ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور والدین اپنے تساہل کی وجہ سے شریک گناہ قرار پا جائیں۔اگر وہ یہ نہیں چاہتے کہ باقاعدہ ازدواجی زندگی اس طالب علمی کی عمر میں شروع ہو تو وہ صرف شرعی نکاح پر اکتفا کرسکتے ہیں، اور رخصتی کے لیے کسی مناسب وقت کو طے کر سکتے ہیں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس نکاح کے بعد ان کا اظہارِ محبت شریعت کی رو سے حلال ہو جائے گا، اور جو کام اب تک گناہ تھا وہ عبادت اور کارِ ثواب بن جائے گا۔
یمن کے مشہور عالم شیخ عبدالمجید زندانی تقریبا دس سال پہلے یوروپ کے دورہ پر گئے تھے، لوگوں نے وہاں کے مسلمان طلبہ و طالبات کے بگاڑ اور حالت زار کا ذکر کیا، انہوں نے خاصے غور وخوض کے بعد یہ تجویز دی کہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی بہترین ایمانی تربیت کی ذمہ داری قبول کریں، اس کے باوجود اگر ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو جن لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان معاشقہ ہوگیا ہے ان دونوں کے سرپرست حضرات مل کر ان کا شرعی نکاح کرادیں، رخصتی کو مناسب وقت کے لیے موخر کردیں، اور ایک خاص عمر تک کفالت کی ذمہ داری لڑکے پر ڈالنے کے بجائے دونوں کے سرپرست مل کر اٹھا لیں۔
مغربی لائف اسٹائل نے جس طرح ہمارے ملک کے تہذیبی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ تجویز یہاں بھی قابل عمل ہوسکتی ہے، نئی نسل کو گناہوں سے بچانے کے لیے۔ اس سلسلے میں معاشرے کو بھی معاون ومددگار بننا ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں جو کوئی عاشقی کرنے کے بعد شادی کرتا ہے وہ زیادہ بڑا گناہ گار سمجھا جاتا ہے، اور جو عاشقی کے نام پر لڑکی کو دھوکہ دیتا ہے اور مطلب براری کے بعد فرار ہوجاتا ہے اسے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔

