دلیپ سنگھ

جب میری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی تاریخ قریب آگئی تو مجھے فکر دامن گیر ہوئی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کروں گا ۔ کسی زمانے میں جب کوئی ریٹائر ہوتا تھا تو لوگ اس سے کہا کرتے تھے کہ بھائی بہتیرا کام کرلیا، اب عیش کر، لیکن آج کل نوکریاں کچھ اس قسم کی ہوگئی ہیں کہ لوگ یوں کہنے لگے ہیں کہ بھائی بہت عیش ہوچکا اب ریٹائر ہورہے ہو تو کوئی کام دھام ضرور کرنا۔مجھے ریٹائرمنٹ کے بعد پیسہ کمانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ آج کل سرکار نے پینشن خاصی معقول کردی ہے اور دوسری یہ کہ آدمی ریٹائرمنٹ تک پہنچتے پہنچتے اتنی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے کہ اسے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ دانت ہی نہیں ہوں گے تو چبائے گا کیا؟ اور معدہ ہی کام نہیں کرے گا تو کھائے گا کیا؟اس کے علاوہ میرے دونوں لڑکے برسرِ روزگار تھے، میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ میرے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے ، بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب انہیں میرے سہارے کی ضرورت نہیں تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے ذاتی اور اچھے خاصے مکان ہوتے ہوئے بھی وہ میرے چھوٹے سے مکان کی طرف اس طرح دیکھا کرتے تھے جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہے ہوں کہ اے بکرے کی ماں تو کب تک خیر منائے گی۔

اقتصادی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے کام کی ضرورت نہیں تھی، لیکن وقت گزارنے کے لیے تو کوئی مصروفیت چاہیے تھی ۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ سوشل سروس کرو ۔ وقت بھی گزر جائے گا اور سوسائٹی کا بھلابھی ہوگا، لیکن جب اس میدان کی طرف غور سے دیکھا تو احساس ہوا کہ سوشل سروس اتنا کار آمد شغل بن گیا ہے کہ سوشل ورکر بننے کے لئے کسی بڑے آدمی کی سفارش چاہیے۔ آج کل سوشل سروس لوگ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ جب وہ ایک مندر بنانے کے لیے چندہ اکٹھا کرتے ہیں تو ان کے ذاتی مکان کی دوسری منزل مندر سے کئی مہینے پہلے اپنے آپ تیار ہوجاتی ہے۔ شاید سوشل سروس کرنے والوں کو بھگوان اس لئے پہلے نواز دیتا ہے کہ آخر وہ بیچارے کم از کم گھر سے تو اس ارادے سے ہی نکلے تھے کہ بھگوان ان کے لیے گھر تعمیر کریں گے ۔

بہت سوچ وچار کے بعدمیں نے فیصلہ کیا کہ لوگوں کے دکھ میں شامل ہونے سے بہتر کوئی کام نہیں ہے کیونکہ دکھ بانٹنے سے کم ہوتا ہے ، کہنے والے تو کہتے ہیں کہ خوشی بھی بانٹنے سے دوبالا ہوجاتی ہے ، لیکن جوانی  میں نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تھی اورنتیجہ اس کامیرے حق میں کچھ اچھا نہیںنکلاتھا ۔ جوانی میں میں اور میرے چند عزیز دوستوں نے فیصلہ کیا تھا ، کیوں نہ ہم لوگ بنی نوع انسان کی خوشی میں شامل ہوکر ان کی خوشی کو دوبالا کریں ۔چنانچہ کوئی بارات جارہی ہو تو ہم اس میں شامل ہوجایا کرتے تھے ، ان کے ساتھ کندھے سے کندھاملاکر چلتے تھے، ان کے بینڈ کی دھن پربھنگڑا کرتے تھے اور ان کے ساتھ لنچ کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے ، لیکن لوگ شاید آج کل خوشی بانٹنا پسند نہیں کرتے ، اس لئے ایک شادی میں باقاعدہ ہم سے پوچھا گیا کہ ہم کس طرف سے ہیں۔ لڑکی کی طرف سے یا لڑکے کی طرف سے۔ ہمیں یہ سوال بڑا بے معنی سا لگا ، یہ کوئی لڑائی کامیدان تو تھا نہیں کہ کوئی ہم سے سوال کرے کہ ہم کس طرف ہیں؟ سکندر کی طرف یا پورس کی طرف؟ہم تو دونوں طرف کے لوگوں کی خوشی بانٹ رہے تھے ۔(فلاسفی سے قطع نظر ہم اس وقت بریانی کی طرف تھے) لیکن شادی والے گھروں کو ہمارا خوشی بانٹنا پسند نہ آیا۔ اور انہوں نے ہمیں دھکے مار کر پنڈال سے باہر کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ہم وہاں صرف مفت کی روٹیاں توڑنے آئے تھے ، شاید یہ صحیح تھا لیکن یہ بھی صحیح تھا کہ کسی اور نے بھی وہاں روٹیاں توڑنے کے پیسے نہیں دے رکھے تھے، سوائے لڑکی کے باپ کے۔اس واقع کو ذہن میں رکھ کرہی میںنے فیصلہ کیاتھاکہ لوگوں کے دکھ میں شامل ہونا چاہئے ۔ وہاں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ہم وہاںمفت کی روٹیاں توڑنے آئے ہیں۔دلی جیسے شہر میں یہ معلوم کرنا کہ کون دکھی ہے اور کون نہیں ، ذراسامشکل کام ہے ۔ کیونکہ جس چہرے کوبھی دیکھئے اس پر جلی حروف میں دکھ لکھا ہوا نظر آتا ہے بڑے شہروں میں دکھ بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کوئی اس لئے دکھی ہے کہ اس کے پاس فون نہیں ہے اور کوئی اس لئے دکھی ہے کہ اس کے پاس فون تو ہے پر اس پر کوئی نمبر نہیں ملتا ۔ لیکن میں اس طرح کے معمولی دکھوں میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔ میراارادہوہ ان دکھوںمیں شامل ہونے کاتھا جنہیں واقعی دکھ کہاجاتا ہے ۔ جیسے کسی کے بچھڑ جانے کا دکھ، جیسے کسی کے یتیم ہوجانے کا دکھ ۔۔ فون نہ ملنے کا دکھ میں کیسے بانٹ سکتا تھا ۔ جب کہ خود مجھے ہی کئی سالوں کی کوشش کے باوجود فون نہیں مل سکا تھا۔