پیاری بیٹی سلام مسنون

تمہارا خط ملا تم نے میرا خط دیر میں پہنچنے کی شکایت لکھی ہے۔ کیا کہوں میں خود چاہتا ہوں کہ تمہیں جلدی جلدی خط لکھوں مگر وقت اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ ابھی سورج نکلا اور شام ہوئی پھر دوسرا دن آدھمکا بہرحال یہ خط شروع تو کر دیا ہے۔ خدا کرے تم تک پہنچ جائے۔تم نے لکھا ہے کہ میں اب بی بی کے یہاں آگئی ہوں۔ بہت ہی اچھا ہوا تنہا رہنے سے کسی کے ساتھ رہنا اچھا ہوتا ہے۔ مگر دیکھنا وہ تمہاری بھاوج ہیں اور تم سے پہلے اس گھر میں آئی ہیں۔ ان کے رتبے کا خیال رکھنا۔ ان کی طرف سے جو پیہم عنایات اب تک تمہارے حال پر رہی ہیں، وہ قابل ستائش ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ زندگی کی صبح ہوتے ہی تمہاری جیسی بھاوج کسی دوسری لڑکی کو مل سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہی ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تم بھی ان کی قدر کرو اور سمجھ لو کہ اب وہی تمہاری سب کچھ ہیں۔اماں، ابا، پھوپھی، خالہ غرض سب کچھ وہ اگر کسی وقت کسی بات پر تمہیں کچھ کہیں تو تمہارا فرض ہے کہ اس کو سنو۔ اگر تمہارے مزاج کے خلاف بھی کوئی بات ہو تو اسے پی جاؤ اگر تم ایسا کرو گی تو اپنی زندگی میں جنت تعمیر کرلو گی اور اگر بیوقوف لڑکیوں کی طرح موقع محل کو نہ سمجھا تو عمر بھر پریشان رہو گی۔ 

اصل بات یہ ہے کہ جب لوگ مل جل کر رہتے ہیں، معاملات میں ایک دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے تو کبھی نہ کبھی ایسی بات ہو جاتی ہے کہ ایک دوسرے سے شکایت ہو جائے، اگر اس کی طرف دھیان دیا جائے تو وہی ایک دن فتنہ بن جاتی ہے۔ ایسے معاملات کو دنیا والے بھی ہوا دیتے ہیں کیونکہ ان کو تماشہ دیکھنے میں مزہ آتا ہے۔ مگر تم عقلمند لڑکیوں کی طرح ایسی باتوں سے اپنے دامن کو بچانا اور اور دنیا والوں کو اپنے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دینا۔ ہم بھی اکثر تم پر ناراض ہوتے تھے۔ لیکن تم سمجھتی تھیں کہ یہ ناراضگی میرے بھلے کے لیے ہے۔ اس لیے کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتی تھیں۔ اسی طرح اب وہاں بھی یہی خیال رکھو۔

ہوسکتا ہے کچھ چیزیں تمہارے مزاج کے مطابق نہ ہوں مگر یاد رکھو دنیا کی کسی بہو کے لیے بھی پہلے سے بنا بنایا ماحول نہیں ملتا کہ سسرال میں پہنچتے ہی اس کے لیے تخت طاؤس بچھ جائے۔ وہاں کا ہر فرد و بشر ہاتھ باندھے موم کی گڑیوں کی طرح سامنے کھڑا رہے اور آٹھ پہر اس کے حکم پر جھکا رہے۔ اس کے لیے تو اسے خود ماحول بنانا پڑتا ہے۔ اپنا حکم چلانے کے لیے پہلے خود حکم ماننا پڑتا ہے۔ اسی سانچے میں اپنے آپ کو نکالنا ہوتا ہے جس میں وہ دوسروں کو ڈھالنا چاہتی ہے۔ کسی نے اسی بات کو اس طرح کہا ہے اگر اپنی عزت کی خواہش ہے تو پہلے دوسروں کی عزت کرو۔ یہ بات سو فی صدی ٹھیک ہے۔ مخاطب سے اگر تم آپ اور جناب سے گفتگو کروگی تو وہ بھی تمہیں انہی خطابات سے نوازے گا۔نئے گھر کے بچوں سے پیار بڑوں کا احترام اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ مل جل کر لڑکی کے لیے دلوں میں جگہ پیدا کرتا ہے اور اس طرح محبت کا کونپل پھوٹتا ہے جو مسلسل خدمت سے تنآور درخت بن جاتا ہے جس کے ٹھنڈے سایہ میں عورت آگے چل کر اطمینان کی زندگی بسر کرتی ہے۔آج کل گھروں میں ایسے بہت سے جھگڑے چل رہے ہیں۔ ساس بہوؤں کی لڑائی، نند بھاوجوں کے قصے اچھے خاصے سماجی روگ ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دن رات نوک جھونک ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے خاندانوں کا سکون ختم ہوگیا۔ کیا اچھا ہو کہ تم اپنے عمل سے نمونے کی دلہن بن کر دکھاؤ اور موجودہ سماج کے اندھیروں میں شمع روشن بن کر چمکو۔ ہر عورت تمہیں اور تمہارے گھر کے سکون کو دیکھ کر کہے کہ واقعی گھر ایسا ہونا چاہیے۔

تمہارا خیر خواہ