ابوفہد، دلی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے۲۸؍جنوری ۲۰۲۰ کو وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کی اور ’صدی کی ڈیل‘ (Deal of the Century ) کے نام سے اسرائیل ۔ فلسطین تنازعے کے تصفیے کے طور پر تقریبا ۸۰؍ صفحات پر مشتمل نام نہادتجویز (ڈیل) کا اعلان اورپھر اس کی تلخیص پیش کی ۔ امریکی صدر کے مطابق یہ تجویز اسرائیل اورفلسطین کے صدیوں پرانے قضیے کا تصفیہ کردے گی۔اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو بھی ان کے ساتھ تھے،ان کے چہرے پر سفاک مسکراہٹ تھی اورخود صدر کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح رعونت چھائی ہوئی تھی۔ امریکی صدر نے اس ڈیل کو اسرائیل کی طرف سے امن کا قدم قراردیا اور فلسطینیوں کے لیے کہا کہ وہ اس تجویز(ڈیل) کو تسلیم کرکے آزاد ریاست قائم کرنے کے حقدار بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس تمام مذاہب کے پیرو کاروں کے لیے کھلا شہر،محفوظ اوراسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت ہوگا، جبکہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی القدس میں ہوگا۔فلسطینی ریاست کو غزہ اور غرب اردن کے درمیان پلوں اور سڑکوں سے جوڑا جائے گا ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ ڈیل ان کے لیے سنہرا اورآخری موقع ہے۔ صدی کی ڈیل کے اعلان کےاس موقع پر امریکی صدر نے اسرائیل کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری بتایا ۔ صدر کا مطلب یہ تھا کہ اگر اس آخری موقع کو ہاتھ سے جانے

 دیا گیا تو نقصان فلسطین اور فلسطینیوں کا ہی ہوگا جس کے بعد انہیں اس کے نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ امریکی صدر نے اپنی اس تجویز میں یہ ضرور ماناہے کہ فلسطینی بھی ایک بہتر زندگی کے حق دار ہیں مگر، ایک ایسی زندگی کے جو پوری طرح سے اسرائیلی بوٹ تلے دبی ہوئی ہوگی ۔ وہ ایک ایسے ملک میں آزاد زندگی کے حقدار ہوں گے جو خود مختار نہیں ہوگا، جسے اپنی فوج رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی اور وہ پوری طرح سے اسرائیل کے رحم وکرم پر ہوگا۔ اگر اس پر کوئی پڑوسی ملک حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اسرائیل کی ہوگی اور فلسطینی اتھاریٹی کو اس کے لیے معاوضہ اداکرنا ہوگا۔

 ایک تعجب خیز بات یہ ہوئی کہ اس نام نہاد ڈیل کو تیار کرنے سے لے کر اس کے اعلان تک امریکہ نے نہ صرف یہ کہ مسلم قیادت کو ساتھ لینے کی ضرورت نہیں سمجھی ،بلکہ خود اس ڈیل کے دوسرے فریق فلسطینی قیادت کو بھی صلاح ومشورے میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ البتہ اعلان کے وقت تین مسلم ممالک عمان، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفیر وائٹ ہاؤس میں موجود رہے، ٹرمپ نے ان تینوں ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا، جبکہ سعودی حکومت نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اس ڈیل کا پہلے ہی دن سے حمایتی رہا ہے۔نیز اس کی طرف سے اس بات کی بھی کوشش رہی ہے اور اب بھی ہے کہ فلسطینی بھی اس تجویز کو کسی نہ کسی طرح قبول کرلیں۔مگرفلسطینیوں نے اور باقی مسلم دنیا نے’ صدی کی ڈیل‘ کو سختی کے ساتھ ٹھکرادیا ہے۔ اس کی تردید میں ظاہر ہے کہ سب سے بلند آواز تُرکی نے ہی اٹھائی ہے۔ ترکی نے اسے، مردہ بچہ پیدا کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ترکی نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر اس ڈیل کو تسلیم کرلیا جاتا ہے تو بیت المقدس تو ہاتھ سے جائے گا ہی ،آنے والے دنوں میں مکہ ومدینہ کو بچانا بھی مشکل ہوجائے گا۔ شاید اردگان کا اشارہ سعودی اور ان تین ممالک کی طرف ہے جنہوں نے ٹرمپ اور نتن یاہو کی کانفرنس میں شرکت کی ہے۔ ایران بھی ترکی کے شانہ بشانہ ہے۔ ایران نے ’صدی کی ڈیل‘ کو صدی کی سب سے بڑی غداری کہا ہے۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دینے کی بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان ایسی کسی تجویز کو کیسے قبول کرسکتے ہیں جس میں انہیں بیت المقدس ہی نہ مل رہا ہو۔مسجد اقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صبری نے یکم فروری 2020جمعے کے خطبے میں اس ڈیل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم صدی کی ڈیل جیسے امریکی استعماری امن منصوبوں پر لعنت بھیجتی ہے۔ کیونکہ اس سازشی منصوبے کے ذریعے فلسطینی قوم کو اس کے بنیادی حقوق اور مطالبات سے محروم کیا جا رہا ہے۔ بیت المقدس کو مستقبل کے مذاکرات سے نکالا جا رہا ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کی نفی کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینی مہاجرین کو دوسرے ملکوں میں آباد کرنے اور فلسطین میں یہودیوں کو آباد کاری کی اجازت دی جا رہی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ امریکی حکومت نے اس تجویز[ڈیل] کو کامیاب بنانے کے لیے فلسطینیوں کو سنہرے خواب بھی دکھائے ہیں۔ فلسطین کی نئی ریاست میں 50ارب ڈالر کی تجارتی سرمایہ کاری کی بات کی ہے اور بتایا ہے کہ اس سے 10لاکھ فلسطینیوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ اس تجویز میں ایک چال یہ بھی چلی گئی ہے کہ اس کی مدت کو 4سال تک دراز کیا گیاہے۔ اس میں چال یہ ہے کہ اگر آج فلسطینیوں کو اس ڈیل سے کسی درجے میں نااتفاقی ہوسکتی ہے تو آئندہ چار سال تک کبھی بھی اس سے اتفاق کرنے کے لیے امکان موجود ہوں گے ۔ یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ جب آج اس ڈیل کے ساتھ کئی عرب ممالک کھڑے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں ہر لمحہ دگرگوں ہوتے ہوئے حالات کے زیر اثر آئندہ چار سال کی طویل مدت میں اور بھی کئی عرب ممالک ان کے ہم نوا اور طرفدار بن جائیں گے۔ یہ ایسا امکان بلکہ، حقیقت ہے کہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، کم از کم کلی طور پر تو بالکل بھی نہیں کہ جیسے جیسے امریکہ واسرائیل کا دباؤ بڑھتا جائے گا ، ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والے ممالک پگھلتے چلے جائیں گے اور اس طرح یہ چال اپنا کام کرجائے گی اورہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی عرب ازخوددوگروپوں میں تقسیم ہوکر اس ڈیل کے نفاذ کی راہ ہموار کردیں گے۔

