ابو نصر فاروق

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اُس پر ثابت قدم رہے یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اُن سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر وہ چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی۔(حٰم اَلسّجْدَۃ ۳۰۔ ۳۱)

دنیا میں انسان کی زندگی کبھی بھی ہموار راستوں سے نہیں گزرتی۔ نشیب و فراز کا پیدا ہونا، حالات کا بننا اور بگڑنا، مشکلات و مسائل کا سامنے آنا، خوف اور خطر کا ماحول پیدا ہو جانا وغیرہ زندگی کے معمولات ہیں۔ ہر انسان ان مشکلوں سے نجات پانے کی اپنی حد تک تدبیر کرتا ہے۔ کبھی کامیاب ہو جاتا ہے اور کبھی ناکام رہتا ہے۔ صرف اہلِ حق اور اہلِ تقویٰ ہی یہ جانتے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل اللہ کی مدد اور اُس کی رحمت میں ہے۔ اللہ کی مدد اور رحمت صرف اُس کے فرماں بردار، متقی اور صالح بندوں کو نصیب ہوتی ہے نا فرمانوں، سرکشوں اور ظالموں کو نہیں۔اوپر کی آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ کو رب بنا کر اُس پر جم جاتے ہیں، دنیا میں فرشتے اُن کے محافظ و نگہبان بن کر اُن کے ساتھ رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم اب جس مقام پر پہنچ چکے ہو، وہاں تمہارے لیے کسی خوف اور غم کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہم آج سے لے کر قیامت تک تمہارے ساتھ ہیں اور تمہیں دونوں جہاں کی کامیابیوں و کامرانیوں کی خوش خبری دیتے ہیں۔ اللہ کو رب بنا کر اُس پر جم جانے کا مطلب ہے صرف اللہ کے احکام کی پیروی کرنا، اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنا، اُسی پر بھروسہ کرنا، اُسی سے مدد مانگنا، اُسی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہنا، اُس کے سوا کسی سے نہ ڈرنا نہ جھکنا، اس کے سوا ہر ایک سے بے نیاز ہو جانا۔ اس کی روشن مثال پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ واٰ لہ وسلم کی حیات پاک ہے کہ آپؐ نے محض اللہ کے احکام کی پیروی میں پوری قوم سے دشمنی مول لے لی تھی۔ جب کوئی ایمان والا اس رنگ میں رنگ جاتا ہے تب اُس کو وہ بلند مقام و مرتبہ عطا ہوتا ہے جس کا ذکر اوپر بیان کی گئی آیات میں کیا گیا ہے۔مشکلات و مسائل کبھی ایسی دیو پیکر صورت میں سامنے آتے ہیں کہ انسان کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور اُس کو ہر طرف اندھیرے اور مایوسی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن جو لوگ خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں اللہ اُن کے لیے ہر طرح کی مشکلات سے نکلنے کے راستے پیدا کر دیتا ہے اور اس کے لیے رزق کے ایسے ذرائع پیدا کر دیتا ہے بندہ جس کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ ہر کام کا اللہ کے نزدیک ایک وقت مقرر ہے جس کے لیے بندے کو صبر اور انتظار کرنا پڑے گا۔ درج ذیل آیت میں یہی بات یوں بیان کی گئی ہے۔

’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اُسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے اُس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے‘‘۔(اَلطَّلَاقُ :  ۲۔۳)

ان مشکل اور جان لیوا حالات میں بندے کو اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے آگے نقل کی گئی کم سے کم ان دونوں دعاؤں کا کثرت سے ورد کرنا ہوگا۔ اس کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ بندے کے دل کو اطمینان نصیب ہوگا اور اُس کی ہر طرح کی گھبراہٹ اور پریشانی دور ہو جائے گی۔ لیکن یہ بھی جان لینا چاہیے کہ یہ اعلیٰ مقام دنیا کے طلبگار اور دولت کے لالچی کو نہیں ملتا ہے۔ اس مرتبے پر پہنچنا ہوس کے پجاری کی تقدیر میں نہیں ہوتا۔جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ:’’ اے پروردگار! ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے‘‘ (اَلْکَہْفِ: ۱۰) اُن کی دعا بس یہ تھی کہ:’’ اے ہمارے رب، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو، اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔‘‘

 (اٰلِ عِمْرَان :۱۴۷)

قرآن میں دیکھ کر ان آیتوں کو عربی میں یاد کر لیجیے اور ان کا ورد کرتے رہیے۔