سید مجیب عثمانی 

ٹی وی پر دکھائے جانے والے بعض پروگرام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بچوں کی ذہنی نشو و نما اور ان کے میلان طبع پر کاری ضرب لگا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر وقت گزارنے والے بچے پڑھائی اور بیرون خانہ سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لیتے اور غور و خوض کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اب والدین میں بھی ٹی وی کے ان ظالمانہ استحصالی پروگراموں سے بچوں کی حفاظت کی سکت باقی نہیں رہی۔

بچوں پر ٹی وی کی مضبوط گرفت کے بارے میں اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر بنجامن اسپاک نے بتایا کہ وہ بڑے اہتمام سے اپنی دو کمسن بیٹیوں کو سیر کرانے کے لیے نیو یارک سٹی لے گئے تھے۔ انہیں سخت افسوس ہوا کہ نیو یارک شہر اپنی پوری آب و تاب، کشش، رونق اور گہما گہمی کے باوجود میری بیٹیوں کو ٹی وی کی دل کشی اور سحر انگیزی سے باز نہیں رکھ سکا۔ یہ ٹی وی کا سحر ہے کہ بچے اس کے سامنے خاموش ہوجاتے ہیں۔ واشنگٹن کے مضافاتی اسکول کی ایک معلمہ نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جو بچے کلاس میں آتے ہی بہت زیادہ باتونی بن جاتے ہیں وہ گھر میں ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھتے ہی چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’’بات چیت کا فاقہ‘‘ کر رہے ہیں۔ 

امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل ہیلتھ کے ڈاکٹر ڈیوڈ پرل نے اپنا شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی نے بچوں اور ان کے والدین کے باہمی تعلقات کو جو بچوں کی ذہنی نشو و نما اور بالیدگی کے لیے بے حد ضروری ہیں، تتر بتر کرکے رکھ دیا ہے اور اس سے بچوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔

ٹی وی کی ایک مطالعاتی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ٹی وی دیکھنے کی لت پڑجانے سے بچوں کی قوت متخیلہ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ جنوبی کیلی فورنیا یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے ابتدائی جماعتوں کے دو سو پچاس ذہین ترین اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل بچوں کو تین ہفتے تک اپنے گہرے مشاہدے میں رکھا تو اسکولوں کے اساتذہ نے ٹی وی کی پہلی نسل کا مشاہدہ کرنے کے بعد بتایا کہ ماضی کے مقابلے میں بچوں کے کھیلوں کی نوعیت کم تخیلاتی ہوتی جارہی ہے اور ان میں بے ساختگی کا فقدان پیدا ہو رہا ہے۔ بچوں میں اپنے کھلونے بنانے کی صلاحیت بھی ختم ہو رہی ہے۔ ورجینیا یونیورسٹی کے نفسیات کے پروفیسر اسٹیفن ورچل نے بتایا کہ بچپن میں وہ اپنے کھلونے خود بنایا کرتے تھے لیکن موجودہ نسل ایسا نہیں کرتی۔ وہ اپنی مرضی سے کوئی کھیل کھیلتی ہے اور نہ اپنے کھلونے اختراع کرتی ہے۔ اس کے تمام کھیل اب ٹی وی تجویز کرتا ہے اور ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ موجودہ نسل اپنی اختراعی صلاحیتوں کو اپنے ہاتھوں سے خود تباہ کر رہی ہے۔

امریکی اسکولوں کے اساتذہ کو اب ایسے بچوں سے واسطہ پڑ رہا ہے جو نہایت آسان اور معمولی اسباق کو بھی بصری تشریحات (Visual Illustrations) کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ بصری تشریحات میں تصویری خاکے، چارٹ، نقشہ جات، ڈایا گرام اور فلمیں شامل ہیں۔ 

ٹی وی سے بچوں میں تماشائی بننے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔ اسٹان فورڈ یورنیوسٹی کے تحقیق کنندہ (ریسرچر) پال کوف مین کہتے ہیں کہ ٹی وی بچوں میں آہستہ آہستہ تماشائی بننے کا رجحان پیدا کر رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بچے حقیقی زندگی میں اپنے ذاتی تجربات سے دست کش ہوتے جارہے ہیں۔

ٹی وی کے گمراہ کن اشتہارات سے بچوں کی اخلاقیات پر تباہ کن اثرات پڑ رہے ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت میں مستقلاً بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ یہ بات کولمبیا یونیورسٹی کے نفسیات کے پروفیسر تھامس بیور نے بتائی۔ پروفیسر مذکور نے پانچ سال سے لے کر بارہ سال کی عمر کے بچوں کے انٹرویوز سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جب یہ بچے پورے بارہ سال کے ہوجائیں گے تو ان کی سمجھ میں پختگی آجائے گی۔ وہ ٹی وی کے جھوٹے سچے پروگراموں میں تمیز کرسکیں گے۔ انہیں یقین ہوجائے گا کہ اشتہار بازی کی طرح دیگر کاروباری بالغ قسم کے ادارے بھی منافقت کی پہیلیاں بنے ہوئے ہیں۔ ٹی وی کی وجہ سے ہمارا معاشرتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس میں اگر کچھ کسر باقی رہ گئی تھی تو وہ ڈش اینٹینا نے پوری کردی ہے۔