امریکی صدر کی اس نام نہاد ڈیل سے اتفاق اور عدم اتفاق کے حوالے سے موجودہ صورت حال تو یہ ہے کہ عرب دنیا کے علاوہ باقی غیر عرب دنیا نے بھی اس ڈیل کے تعلق سے مخالف رجحان ہی ظاہر کیا ہے ۔ ایک امریکہ کے علاوہ ساری دنیا مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ صدی کی اس ڈیل کی چاروں طرف سے مذمت کی جارہی ہے۔یہاں تک کہ اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی سخت احتجا ج کیا ہے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اسے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا باعث سمجھا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پرواشنگٹن کو اپنا فیصلہ مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ برطانوی وزیراعظم جانسن نے کہا ہےکہ امن فارمولہ مثبت نکات پر مشتمل ہونا چاہیے، تاکہ تمام فریقین اسے قبول کرلیں۔اقوام متحدہ بھی فی الحال امریکہ واسرائیل کے ساتھ نہیں ہے۔ ساری دنیا میں اس ڈیل کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔البتہ اس نام نہاد صدی ڈیل سے صرف دو لوگ ہی خوش ہیں ، ان میں ایک خود امریکی صدر ٹرمپ ہیں اور دوسرے ان کے جگری دوست اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو۔مشرق وسطیٰ کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈیل ان دونوں لیڈروں کی مجبوری بھی ہےاور ضرورت بھی۔ کیونکہ دونوں کو آئندہ آنے والے دنوں میں اپنے یہاں انتخابات کا سامنا ہےاور اس ڈیل کے ذریعے دونوں اپنی اپنی قوم کو یہ باور کرانے کے فراق میں ہیں کہ وہ انسانیت کے لیے کسی مسیحا سےکم نہیں ہیں۔اسی لیے انہوں نے اس شرمناک ڈیل کو امن وشانتی اور ترقی وخوشحالی لانے والی تاریخی ، آخری اور فیصلہ کن ڈیل باور کرانے کی کوشش کی ہےاور مسلسل کر رہے ہیں۔اسرائیل کی خوشی کا اندازہ تو اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ نتن یاہو نے اس تجویز کے اعلان کے دن کو فتح کا دن قرار دیا ہے۔ان کی خوشی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اس دن کو سنہ 1948میں اسرائیل کے یومِ آزادی کے ہم پلہ قرار دیا اور اس دن کو یوم آزادی کے دن کی طرح یاد گاربتایا ہے۔ ان کے مطابق یہ دن ان کی زندگی کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک تھا۔دراصل ان کی اس خوشی کا راز اس ڈیل کی اُن غیر منصفانہ تجاویز میں مضمر ہے، جو امن کے اس تصفیے میں اسرائیل کے لیے بالادستی کو قائم رکھتی ہیں اور فلسطینیوں کو ان کی زمین کا اتنا حصہ بھی نہیں دیتیں جتنے حصے کے وہ مالکانہ حقوق رکھتے ہیں اوردنیا بھی مانتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کا ہی حق ہے۔ امریکی صدر نے اس ڈیل کو تسلیم کرنے کے لیے فلسطینی صدر پر دباؤ بھی ڈالا، جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا ہے۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ شرمناک پہلو یہ ہے کہ بعض مسلم ممالک نے یہاں بھی اپنی منافقت دکھائی اور حسب توقع اس منافقانہ عمل کی سربراہی کی کمان بھی سعودی عرب کے ہاتھ میں ہی آئی ہے۔سعودی عرب نے مسلم دنیا میں پہلے ہی اپنے لیے بہت ناخوش گوار فضا پیدا کرلی ہے ،اب اُس کے اِس قبیل کے اقدامات مسلم دنیا میں اس کی ساکھ کو جو ایام حج میں عالم اسلام کے میزبان ہونے کا شرف حاصل ہونے کے سبب اسے ملی ہوئی ہے، مزید مجروح کریں گے اور یہ اس ملک کے لیےہر طرح سے برا ہوگا۔

کیا خبر کہ یہود ونصاریٰ کی کوشش یہی ہو کہ عالم اسلام کا دل سمجھے جانے والے اس ملک کے وقار کو مجروح کردیا جائے اور جب وہ نظریاتی سطح پر باقی مسلم دنیا سے الگ تھلگ پڑجائے تو پھر اس کا بھی وہی حشر کیا جائے جو عراق، شام اور لیبیا و افغانستان کا کردیا گیا۔مگر افسوس یہی ہے کہ یہ بات شاید ابھی تک خود آل سعود کی اور سعودی عوام کی سمجھ میں نہیں آسکی ہے اور کسی حد تک باقی مسلم دنیا نے بھی اس کھلے راز کو نہیں سمجھا ہے۔