عالم نقوی
مولانا علی میاں ؒ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’نہ صرف موجودہ حالات میں بلکہ جب بھی ہم کامیابی کے امکانات پر غور یا گفتگو کریں تو ہمارا نقطہ نظر وہ ہرگز نہ ہونا چاہیےجو ایک مادَّہ پرست کا ہوتا ہے ۔یعنی ایسا نہ ہو کہ ہم کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ محض ظاہری اسباب و حالات کو سامنے رکھ کر کریں ۔ہمارا تو ایمان ہے کہ نہ صرف یہ دنیا بلکہ پوری کائنات اور اس کے تمام مظاہر ،اُسی خالق و پروردگار کے دست قدرت کے تصرف اورحُسنِ تدبیر کا نتیجہ ہیں : ’’کہیے کہ اے اللہ اے ملک کے مالک تو جس کو چاہے ملک کا اقتدار بخشے اور جسے چاہے محروم کردے اور جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کردے کہ ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘ (ّ(آل عمران ،آیت ۲۶)
اس لیے اگر ہم اللہ کی نصرتوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنے قوت بازو پر بھروسہ کرنے لگ جائیں تو ہم اپنے ایمان کی ایک بنیاد سے محروم ہو جائیں گے ۔ آپ قرآن مجید کو شروع سے آخر تک پڑھ جائیں تو اس میں انتہائی نا مساعد حالات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی تسکین و اطمینانِ قلب کا اگر کوئی نسخہ تجویز کیا گیا ہے تو وہ اللہ کی کارسازیوں اور نصرتوں پر اعتماد اور اس کی ذات پر توکل کا نسخہ ہے:’’اور جو بھی اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے (رنج و محن اور آلام و مصائب سے) مخلصی کی صورت پیدا کردے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو اور جو اللہ پر توکل کرے (بھروسہ رکھے ) تو اللہ (اس کی کفالت کے لیے ) کا فی ہے ۔اللہ تو اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے ) پورا کر کے رہتا ہے اور اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے‘‘ (سورہ طلاق ،آیات ۲ و ۳) قرآن مجید کو آپ غور سے دیکھتے جائیں آپ کو اللہ کی نصرتوں پر اعتماد اور توکل کا درس ضرور ملے گا۔ اور جب کبھی مسلمانوں نے اس سے روگردانی کی، بلکہ صرف اپنے ہی قوت بازو اور تدابیر کو سب کچھ سمجھ لیا ہے ،تو انہیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا ہے ۔جنگ حنین کے موقع پر مسلمانوں کو صرف اپنی کثرت تعداد اور سازو سامان کی فراوانی پر بھروسہ ہو گیا تھا تو اُس کا نتیجہ وقتی شکست کی شکل میں انھیں بھگتنا پڑا۔اللہ جل جلالہ کی یہ سرزنش اُسی وقت کی ہے کہ :’’اللہ اس سے پہلے بھی بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کر چکا ہے ، ابھی غزوہ حنین کے روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرور تھا ،مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ،پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مؤمنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرین حق کو سخت سزا دی کہ یہی کافروں کا انجام ہے ‘‘(سور ہ توبہ، آیات ۲۵ و ۲۶)
در اصل ہمیں دونوں کام بیک وقت انجام دینے ہیں ایک توکل علی اللہ اور اس پر یقین کہ ’حسبنا اللہ و نعم الوکیل ‘ اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہی سب سے اچھا کارساز ہے (آل عمران ۱۷۳)اور ،’نعم المولی و نعم النصیر‘کہ بس وہی سب سے اچھا آقا اور سب سے اچھا مددگار ہے (سورہ انفال آیت ۴۰)
اور دوسرے حسب استطاعت ’قوت کا حصول ‘ کہ نہ صرف دفاع ذات و مال کے لیے یہ ضروری ہے، بلکہ دشمنوں کے دلوں پر اپنی ہیبت بٹھانے اور ظلم سے محفوظ رہنے کا قرآنی نسخہ بھی یہی ہے: ’’اور اگر کسی قوم سے کسی خیانت یا بد عہدی کا خطرہ ہے تو آپ بھی ان کے عہد کو ان کی طرف پھینک دیں کہ اللہ خیانت کرنےوالوں کو ہر گز دوست نہیں رکھتا ۔اور خبردار ،کافر اِس گمان میں نہ رہیں کہ وہ آگے بڑھ گئے (یا کامیاب ہو گئے ) وہ کبھی مسلمانوں کو عاجز نہیں کر سکتے ۔اور تم سب (اُن کے مقابلہ کے لیے )اپنی استطاعت بھر(یعنی جتنا تمہارے امکان میں ہو ) قوت حاصل کرو اور رباط الخیل (جنگی گھوڑوں) کی صف بندی کا انتظام کرو تاکہ اللہ کے دشمنوں پر ،اپنے دشمنوں پر اور اُن دشمنوں پر جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے (کہ وہ تمہارے دشمن ہیں ) تمہاری ہیبت بیٹھ جائے ،اور تم راہ خدا میں جو کچھ بھی خرچ کروگے ،اُس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا ،اور تم پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا ‘‘ (الا نفال ۵۸تا ۶۰)
اپنی جان اور اپنے مال کے دفاع کے لیے حصول قوت کا یہ ایک اہم ترین اسلامی فریضہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر دور میں، کفار کے مقابلہ کے لیے، طاقت کا انتظام رکھنا چاہیے کہ یہ دنیا ہمیشہ اہل قوت کے ساتھ رہتی ہے اور وہی اس کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں ۔مسلمان آج پوری دنیا میں ،اسی فرض کی ادائیگی سے غفلت کے سنگین نتائج بھگت رہے ہیں ۔ اب بھی وقت ہے، مسلمان اگر قرآنی حکم کے مطابق حصول قوت میں لگ جائیں تو کافروں اور ظالموں کا یہ سارا طلسم ٹوٹ جائے گا۔ حصول ِقوت میں علم کی قوت ،دماغ کی قوت، بازوؤں کی قوت ،مال کی قوت اور حرب و ضرب کی قوت، سبھی قوتیں شامل ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ حصول قوت سرمایہ کے بغیر اور مال خرچ کیے بغیر ممکن نہیں لیکن اللہ جل شانہ نے مال کے اس خرچ کو بھی ’فی سبیل اللہ ‘ قرار دیتے ہوئے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تم اللہ کے حکم کی بجا آوری کی خاطر ، جو کچھ خرچ کرو گے وہ تمہیں پورے کا پورا واپس کر دیا جائے گا ۔اور تم پر ہر گز ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا ۔یعنی ظلم سے تحفظ کی قرآنی شرط بھی یہی اپنی استطاعت بھر حصول قوت ہے کہ اگر ہم اللہ کے اس حکم پر لفظاً اور معناً پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو پھر ظلم سے مفر بھی ممکن نہیں ۔

